Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / صوفی نظریہ ، ہندوستانی اقدار کا اٹوٹ حصہ: وزیراعظم

صوفی نظریہ ، ہندوستانی اقدار کا اٹوٹ حصہ: وزیراعظم

NEW DELHI, AUG 27 (UNI):- A delegation of Sufi Scholars calls on the Prime Minister, Narendra Modi, in New Delhi on Thursday. UNI PHOTO-122U

کل ہند علماء و مشائخ بورڈ اجمیر شریف کے وفد کی نریندر مودی سے ملاقات

نئی دہلی۔ 27 اگست (سیاست ڈاٹ کام) صوفیوں کا مدون کردہ نظریہ ہندوستانی اقدار کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن انتہا پسندی اسے کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے صوفیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے ان سے خواہش کی کہ وہ بلالحاظ ذات پات، فرقہ اور مذہب سب کی ترقی کیلئے جدوجہد کریں۔ 40 بریلوی صوفی علماء سے تبادلہ خیال کے دوران مودی نے ان سے خواہش کی کہ مختلف پلیٹ فارمس پر بشمول سوشیل میڈیا ایسی طاقتوں کا مقابلہ کریں تاکہ انتہا پسندی کا نظریہ ہندوستان میں جڑ پکڑنے نہ پائیں۔ وفد کے ارکان نے ان سے خواہش کی کہ مسلمانوں کے ساتھ راست ربط پیدا کریں اور تشویش ظاہر کی کہ بعض طاقتیں نہیں چاہتیں کہ ہندوستانی مسلمانوں کا طبقہ وزیراعظم کے ساتھ اچھے روابط رکھے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان کے بموجب وزیراعظم نے انتباہ دیا کہ انتہا پسندی کی طاقتیں صوفی نظریہ کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ صوفیوں اور علماء کا فرض ہے کہ وہ ایسی طاقتوں کا مختلف پلیٹ فارمس پر مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ صوفی ازم کی روایت ہے کہ بدی کو دور رکھتی ہے۔ جب بھی بدی کی طاقتیں فروغ پاتی ہیں، صوفی ان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلم طبقہ کو فروغ ہنر مندی اسکیمس اور پروگرامس کے ذریعہ مرکزی حکومت اعظم ترین فوائد فراہم کررہی ہے۔ وفد کے ارکان نے وقف جائیدادوں کے بارے میں مسائل کا تذکرہ کیا اور وزیراعظم نے تیقن دیا کہ وہ ان کا جائزہ لیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صوفی کلچر اور موسیقی کو ہر ریاست میں فروغ دیا جانا چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ اسلام انتہا پسندی یا نفرت کی تعلیم نہیں دیتا اور اندیشہ ظاہر کیا کہ بعض طاقتیں نہیں چاہتیں کہ ہندوستان کا مسلم فرقہ وزیراعظم سے خوشگوار تعلقات رکھے ۔ انہوں نے کہا کہ تاحال ووٹ بینک سیاست کے نتیجہ میں مسلم طبقہ حکومت سے راست تبادلہ خیال نہیں کرسکا، صرف درمیانی آدمیوں کے ذریعہ ایسا کیا جاتا رہا۔ وفد نے خواہش کی کہ وزیراعظم ہندوستانیوں بشمول مسلمانوں کے ساتھ راست ربط پیدا کریں۔ انہوں نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ بلالحاظ ذات پات، فرقہ اور مذہب سب کی مساوی ترقی کیلئے کام کریں۔ وفد نے کہا کہ مسلم فرقہ میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ دولت اسلامیہ اور القاعدہ اسلام کے راستے کے نمائنہ نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں صوفی نظریہ اور کلچر کے فروغ کیلئے کئی تجاویز پیش کیں جن میں سیاحت کو فروغ دینے کیلئے صوفی سرکٹ کا قیام بھی شامل تھا۔ملاقات کرنے والوں میں حضرت سید محمد اشرف کچھوچھوی صدر و بانی کل ہند علماء و مشائخ بورڈ، سید جلال الدین اشرف صدرنشین مخدوم اشرف مشن کولکتہ، سید احمد نظامی سجادہ نشین درگاہ حضرت نظام الدین اولیاءؒؒ، شیخ ابوبکر احمد مسلیار جنرل سیکریٹری کل ہند مسلم علماء اسوسی ایشن، سید مہدی چشتی کارکن درگاہ خواجہ معین الدین چشتیؒ اجمیر شریف شامل تھے۔

او آر او پی تنازعہ ، کوئی پیشرفت نہیں
نئی دہلی۔ 27 اگست (سیاست ڈاٹ کام)او آر او پی تنازعہ کی یکسوئی میں پیشرفت نہیں ہوئی جبکہ مزید دو سابق فوجی جو غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر تھے، دواخانہ منتقل کردیئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT