Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / صوفی کلچر سے تشدد کا خاتمہ، خانقاہی نظام سے رواداری کا فروغ

صوفی کلچر سے تشدد کا خاتمہ، خانقاہی نظام سے رواداری کا فروغ

کل ہند مرکز مجلس چشتیہ کی بسنت تقریب، بین مذہبی شخصیتوں کی شرکت، محفل سماع سے روحانی منظر
حیدرآباد۔15 ۔ فبروری(سیاست نیوز) کل ہند مرکز مجلس چشتیہ کے زیراہتمام پہلی بسنت تقریب بارگاہ حضرت شیخ جی حالی ‘ اُردو شریف ‘ پتھر گٹی پر منعقد ہوئی۔صوفی شاہ محمد مظفر علی چشتی ابوالعلائی سجاد ہ نشین بارگاہ حضرت شیخ جی حالی ‘ اُردو شریف کی نگرانی میںمنعقدہ اس تقریب بسنت میںمہمانِ خصوصی کی حیثیت سے حضرت سید فضل المتین چشتی گدی نشین درگاہ حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی اجمیر شریف نے شرکت کی جبکہ دیگر مہمانوں میںرمیش کمار پرنسپل سکریٹری گورنر تلنگانہ وآندھرا‘ اے کے گوئل ریٹائرڈ آئی اے ایس ومشیر حکومت تلنگانہ‘ ایڈیشنل کمشنر پولیس انجنی کمار یادو (آئی پی ایس) ‘مولانا سید اسرار حسین رضوی المدنی سجاد نشین درگاہ حضرت سید امر اللہ شاہؒ ‘مولانا سید فضل اللہ قادری سجاد نشین درگاہ حضرت سید موسیٰ قادریؒ‘مولانا حضرت شمیم مرزائی‘ مولانا سید ندیم اللہ نانک سنگھ  نشتر اور دیگر نے شرکت کرتے ہوئے حضرت امیر خسروؒسے اپنی پوری عقیدت ومحبت کااظہار کیا۔ اس تقریب میں سرکردہ مسلم شخصیتوں کے علاوہدیگر مذاہب کے افراد اور معزز شخصیتوں نے ادب و احترام اور عقیدت کے ساتھ شرکت کیا۔ مرکز مجلس چشتیہ کے زیر اہتمام منعقدہ اپنی نوعیت کی منفرد پہلی بسنت تقریب کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے صوفی شاہ محمد مظفر علی چشتی ابوالعلائی سجاد ہ نشین بارگاہ حضرت شیخ جی حالی ‘ اُردو شریف نے کہاکہ اپنے حقیقی اور چھیتے بھانجے کے انتقال پر غم زدہ محبوب الہی کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لئے ان کے مرید خاص حضرت امیر خسرو نے بسنت کی موقع پر سماع کا اہتمام کیاتھا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ عام روایت کے مطابق ہندوستان میں موسم بہار کے آغاز پر بسنت کا اہتمام کیاجاتا ہے اور اس موقع پر شمالی ہندوستان میں خواتین پیلے پھولوں سے سجی ٹوکریوں کے ساتھ نغمیں پیش کر کے رقص کرتے ہوئے موسم بہار کا استقبال کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات کا عزم کیا کہ کل ہند مرکز مجلس چشتیہ ہر سال بسنت تقریب منعقد کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ آج دنیااس بات کو قبول کرنے کیلئے مجبور ہوگئی ہے کہ تشدد کا خاتمہ صرف صوفی کلچرل کے فروغ سے ہی ممکن ہے ۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ خانقاہی نظام سے وابستہ اور صوفی تہذیب سے جڑے لوگ کبھی تشدد کی بات نہیںکرتے ۔ اس موقع پر ممتاز قوال گروپ زماں برادرس اور دیگر قوالوں نے نے حضرت امیر خسرو کے کلام پیش کرتے ہوئے سماع باندھ دیا۔یہ تقریب بین مذہب کیلئے اپنی مثال آپ تھی۔

TOPPOPULARRECENT