Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / صنعتی پالیسی کی اسکیم ’ ٹی پرائیڈ ‘ سے اقلیتیں محروم

صنعتی پالیسی کی اسکیم ’ ٹی پرائیڈ ‘ سے اقلیتیں محروم

مسلمانوں کی معاشی خود اختیاری کے لیے اسکیم میں شمولیت یا ان کے لیے بجٹ مختص کرنا ضروری
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : سنہرے تلنگانہ کی تشکیل کے لیے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے بہترین صنعتی پالیسی تیار کی ہے ۔ اس پالیسی کے تحت ’ ٹی پرائیڈ ‘ اسکیم کا صرف ایس ٹی ، ایس سی طبقات کے لیے اعلان کیا گیا ہے حیرت تو یہ ہے کہ اس اسکیم میں ان طبقات سے مذہب تبدیل کر کے بدھسٹ اور عیسائی مذہب اختیار کرنے والوں کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔ لیکن اقلیتیں اس طرح کی اسکیم سے محروم ہیں ۔ محسن انسانیت فاونڈیشن کی نمائندگی کے بعد اس میں جسمانی معذورین کو بھی ایس سی ، ایس ٹی کی طرح سہولتیں دی جارہی ہیں ۔ اس سے تمام طبقات کے معذورین بلا لحاظ مدہب و ملت استفادہ کررہے ہیں ۔ صنعتی پالیسی کی اس اسکیم میں اقلیتی طبقات کو بھی اس میں شامل کرنے کے لیے مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں کے ترجمان مولانا ابوالفتح سید بندگی بادشاہ قادری ڈائرکٹر تلنگانہ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹریز پرموشن نے حکومت کو مختلف تجاویز پیش کئے ۔ مولانا سید بندگی بادشاہ قادری نے کہا کہ حکومت اگر اس اسکیم میں مسلمانوں کو شامل نہ بھی کرے تو اقلیتی بہبود کے بجٹ میں سے 100 کروڑ روپئے اس کے لیے مختص کئے جاسکتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو معاشی خود اختیاری فراہم کی جاسکے ۔ گذشتہ کئی برسوں سے اقلیتی بہبود کا بجٹ تقریبا 50 فیصد واپس ہورہا ہے ۔ محکمہ میں اسٹاف بھی نہیں ہے جو اسکیمات پر عمل آوری کے لیے اقدامات کرسکے ۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے کئی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ حکومت مسلمانوں کو معاشی اور سماجی طور پر بہتر بنانے کے لیے 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے اقدامات کررہی ہے ۔ حکومت کو ان تمام اقدامات کے بجائے اگر موجودہ اسکیمات میں صرف مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق نمائندگی دی جائے تو ان کے طرز زندگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ مسلمانوں میں چند گروپس بی سی ، ای کے تحت تحفظات سے استفادہ کررہے ہیں ۔ معاشی طور پر پسماندہ مسلمان جو کسی تحفظات کے تحت نہیں آتے ہیں ان کی اکثریت ہے اور یہ دیگر پسماندہ طبقات سے زیادہ پسماندہ ہیں ۔ جسٹس راجندر سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن نے مسلمانوں کو دیگر پسماندہ طبقات سے زیادہ پسماندہ قرار دیا اور ان کی طرز زندگی کو دیگر اقوام کے مماثل بہتر بنانے پر زور دیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT