Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / صوفی فورم میں مودی کا ’’بھارت ماتاکی جئے‘‘ نعروں سے خیرمقدم

صوفی فورم میں مودی کا ’’بھارت ماتاکی جئے‘‘ نعروں سے خیرمقدم

تاریکی میں صوفیائے کرام نور ہیں ، اسلام کے پیام امن کی ستائش ، محفل قوالی سے لطف اندوز
نئی دہلی ۔ /17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے آج اولین عالمی صوفی فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام امن اور ہم آہنگی کا پیغام دیتا ہے جس میں تشدد اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے 99 نام ہیں لیکن ایک بھی نام تشدد یا دہشت گردی سے تعلق نہیں رکھتا ۔ وزیراعظم نریندر مودی کی اولین عالمی صوفی فورم میں شرکت کیلئے آنے پر ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کے نعروں سے ان کا استقبال کیا گیا ۔ صوفی تحریک کو روحانی جستجو قرار دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ سے آج تک بنیادی اقدار روحانی جستجو ہی رہے ہیں ۔ طاقت کے استعمال اور تشدد سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ رحٰمن اور رحیم ہے یعنی ہمدرد اور مہربان ہے ۔ مودی کا پیغام ایک ایسے وقت منظر عام پر آیا ہے جبکہ حکومت کو اپوزیشن کی فرقہ پرستی کے موضوع پر برہمی کا سامنا ہے اور قوم پرستی پر گرما گرم بحث جاری ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض دہشت گرد گروپ سرکاری پالیسی اور عزائم کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک منظم کیمپوں میں دہشت گردوں کو تربیت دیتے ہیں ۔ بعض دیگر ایسے ہیں جنہیں ’’سائبر دنیا سے تحریک‘‘ ملی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ بعض طاقتیں اور گروپ سرکاری پالیسی اور عزائم کی آلہ کار بن گئی ہیں اور بعض اس گمراہ عقیدہ کیلئے بھولے بھالے لوگوں کو بھرتی کررہی ہیں ۔ اپنی 30 منٹ طویل تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے مختلف صوفی محققین کے اقوال دہرائے تاکہ یہ ثابت کرسکیں کہ تمام مذاہب بنی نوع انسان کے اتحاد کا پیغام دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب صوفی ازم کی روحانی محبت موجود ہو تو دہشت گردی کی طاقتیں پروان نہیں چڑھ سکتیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاپسند ہمارے دور میں ایک تباہ کن طاقت بن چکی ہیں جبکہ تصوف کا پیغام دنیا بھر کیلئے مفید ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال 100 ارب ڈالر سے زیادہ رقم دنیا کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کیلئے خرچ کی جاتی ہے جبکہ یہ رقم غریبوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے خرچ کی جانی چاہئیے تھی ۔ کئی ممالک کے نوجوانوں کی دولت اسلامیہ میں شرکت کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انٹرنیٹ کے ذریعہ دولت اسلامیہ کے ظاہری فلسفہ سے متاثر ہوئے ہیں ۔ سائبر دنیا جغرافیائی حدود سے بالاتر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی مختلف قسم کے مقاصد اور وجوہات رکھتی ہے جن کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ دہشت گردی مذہب کو مسخ کرکے اپنے مقصد کی تائید میں استعمال کرتی ہے ۔ دہشت گرد خود اپنی سرزمین کو تباہ اور خود اپنے عوام کا قتل کرتے ہیں اور وہ اسے مذہبی خطرے کے طور پر پیش کررہے ہیں ۔

اس طرح اپنے تشدد کا جواز پیدا کررہے ہیں ۔ دنیا اس تشدد کی وجہ سے زیادہ غیرمحفوظ ہوگئی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے کئی حصوں میں مستقبل کے بارے میں غیریقینی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ کئی لوگ تشدد اور خانہ جنگی کی بنا پر خود کو مخدوش حالت میں محسوس کررہے ہیں ۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ ظلمت کی ان طاقتوں کو انسانی اقدار کے درخشاں نور کے ذریعہ شکست دی جاسکتی ہے جو صوفی تحریک میں موجود ہے ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں دلائل کے طور پر انجیل مقدس کے کاسپلس ، قرآن مجید کی آیات اور ہندو مذہبی کتابوںکے اشلوک کے علاوہ نامور صوفیوں حضرت معین الدین چشتیؒ ، ایرانی صوفی شاعر شیخ سعدی ، جلال الدین رومی وغیرہ کے اقوال کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کے متوطن ہیں جو ایک ایسی سرزمین ہے جس سے امن کا ابدی چشمہ پھوٹتا ہے ۔ بعد ازاں وزیراعظم قوالیوں سے بھی لطف اندوز ہوئے انہیں اپنی میز پر انگلیوں سے تال دیتے ہوئے ، کبھی کبھی تالیاں بجاتے ہوئے صوفی قوالیوں سے محظوظ ہوتے دیکھا گیا ۔ عالمی صوفی فورم میں حیدرآباد سے شرکت کرنے والوں میںمولانا سید کاظم پاشاہ قادری الموسوی الجیلانی ،مولانا سید درویش محی الدین قادری جانشین مرشد پاشاہ ؒ ، مولانا سید محمد علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ ، مولانا سید آل مصطفی قادری الموسوی علی پاشاہ صدر آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ تلنگانہ و آندھراپردیش ، مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی ، مولانا شاہ محمد فصیح الدین نظامی ،مولانا انوار احمد نظامی ، ڈاکٹر محمد مصطفی شریف ، ڈاکٹر عرفان محی الدین ، ڈاکٹر سید علیم اشرف جائسی ، مولانا سید اسرار حسینی رضوی المدنی و دیگر شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT