Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / صنعتی پالیسیوں میں اقلیتوں کو بھی مراعات

صنعتی پالیسیوں میں اقلیتوں کو بھی مراعات

اسمبلی میں ٹی ایس آئی پاس پر بحث، قائد مقننہ مجلس کے سوال پر کے ٹی آر کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 26 ڈسمبر (سیاست نیوز) ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے مجلس قائد مقننہ اکبرالدین اویسی کو تیقن دیا کہ وہ چیف منسٹر سے مشاورت کے بعد صنعتی پالیسی میں ایس سی ایس ٹی طرز پر اقلیتوں کو بھی خصوصی مراعات دینے پر سنجیدگی سے غورکیا جائے گا۔ اسمبلی میں ٹی ایس آئی پاس کے مختصر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے قائد مقننہ مجلس اکبرالدین اویسی نے کہا کہ صنعتی پالیسی میں جس طرح ایس سی ایس ٹی طبقات کو اہمیت و مراعات دی جارہی ہیں۔ اس طرح اقلیتوں بالخصوص مسلم صنعتکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے صنعتی پالیسی میں حصہ دار بنایا جانا چاہئے۔ ترقی سب کی مساوی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کے ٹی آر سے استفسار کیا کہ نوٹ بندی سے ریاست کی صنعتی پالیسی پر کتنا اثر پڑا ہے کیونکہ ٹی آر ایس حکومت بالخصوص چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نوٹ بندی اور اس معاملے میں وزیراعظم نریندر مودی کی بھرپور تائید کررہے ہیں۔ 2014ء تک ریاست میں کتنی انڈسٹریز تھی، 2 سال کے دوران ان میںکتنا اضافہ  ہوا ہے۔ ٹی آر ایس نے علحدہ تلنگانہ ریاست کے معاملے میں نوجوانوں کو کئی امیدیں دکھائی ہیں جس کے بعد ہی نوجوانوں نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی طبقات کے طرز پر اقلیتوں کو بھی صنعتی پالیسی کا حصہ بنانے اور مراعات دینے کیلئے چیف منسٹر سے مشاورت کرنے کے بعد ہی قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ نوٹ بندی کا ریاست پر یقیناً اثر پڑا ہے۔ ان کے اسمبلی حلقہ سرسلہ میں ٹیکسٹائیل کی 20 چھوٹی صنعتیں مسائل سے دوچار ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت مرکز سے مشاورت کررہی ہے۔ آر بی آئی کو بھی مسائل سے واقف کرایا گیا ہے۔ قرض کی ادائیگی میں طلب کی جارہی ہے۔ تاہم بڑی اور متوسط کمپنیوں پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑا ہے۔ صنعتی ترقی میں ریاست تلنگانہ سارے ملک میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ بزنس کے معاملے میں تلنگانہ کو ملک بھر میں سرفہرست مقام حاصل ہوا ہے۔ بہت جلد سرمایہ کاری کے معاملے میں بھی تلنگانہ کو سرفہرست مقام حاصل ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT