Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / صنعتی اداروں میں ملازمین کی تخفیف کی منصوبہ بندی

صنعتی اداروں میں ملازمین کی تخفیف کی منصوبہ بندی

بے روزگاری سے صورتحال مزید خراب ہونے کا امکان ، سروے میں انکشاف
حیدرآباد۔10ستمبر(سیاست نیوز) ملک میں حکومت کی جانب سے ملازمتوں میں اضافہ اور نوجوانوں کے لئے ملازمتیں پیدا کرنے کے اعلانات کئے جارہے تھے لیکن اس کے بر عکس ملک کے بڑے صنعتی اداروں میں ملازمین کو بے دخل کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ آئندہ ایک برس کے دوران 40فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کئی کمپنیوں نے اس سلسلہ میں پیشرفت بھی کردی ہے۔ سال 2015تک صنعتی اداروں میں سب سے زیادہ ملازمتیں فراہم کی جارہی تھیں اور ملازمتوں کی فراہمی میں ان کا فیصد 75تا80 تک پہنچ چکا تھا اسی لئے خانگی صنعتی اداروں میں ملازمتوں کی فراہمی کے سبب بے روزگاری کا خاتمہ ہونے لگا تھا بلکہ بڑی حد تک یہ ادارے نوجوانوں کے لئے ملازمتوں کی فراہمی میں مددگار ثابت ہو رہے تھے لیکن سال 2016کے دوران 30فیصد ملازمتوں میں تخفیف کی گئی تھی تاکہ تیار کنندگان صنعتی اداروں میں قیمتوں اور اخراجات پر کنٹرول کو ممکن بنا سکیں لیکن اس کے باوجود بھی حالات معمول پر نہ آنے کے سبب صورتحال بگڑتی جا رہی ہے اور سروے کے مطابق بڑے صنعتی اداروں میں جاریہ سال کے دوران 40فیصد ملازمین کو برطر ف کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ صنعتی اداروں نے 2016کے دوران 50تا60فیصد نئی ملازمتوں کی فراہمی کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن اس کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس کے نتیجہ میں ملازمتیں فراہم کرنے کے بجائے ملازمتوں سے برطرف کرنے کے اقدامات کئے گئے جو کہ ہندستانی معیشت کیلئے انتہائی تباہ کن صورتحال سمجھی جانے لگی ہے۔ صنعتی ادارو ںکی مجموعی شرح ترقیات کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ 5.7فیصد تک پہنچ چکی تھی لیکن اس کے بعد اس میں بتدریج گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ 1.2فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ سروے کرنے والے ادارے کے مطابق ملک کی 2500 کے قریب کمپنیوں کے سروے کے بعد یہ کہا جا رہا ہے کہ جاریہ سال ملازمتوں کی تخفیف کے بعد صورتحال مزید ابتر ہوگی۔ ماہرین کے مطابق جی ایس ٹی روشناس کروائے جانے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے نتیجہ میں بھی صنعتی اداروں کی پیداوار میں کافی کمی ریکارڈ کی جانے لگی ہے۔ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے فوری بعد جو حالات ؎پیدا ہوئے ہیں ان میں سرمایہ کاری بھی متاثر ہوئی جس کے نتیجہ میں تجارتی اداروں کو مالیہ کی فراہمی اور حصول میں بھی مشکلات پیش آئیں اور ان وجوہات کے سبب بھی ملازمین کو برطرف کیا گیا اور اب جی ایس ٹی کے سبب جو اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اس سے نمٹنے کیلئے کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کی تخفیف کی جانے لگی ہیں۔ غیر منظم شعبہ میں ملازمتوں کی شرح میں جاریہ سال کے دوران اضافہ دیکھا جانے لگا ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جاریہ سال کے دوران صنعتی ادارے جو منظم شعبہ میں شمار کئے جاتے ہیں ان میں ملازمتوں کے مواقع کم ہوتے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT