Monday , April 24 2017
Home / شہر کی خبریں / صوفیاء کرام کی تعلیمات سے پیار و محبت، یکجہتی کا فروغ

صوفیاء کرام کی تعلیمات سے پیار و محبت، یکجہتی کا فروغ

جامعہ عثمانیہ کے شعبہ عربی کا قومی سمینار، وائس چانسلر پروفیسر رامچندرم و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 11 مارچ (پریس نوٹ) جامعہ عثمانیہ کے صد سالہ جشن کی تقاریب کے ضمن میں شعبہ عربی کے زیراہتمام پہلا دو روزہ قومی سمینار کا بعنوان ’’صوفی ادب کے ارتقاء میں ہندوستان کا حصہ‘‘ کا انعقاد سہ شنبہ کو میکاسٹر آڈیٹوریم عقب آرٹس کالج عمل میں آیا جس میں قابل ذکر عزت مآب پروفیسر ایس رامچندرم وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی، پروفیسر ٹی کرشنا راؤ پرنسپل آرٹس کالج، مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ، پروفیسر شفیع شیخ پریسیڈنٹ ایوارڈیافتہ و سابق صدر شعبہ عربی مومبائی یونیورسٹی، پروفیسر جویریہ جمیل النساء، پروفیسر مولانا محمد عبدالمجید نظامی پریسیڈنٹ ایوارڈ یافتہ و سابق صدر شعبہ عربی جامعہ عثمانیہ نے شرکت کی۔ ملک کے مختلف ریاستوں سے تشریف لائے ہوئے پروفیسرس، اسکالرس اور اساتذہ کرام نے اس سمینار میں 30 سے زائد اپنے وقیع مقالات پیش کئے اور مختلف جامعات سے طلباء و طالبات اور ریسرچ اسکالرس کی کثیر تعداد نے اس میں شرکت کی۔ سمینار کی کارروائی کا آغاز قرأت کلام پاک سے ہوا۔ ابتداء میں پروفیسر ڈ اکٹر سیدہ طلعت سلطانہ صدر شعبہ عربی جامعہ عثمانیہ و ڈائرکٹر سمینار ہذا نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا، جس میں انہوں نے جامعہ عثمانیہ کی صد سالہ تقاریب کے موقع پر وائس چانسلر کو اپنی تجاویز پیش کی ہیں، جس میں (1) جامعہ عثمانیہ کیمپس کے تمام کالجس میں نظام ہفتم آصف جاہ سابع میر عثمان علی خان بہادر بانی جامعہ عثمانیہ کے پورٹریٹس آویزاں کئے جائیں۔ (2) جامعہ عثمانیہ کے صدسالہ تقاریب کے موقع پر نظام ہفتم آصف جاہ سابع میر عثمان علی خان بہادر کی شخصیت اور ان کی خدمات پر ایک بین الاقوامی سمینار کا انعقاد عمل میں لایا جائے اور (3) نواب میر عثمان علی خان بہادر کی شخصیت اور ان کی خدمات پر ایک سووینر کی اشاعت عمل میں لائی جائے، شامل ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر مولانا محمد مصطفی شریف نے معزز مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کا تعارف کرایا۔ پروفیسر ڈاکٹر مہ جبین اختر نے سمینار کی کارروائی چلائی۔ پروفیسر ایس رامچندرم وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی نے شعبہ عربی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ اس سمینار کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شعبہ عربی، جامعہ عثمانیہ کا قدیم ترین شعبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمینار جامعہ عثمانیہ کی صدسالہ تقاریب کے سلسلہ میں سب سے پہلا سمینار ہے جس کو شعبہ عربی نے منعقد کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان ایک ہمہ مذہبی و کثیرلسانی ملک ہے، جہاں صوفیاء کرام نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں پیار و محبت، اتحاد و یکجہتی، امن و آشتی، آپسی بھائی چارگی، ایک دوسرے سے ہمدردی و تعاون اور رواداری کے جذبات کو فروغ دیا ہے۔ صوفیاء کرام نے لوگوں کے دلوں کو جوڑا ہے اور آج کے پُرفتن دور میں صوفی ازم کی پہلے سے زیادہ شدید ضرورت ہے۔ پروفیسر ٹی کرشنا راؤ پرنسپل آرٹس کالج نے کہا کہ شعبہ عربی کو علمی محافل کے انعقاد میں اولیت حاصل ہے۔ جامعہ عثمانیہ کے صدسالہ جشن کی تقاریب سے پہلے اس سمینار کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوفی تحریک اور بھگتی تحریک میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ صوفیاء کرام نے بلالحاظ مذہب و ملت، رنگ و نسل لوگوں کی خدمت و رہنمائی کی ہے۔ انہوں نے مخلوق کو خالق سے جوڑا ہے اور اخوت و رواداری کو فروغ دیا ہے۔ پروفیسر شفیع شیخ پریسیڈنٹ ایوارڈ یافتہ و سابق صدر شعبہ عربی مومبائی یونیورسٹی نے اپنے کلیدی خطبہ میں علم تصوف اور صوفی ادب پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پروفیسر مولانا سید جہانگیر ڈین ایشین لیانگویجس و صدر شعبہ عربی ایفلو یونیورسٹی نے سیٹ کے امتحان میں عربی زبان کی شمولیت کی طرف وائس چانسلر کی توجہ مبذول کرائی۔ مولانا محمد خواجہ شریف شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے شعبہ عربی کا سالانہ مجلہ ’’التنویر‘‘ کی رسم اجرائی انجام دی۔ انہوں سمینار کے منتظمین کو مبارکباد دی اور سمینار کی کامیابی اور صوفیاء کرام کی تعلیمات کے عام ہونے کیلئے خصوصی دعا کی۔ آخر میں مولانا حافظ سید بدیع الدین صابری نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT