Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / صرف مجلس ہی حیدرآباد کو ترقی دے سکتی ہے،اسد اویسی کا دعویٰ

صرف مجلس ہی حیدرآباد کو ترقی دے سکتی ہے،اسد اویسی کا دعویٰ

حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : شہر میں انتخابی سرگرمیاں زوروں پر ہیں ، کانگریس قائدین بالخصوص قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر پرانا شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوام کو کانگریسی امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دے رہے ہیں ۔ انہوں نے مجلس اور اس کی قیادت کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا ہے ۔ کانگریس قائدین کا کہنا ہے کہ اس تاریخی شہر حیدرآباد اور اس کے عوام کے ترقی میں مجلس سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس نے قلی قطب شاہ کے اس شہر کو ترقی سے دور کردیا ہے جواب میں اسد اویسی دعویٰ کرتے ہیں کہ پرانا شہر کو مجلس ہی ترقی دے سکتی ہے ۔ شہر حیدرآباد کی ترقی عوام کی خوشحالی ، امن و امان کی برقراری اور شہر کو صاف صفائی کے لیے ان کی پارٹی ایک جامع ایکشن پلان رکھتی ہے اور وہ اپنے ایکشن پلان کو روبعمل لائیں گے ۔ پرانا شہر کے مختلف بلدی ڈیویژنوں میں انتخابی جلسوں سے خطاب میں اسد اویسی نے ہمیشہ کی طرح شہر اور شہریان حیدرآباد کی ترقی و خوشحالی میں بڑھ چڑھ کر اہم رول ادا کررہی ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امن و امان کو مضبوط بنایا ، شہر کو زیادہ سے زیادہ ترقی یافتہ بنانے کے لیے ابھی کئی کام باقی ہے ۔ ان کی پارٹی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگی ۔ صدر مجلس نے کانگریس قائدین کی مہم کے جواب میں کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے اس کے قائدین کو یاد دلایا کہ کانگریس کو روا داری کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ اس لیے کہ اس نے بنگلور کے بلدی انتخابات میں مجلسی قائدین کو انتخابی مہم چلانے سے روکا ۔ یہاں تک کہ جشن آزادی کے موقع پر پرچم کشائی پروگرام میں حصہ لینے کی اجازت تک نہیں دی گئی ۔ کانگریس کی عدم روا داری کے باوجود مجلس پرانا شہر میں کانگریسیوں کو انتخابی مہم سے نہیں روکے گی ۔ صدر مجلس نرخی پھول باغ اور شاہ علی بنڈہ ڈیویژنوں میں جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے بار بار دعویٰ کیا کہ مجلس ہی پرانا شہر کی ترقی کو یقینی بناسکتی ہے ۔ شہر کو صاف ستھرا رکھ سکتی ہے عوامی مسائل حل کرسکتی ہے ۔۔
واہ کیا ترقی ہے بھئی !!
اسد اویسی کے دعوؤں کا کانگریسی قائدین مضحکہ اڑا رہے ہیں ۔ ان قائدین کا دعویٰ ہے کہ پرانا شہر کو مجلسی قائدین نے ہمیشہ پسماندہ رکھا ہاں خود کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ نامساعد حالات میں گھنٹوں قطاروں میں ٹھہر کر پولیس کی گولیوں ، لاٹھیوں اور گرفتاریوں کا خوف کئے بنا مجلس کے حق میں ووٹوں کا استعمال کرنے والوں کی حالت تو نہیں بدلی لیکن مجلسی قائدین الٹ کر پلٹ گئے ۔ بڑی مشکل سے موٹر سیکلوں پر پھرنے والوں نے قیمتی گاڑیوں میں گھومنا پھرنا شروع کردیا ۔ کچے مکانات میں رہنے والے قائدین دیکھتے ہی دیکھتے بلند و بالا عمارتوں کے مالک بن بیٹھے ، ہاں اسد اویسی کا دعویٰ سچ ہے کہ پرانا شہر کی ترقی ضرور ہوئی لیکن عوام کے مطابق اس کے ثمرات صرف ’’ قائدین ‘‘ کو ہی حاصل ہوئے ۔ کانگریس قائدین اور عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسد اویسی شہر میں امن و امان کی برقراری اور شہر کی جامع صفائی کے لیے جس ایکشن پلان کی بات کررہے ہیں اس میں کوئی دم ہی نہیں ہے جہاں تک شہر میں امن و امان کا سوال ہے عوام امن کے دشمنوں کی دشمن ہے ۔ اب رہی بات صاف صفائی کی تو یہ انہیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ 20 برسوں سے بلدیہ پر اقتدار حاصل رہنے کے باوجود شہر میں ہنوز کچرے کے انبار کیوں پڑے ہوئے ہیں ؟ جابجائی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور گڈھوں کا جال نظر کیوں آتا ہے ؟ بہتے نالے کیوں دکھائے دیتے ہیں ؟ کانگریس قائدین کے ساتھ ساتھ عوام اب اسد اویسی اور مجلس کے دیگر قائدین سے یہ بھی سوال کرنے لگے ہیں کہ ایم پی آپ ، ایم ایل اے آپ کے ، کونسلرس آپ کے ، بلدیہ پر قبضہ آپ کا ، مئیر آپ کا اس کے باوجود نئے شہر کی بہ نسبت پرانا شہر میں ترقی نہیں ۔ نئے شہر میں کتب خانہ ، پرانا شہر میں کتب خانے نہیں ، نئے شہر میں درجنوں پارکس ، پرانا شہر کے عوام پارکس سے محروم ، نئے شہر میں سوئمنگ پولس ، پرانا شہر میں ایک دو مقامات پر سوئمنگ پولس وہ بھی انتہائی خراب حالت میں ، نئے شہر میں درجنوں بسیں ، پرانا شہر میں آر ٹی سی بسوں کی قلت ، نئے شہر میں سرکاری اسکولوں کے لیے کشادہ عمارتیں ، پرانے شہر میں تنگ و تاریک عمارتوں میں ایک سے زائد اسکولس ، ماضی کے تمام سرکاری اسکولس ، میدانوں ، پارکس وغیرہ پر لینڈ گرابرس کے قبضے پھر بھی ترقی کے دعوے ۔ ان دعوؤں کے بارے میں عوام کی زبانوں سے یہی الفاظ نکل رہے ہیں ۔ ’’ واہ کیا ترقی ہے بھئی ‘‘ ۔ ہمارے شہر حیدرآباد کا صرف ہندوستان ہی نہیں دنیا کے اہم شہروں میں شمار ہوتا ہے لیکن اس تاریخی شہر کے قدیم حصہ کو جو ماضی میں اپنی ایک علحدہ اور منفرد پہچان رکھا کرتا تھا ۔ اسے پسماندہ بنانے اور ترقی کے عمل سے دور رکھنے والے کون ہیں اس بارے میں سیاسی قائدین کو بالخصوص اور عوام کو بالعموم غور کرنا چاہئے ۔ بعض کانگریس قائدین نے بہت خوب کہا ہے کہ شہر میں مجلس کا سب سے بڑا کارنامہ مسلمانوں کو پسماندگی کے دلدل میں پھنسائے رکھنا ہے ۔ نتیجہ میں آج پرانا شہر کے کئی ایسے علاقہ ہیں جہاں چھوٹے چھوٹے بچے محنت مزدوری کرنے اور غریب ماں باپ اپنی جوان بیٹیوں کو سود خوروں کی بھینٹ چڑھانے پر مجبور ہیں ۔ کیا یہی ترقی ہے ؟ اگر ہمارے شہر نے ایسی ترقی کی ہے تو پھر یہی کہنا پڑے گا ’’ واہ کیا ترقی ہے بھئی ‘‘ ۔۔

TOPPOPULARRECENT