Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / صنعتی اداروں کے آلودہ پانی سے تالاب گندگی کا شکار

صنعتی اداروں کے آلودہ پانی سے تالاب گندگی کا شکار

مچھلیوں کی اموات سے قرب و جوار کے مکینوں میں تشویش
حیدرآباد۔6اکٹوبر(سیاست نیوز) صنعتی اداروں سے خارج ہونے والے آلودہ پانی کے سبب تالاب آلودہ ہونے لگے ہیں اور اسی طرح کا واقعہ آج حیدرآباد کے پڑوسی ضلع سنگا ریڈی کے تالاب گنڈی گڑم میں پیش آیا جہاں اس تالاب میں لاکھوں مچھلیاں فوت ہوگئی ہیں اور پانی کی سطح پر لاکھوں مردہ مچھلیوں نے اطراف و اکناف کے مکینوں میں خوف و دہشت کی لہر پیدا کردی ہے کیونکہ اس تالاب کے پانی میں مقامی دیہی عوام کے جانور پانی پیتے ہیں اور اس تالاب کے پانی کا استعمال کرنے والے جانوروں کا دودھ بھی فروخت کیا جاتا ہے۔ گنڈی گڑم تالاب میں مچھلیوں کی ہلاکت کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ اطراف موجود صنعتی اداروں سے خارج ہونے والی آلودگی اس تالاب میں پہنچ رہی ہے اور اس آلودگی میں ادویات ساز کمپنیوں سے خارج ہونے والا فاضل مادہ سب سے زیادہ خطرناک ہے لیکن اس کے باوجود اس مسئلہ کی عدم یکسوئی کے سبب ابھی تو اس کیمیکل مادہ کے اثرات مچھلیوں پر نظر آئے ہیں لیکن اس کے مزید خطرناک اثرات برآمد ہو سکتے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ تالاب میں آلودگی نہ صرف تالاب کی حد تک محدود ہوتی ہے بلکہ یہ آلودگی اطراف و اکناف کی زرعی اراضی کو بھی متاثر کرنے لگتی ہے اور ان اراضیات میں ہونے والی پیداوار بھی آلودہ ہونے لگ جاتی ہے جس کے نتیجہ میں بالواسطہ طور پر یہ آلودگی صرف مچھلی یا جانور کو متاثر کرنے کا موجب نہیں بنتی بلکہ اس کے مضر اثرات انسانوں میں بھی سرائیت کرتے جاتے ہیں ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مشن بھگیریتا کے ذریعہ ریاست بھر میں موجود تالابو ں کے احیاء اور ان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن تالابوں میں صنعتی فضلہ پہنچنے کے سبب تالاب ہی نہیں اطراف و اکناف کے علاقہ میں بھی اس کے منفی اثرات ہونے لگے ہیں اس پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ محکمہ ماحولیات کے عہدیداروں نے بتایا کہ گنڈی گڑم تالاب میں مچھلیوں کی اموات کا سخت نوٹ لیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں کاروائی کے متعلق حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے ۔ تالاب میں لاکھوں مچھلیاں فوت ہوجانے کی اطلاع کے ساتھ ہی محکمہ پولیس نے ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ۔ چند ماہ قبل گھٹکیسر کے قریب واقع تالاب میں بھی آلودگی کے سبب تالاب سے نکلنے والا جھاگ سڑک تک پہنچ گیا تھا اور اس کے سبب کئی گھنٹوں تک نلگنڈہ سے حیدرآباد کی یہ سڑک بند رہی تھی ۔ اب جبکہ سنگاریڈی کے تالاب میں مچھلیوں کی اموات کا واقعہ منظر عام پرآیا ہے تو یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ تالابوں کو باقی رکھنے اور ان کے احیاء کیلئے اقدامات تو کئے جا رہے ہیں لیکن انہیں آلودگی سے بچانے اور تالابوں تک پہنچنے والے صنعتی فضلہ کو روکنے کے اقدمات نہیں کئے جا رہے ہیں جس کے سبب انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT