Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / صوفی کانفرنس میں مودی کی شرکت اور بھارت ماتا کی جئے نعرہ کا تنازعہ محض اتفاق نہیں

صوفی کانفرنس میں مودی کی شرکت اور بھارت ماتا کی جئے نعرہ کا تنازعہ محض اتفاق نہیں

ٹوپی پہننے سے انکار کرنے والے مودی اللہ کے ناموں کا ورد کرنے لگے ہیں ۔جے این یو سے پیدا ہوئی مخالف مودی لہر کو توڑنا مقصد
پانچ ریاستوں میں انتخابات پر بھی نظر ۔ اتر پردیش میں کامیابی اصل نشانہ ۔ مسلم ووٹوں کو تقسیم کروانے کے عملی اقدامات کا آغاز
حیدرآباد ۔ 22 مارچ ( سیاست نیوز ) : وزیراعظم نریندر مودی کو صوفی کانفرنس میں مدعو کیا جانا اور رکن پارلیمنٹ اسد اویسی کی جانب سے بھارت ماتا کی جئے نعرہ کے مخالف میں اشتعال انگیز تقریر کرنا محض اتفاق ہے یا پھر کسی سازش کا حصہ ؟ ملک کے سیاسی ماحول میں اچانک تبدیلی اور سیاستدانوں اور سیاسی حالات پر ایک تحقیقی رپورٹ میں یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ حالات مخالف مودی لہر کو دبانے کی سازش کا ایک حصہ ہوسکتا ہے چونکہ مودی کی صوفی کانفرنس میں شرکت اور اسد اویسی کی بھارت ماتا کی جئے نعرہ کے مخالف میں اشتعال انگیز تقریر کے بعد سے ملک کے حالات بدل گئے اور بائیں بازو کے زور کو کمزور کرنے کی کوشش شدت اختیار کرگئی ہے ۔ ممتاز صحافیوں کی تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے پیدا ہوئی اور مزید زور پکڑتی ہوئی مخالف مودی لہر کو دبانے جو کہ آہستہ آہستہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیلتی جارہی تھی ہر ممکنہ کوشش کی جا رہی ہے ۔ صورتحال ایک طرف امبیڈکر کے چاہنے والے دلتوں اور بی جے پی کی کشتی میں سوار اعلی ذات طبقات سے وابستہ قائدین کے درمیان نظریاتی جنگ کی شکل اختیار کی گئی تھی  ۔ تاہم اپنی توڑ جوڑ کی پالیسیوں اور سیاسی ہواؤں کا رخ موڑنے میں مشہور بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے اس مرتبہ بھی حرکت میں آتے ہوئے ہوا کا رخ موڑنے کی کوشش کی ہے ۔ اس مرتبہ انہوں نے نام نہاد مسلم مذہبی و سیاسی چہروں کو استعمال کرلیا اور بی جے پی کیلئے مسئلہ بنتی جا رہی دلت تحریک کو میڈیا کی مدد سے کمزور کردیا اور یہ ساری حکمت عملی اترپردیش کے انتخابات کے پیش نظر رچی جارہی ہے چونکہ روایتی افطار پارٹی کے اہتمام سے گریز کرنے اور ٹوپی پہننے سے واضح انکار کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی نے صوفی کانفرنس میں نہ صرف شرکت کی بلکہ اپنی زبان سے اللہ پاک کے 99 ناموں کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی تو دوسری جانب ریاست جھارکھنڈ کے ایک دیہات میں دو مسلم نوجوانوں کو جو گاؤ چرواہے تھے پھانسی پر لٹکادیا گیا ۔ اس واقعہ نے دادری واقعہ کی یاد دلادی ہے تعجب کی بات یہ ہے کہ اس واقعہ کے خلاف اور نہ ہی اس بیان کے خلاف جو آر ایس ایس کے صدر کی جانب تھا مسلم قائدین نے نہ کوئی بیان دیا اور نہ مخالفت کی ۔ بعض گوشوں سے رسم نبھانے کی حد تک مذمت کی گئی ۔ مسلم قائد و آر ایس ایس صدر کے بیان پر بھارت ماتا کی جے کے نعرہ پر بحث نے ملک کی اہم ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ ان معروف صحافیوں کے گروپ کی تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں جب بھی انتخابات کا مرحلہ آتا ہے تو ریاستوں اور علاقہ کو دیکھ کر اس طرح کا نعرہ لگایا جاتا ہے ۔ جیسا کہ سابق میں بہار کے انتخابات میں کیا گیا ۔ اس وقت گاؤ ماتا تحفظ کی بحث کی گئی ۔ حالانکہ بہار میں سوائے سیکولرازم کے کوئی اور نعرہ نے کام نہیں کیا تاہم اب اس کی بنیاد پر ملک کی سالمیت کیلئے بھارت ماتا کے نعرہ سے ماحول تیار کیا جارہا ہے تاکہ سیکولر اور ایسے رائے دہندوں کو منقسیم و دور کردیا جائے جو فرقہ پرست سیاست کو پسند نہیں کرتے ۔ اس وقت جب پانچ ریاستوں کے انتخابات تھے اس وقت وزیر اعظم نے ٹوپی تک نہیں پہنی تھی اور اب جبکہ مزید 5 ریاستوں اور سال کے آخر میں اترپردیش جیسی ریاست کے انتخابات ہیں ۔ اب مودی کو ٹوپی تو چھوڑ مسلمان اور مسلمانوں کی جماعتیں یاد آگئیں ۔ چونکہ جن ریاستوں میں انتخابات ہونے جارہے ہیں ان ریاستوں میں مسلمانوں کا فیصد 20 سے زائد ہے اور بی جے پی کے صدر کا منشاء ہے کہ 20 فیصد میں کچھ حاصل ہونا ہو لیکن بی جے پی اپنے قدیم فارمولہ کے تحت ان 20 فیصد کو تقسیم کروانے کی واضح کوششیں شروع کرچکی ہے ۔ ایک طرف یہ بات بھی تحقیقی رپورٹ اور سیاسی مبصرین کی نظر میں سامنے آرہی ہے کہ ’ بھارت ماتا کی جئے ‘ کا تنازعہ اور دوسری جانب صوفی کانفرنس میں مودی کی شرکت اور تقریر سے بہت ممکن ہے کہ مسلم و مخالف مسلم پارٹیوں کو پانچ ریاستوں کے علاوہ بالخصوص اترپردیش میں فائدہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا ۔ واضح رہے کہ جاریہ سال کے آخر میں یو پی اور آئندہ دو ماہ بعد پانچ ریاستوں کے انتخابات ہونے والے ہیں اگر اترپردیش و دیگر ریاستوں میں بی جے پی کامیاب ہوجاتی ہے تو پارلیمنٹ کے ایوان راجیہ سبھا میں بی جے پی کے ارکان کی تعداد میں کافی اضافہ ہوگا جس کے بعد بی جے پی کو گذشتہ دو سالوں سے بلوں کی منظوری کیلئے جو پریشانی ہورہی ہے اس سے چھٹکارہ مل جائے گا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT