Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / صنعت و حرفت سے قوم کی معیشت کا استحکام، اقلیتوں کو صنعتی میدان سے جوڑنے کی مساعی

صنعت و حرفت سے قوم کی معیشت کا استحکام، اقلیتوں کو صنعتی میدان سے جوڑنے کی مساعی

ایم سی سی آئی کے بزنس میٹ کے سمینار سے چیرمین تلنگانہ اسٹیٹ کھادی اینڈ ویلیج بورڈ مولانا یوسف زاہد کا خطاب
حیدرآباد 14 مئی (سیاست نیوز) کسی بھی قوم کی معیشت کے استحکام کا دار و مدار نئی صنعت و حرفت پر ہے چاہے وہ چھوٹی ہوں یا بڑی۔ اس کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑتے ہوئے سخت محنت اور صالح کردار کا اپنے آپ کو بنانے پر منحصر ہوچکا ہے۔ وہی قومیں گرتی ہیں اور اُٹھتی بھی ہیں جنھوں نے اپنا نصب العین بنایا اور اس نصیب العین کو حاصل کرنے کے لئے کڑی محنت و مشقت کی۔ مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومت اقلیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے صنعتی میدان سے اُنھیں جوڑنے کے لئے منصوبہ بندی کی ہے اس لئے جو صنعتیں بند پڑی اور کمزور ہوچکی ہیں اُن میں جان پیدا کرنے کے لئے جامع منصوبہ بنایا گیا ہے۔ صنعت و حرفت کے میدان میں کام کرنے والے اگر اس میدان میں کڑی محنت کرتے ہوئے رب کی رضا و خوشنودی کی خاطر آگے آئیں گے ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ کے فارمولہ پر عمل ہوگا اور یہ ملک صنعتی میدان میں تمام افراد کی کڑی محنت سے آگے بڑھتا رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار آج مولانا یوسف زاہد مظاہری صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ کھادی بورڈ اینڈ ویلیج انڈسٹریز بورڈ نے مسلم چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری (MCCI) کے زیراہتمام بعنوان ’’بزنس میٹ 2017‘‘ کے تحت سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو اسپائس 6 بینکویٹ ہال ، روڈ نمبر 2 بنجارہ ہلز میں منعقد ہوا جس میں تلنگانہ ، آندھرا اور دیگر ریاستوں کے تاجرین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مولانا یوسف زاہد نے تلنگانہ اسٹیٹ کھادی بورڈ اینڈ ولیج انڈسٹری کے ذریعہ نوجوان مرد و خواتین میں روزگار سے جوڑنے کی جو سعی کی جارہی ہے تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہاکہ دراصل کھادی بورڈ کا یہ ادارہ مرکز کے تحت ہے اس کے باوجود ریاستی حکومت اپنی دلچسپی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اقلیتوں اور دوسرے طبقات کو پیشہ وارانہ کورس کے سیکھنے اور صنعتوں کے قیام میں اپنا تعاون دراز کررہی ہے۔ کھادی بورڈ کے تحت بڑی بڑی صنعتیں تھیں جس سے تمام نے استفادہ کیا لیکن اس سے بھی اقلیتوں اور مسلمانوں نے کم ہی استفادہ کیا اور اب چھوٹی صنعتوں کے تحت ریاست کے دیہاتوں میں 120 پراجکٹس کام کررہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ صدرنشین کی حیثیت سے عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد اضلاع کا دورہ کیا گیا تو اس سے پتہ چلا کہ آج کئی لوگ چھوٹی صنعتوں کے ذریعہ روزگار کے حصول میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اُن میں سورج کی شعاعوں (سولار انرجی) کے ذریعہ نت نئے اُمور انجام دینے کا شوق بڑھتا جارہا ہے۔ اس لئے کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آگے چل کر پانی اور کوئلہ کی شدید قلت ہوگی اور سولار انرجی کے ذریعہ ہی صنعتی ادارے کام کرنے لگیں گے۔ انھوں نے ریاست تلنگانہ میں لیدر انڈسٹری کی بڑھتی مانگ اور اس سے نوجوانوں کو روزگار سے ملک ہونے اور اس پیشے کے سیکھنے پر زور دیا جبکہ اس صنعت کے خلاف بدگمانی پیدا کی جارہی ہے کہ اس کے کمیکلس زہر آلود ہونے کی وجہ سے انسانی جسم پر زہریلے اثرات مرتب کریں گے۔ مولانا نے ورنگل اور دیگر مقامات کے دیہاتوں میں کھاد کو تیار کرنے اور قدرتی طریقہ سے زراعت کے طریقہ کار، پانی کی صفائی اور دیگر صنعت کے لئے جو ترقی اُمور انجام دیئے جارہے ہیں اُس سے واقف کروایا۔ جناب سید اکبر حسین صدرنشین میناریٹی فینانس کارپوریشن نے کہاکہ حکومت اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعہ جو سہولیات پہنچارہی ہے اُس پر روشنی ڈالی۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعہ قرضہ جات دیئے جاتے ہیں وہ رُکے ہوئے تھے اس کے لئے چیف منسٹر کے سی آر اور ریاستی وزیر کے ٹی آر سے ملاقات کرتے ہوئے قرضہ جات کی فراہمی کی گئی۔ مسٹر وینکٹیشورلو صدرنشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (تلنگانہ) نے کہاکہ ریاستی حکومت نے صنعتوں کو فروغ دینے کا جو منصوبہ بنایا ہے اور اُس سے نوجوانوں کو جوڑتے ہوئے اُن کے معاشی موقف کو مستحکم کرنے میں یہ ریاست اول حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ کے 31 اضلاع میں عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور آئی ٹی آئی، پالی ٹیکنک و دیگر اداروں کے تحت فنی علوم سیکھنے والے طلباء تجارتی میدان میں محنت کررہے ہیں اور جہاں بھی صنعتیں ہیں اُن کی محنت کا خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں موجود 4500 چھوٹی صنعتیں جو قائم ہیں اُس کی ایک جامع رپورٹ حکومت تلنگانہ کے حوالے کی گئی اور ان صنعت کاروں کو کم شرح سود پر مالیہ کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ اور عمل آوری بھی کی جارہی ہے اور عنقریب اس بات کا امکان ہے کہ حکومت سولار انرجی کو ترقی دیتے ہوئے ہر گھر کو اس سے جوڑے گی جس کے لئے انھوں نے ناگر جنا ساگر اور دوسرے آبی پراجکٹس کے تعاون سے بھی سولار سسٹم کو فروغ دیا جائے گا۔ ناظم الدین فاروقی صدرنشین MCCI نے مسلم چیمبرس آف کامرس انڈسٹری کے تحت کی جانے والی کوششوں کی سراہنا کی اور کہاکہ طلباء میں صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا ابھی بھی کوئی عزم دیکھا نہیں جارہا ہے اور ہمارا یہ ادارہ حکومت کے صنعتی منصوبوں کے درمیان پُل کا کام کررہا ہے۔ انھوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ جہد مسلسل کریں جو عصری ٹیکنالوجی میدان میں آرہی ہے اس کا علم ہو اس لئے کہ بیرونی ممالک میں طلباء تعلیم کے حصول کے ساتھ عملی میدان سے جڑ جاتے ہیں اور وقت کی پابندی کے ساتھ روزگار حاصل کرتے ہیں۔ تلنگانہ میں آج بھی 60 فیصد سے زائد مسلمان سطح غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس موقع پر جناب اطہر احمد نے مہمانوں اور شرکاء کا استقبال کیا۔ جناب سہنال پیسل (چینائی) ، محمد سلمان اور دیگر نے بھی مخاطب کیا۔ مولانا فہیم الدین عمری کی قرأت اور ترجمانی سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر جناب درویش شاہد، ڈاکٹر فخرالدین، سید تبریز، رضوانہ اور تاجران چرم اور دیگر تجار کی کثیر تعداد موجود تھی۔ جناب منظور احمد نے کارروائی چلائی۔ محمد سلمان جنرل سکریٹری نے مہمانوں کا تعارف کروایا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT