Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / صرف دوماہ میں 21000 روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں داخل

صرف دوماہ میں 21000 روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں داخل

(FILES) In this photograph taken on November 26, 2016, Myanmar Rohingya refugees look on in a refugee camp in Teknaf, in Bangladesh's Cox's Bazar At least 21,000 Rohingya refugees have fled to Banfladesh following violence in Myanmar, the International Organisation for Migration has said. / AFP PHOTO / MUNIR UZ ZAMAN

آنگ سان سوچی پر زبردست بین الاقوامی دباؤ، بنگلہ دیش کی سرحدوں پر طلایہ گردی میں اضافہ
ڈھاکہ ۔ 6 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) حالیہ کچھ ہفتوں میں میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم سے خوفزدہ ہوکر تقریباً 21000 روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش فرار ہوچکے ہیں۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ یاد رہیکہ اکٹوبر کے اوائل سے مغربی راکھین اسٹیٹ میں خود میانمار کی فوج نے مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور وہ تشدد سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش فرار ہورہے ہیں جس پر بنگلہ دیش کو تشویش ہونا ایک فطری بات ہے۔ لہٰذا حکومت بنگلہ دیش کے حکم پر فوج نے میانمار بنگلہ دیش سرحد پر طلایہ گردی میں اضافہ کردیا ہے تاکہ پناہ گزینوں کے سیلاب کو بنگلہ دیش آنے سے روکا جاسکے۔ تاہم دوسری طرف آئی او ایم کی بنگلہ دیش کے کوکس بازار میں واقع دفتر کی سربراہ سنجوکتا سہانی نے بتایا کہ سخت طلایہ گردی کے باوجود گذشتہ دو ماہ کے دوران 21000 روہنگیا مسلمان سرحد پار کرکے بنگلہ دیش میں داخل ہوچکے ہیں جن میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے عارضی پناہ گاہوں میں پناہ لے رکھی ہے جبکہ کچھ لوگ آفیشیل رفیوجی کیمپس اور دیگر مواضعات میں بھی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ ان سب کی مجبوری یہ ہیکہ میانمار انہیں اپنا شہری نہیں سمجھتا اور اس لئے انہیں وہاں کوئی بنیادی سہولت حاصل نہیں ہے جبکہ بنگلہ دیش نے بھی ان لوگوں کو اپنا شہری تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 9 اکٹوبر اور 2 ڈسمبر کے درمیان بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں 21000 روہنگیا مسلمان داخل ہوچکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور دیگر بین الاقوامی این جی اوز سے حاصل  کئے گئے ہیں۔ ان پناہ گزینوں سے اخباری نمائندوں نے جب بات کی تو انہوں نے رونگٹے کھڑے کردینے والے واقعات بیان کئے جن میں اجتماعی عصمت ریزی، اذیت رسانی اور میانمار کی سیکوریٹی فورسیس کے ذریعہ انہیں موت کے گھاٹ بھی اتارا جارہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے سٹیلائیٹ امیجس کا تجزیہ کرنے والوں نے بتایا روہنگیا مواضعات میں سینکڑوں مکانات کو منہدم کردیا گیا۔ میانمار نے مندرجہ بالا تمام الزامات کی تردید کی ہے البتہ بیرون ممالک کے صحافیوں اور آزاد تحقیقات کرنے والوں کے داخلہ پر امتناع عائد کردیا ہے۔ اس سلسلہ میں میانمار کی مقبول ترین قائد سمجھی جانے والی آنگ سان سوچی کو بین الاقوامی سطح پر تنقیدوں کا سامنا ہے کہ انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کیلئے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جنہیں بدھسٹوں کے ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ گذشتہ ہفتہ سوچی نے عزم کیا تھا کہ وہ امن اور مصالحت کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں جھونک دیں گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملک کو اس وقت متعدد مسائل اور چیلنجس کا سامنا ہے البتہ انہوں نے راکھین میں روہنگیا مسلمانوں پر بدھسٹوں کے ذریعہ ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ دریںا ثناء بنگلہ دیش نے سرحد پر واقع اپنی چوکیوں پر طلایہ گردی میں اضافہ کے علاوہ کوسٹ گارڈ جہازوں کو بھی تعینات کیا ہے تاکہ روہنگیا مسلمانوں کے سیل رواں کو روکا جاسکے۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران بنگلہ دیش کے بارڈر گارڈس نے سینکڑوں ایسی کشتیوں کو بنگلہ دیش میں داخل ہونے سے روک دیا جن میں روہنگیا خواتین اور بچے سوار تھے۔ آج پولیس نے ہزاروں سخت گیر مسلمانوں کو ڈھاکہ میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اظہاریگانگت کے طور پر میانمار کے سفارتخانہ تک مارچ کرنے سے روک دیا۔

TOPPOPULARRECENT