Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ضلعی سطح پر کلکٹوریٹس کی تعمیر اپوزیشن کے لیے ناقابل برداشت

ضلعی سطح پر کلکٹوریٹس کی تعمیر اپوزیشن کے لیے ناقابل برداشت

اسکیمات اور اہم فیصلوں پر اپوزیشن کی تنقیدیں نا مناسب ، کے پربھاکر ٹی آر ایس ایم ایل سی کا بیان
حیدرآباد۔13 اکٹوبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل کے پربھاکر نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کی اپوزیشن جماعتیں اندھی مخالفت کررہی ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پربھاکر نے کہا کہ حکومت کے ہر اچھے کام کی مخالفت کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اپنا شیوہ بناچکی ہیں۔ انہیں یہ بات منظور نہیں کہ عوام کی بھلائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل جب نئے اضلاع کا قیام عمل میں آیا تو کانگریس پارٹی نے اس کی مخالفت کی۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے کانگریس کی پیروی کی اور حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کی۔ اب جبکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے ہر ضلع میں نئے کلکٹریٹس کی تعمیر کے لیے سنگ بنیاد کی تقاریب میں حصہ لیا تو یہ اپوزیشن کو برداشت نہیں ہورہا ہے۔ نئے اضلاع میں عصری سہولتوں کے ساتھ سکریٹریٹ کی ضرورت ہے تاکہ عوام کی بہتر خدمت کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ضلع میں بنیادی انفراسٹرکچر کے بغیر عہدیدار فرائض انجام نہیں دے سکتے۔ کے سی آر نے ہر ضلع ہیڈکوارٹر پر کلکٹریٹس کی تعمیر کو منظوری دی اور نئے اضلاع کی ایک سال کی تکمیل کے موقع ہر ضلع میں سنگ بنیاد کی تقریب منعقد کی گئی۔ اپوزیشن کو چاہئے تھا کہ وہ حکومت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کانگریس پارٹی ان ترقیاتی سرگرمیوں کو برادشت کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ روزانہ حکومت کی کسی نہ کسی طرح مذمت اور پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں ہے اور عوام اپوزیشن کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس قائدین صرف اپنی اراضی پر پراجیکٹس کی تعمیر کے عادی ہوچکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ٹی آر ایس قائدین بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کرے لیکن ٹی آر ایس قائدین نے ترقی کے لیے اپنی جائیدادوں کو ترک کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موچرلا فارماسٹی کے قیام کے لیے وزیرآبپاشی ہریش رائو نے سب سے پہلے اپنی 17 ایکڑ اراضی فراہم کرتے ہوئے اراضی حصول کے سلسلہ میں مثال قائم کی ہے۔ موجودہ وزیرفینانس ایٹالہ راجندر نے کانگریس دور حکومت میں آئوٹر رنگ روڈ کے لیے اپنی 8 اراضی حوالے کی تھی اور اس وقت کانگریس نے ان کے اس اقدام کی ستائش کی تھی۔ راجندر نے اس اراضی کا معاوضہ آج تک حاصل نہیں کیا۔ پربھاکر نے بتایا کہ سوریا پیٹ میں بعض اہل خیر افراد کی جانب سے اراضی کا عطیہ دینے کے سبب کلکٹریٹ کی تعمیر ممکن ہوپائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی وجوہات کے سرکاری اسکیمات اور حکومت کے فیصلوں کی مخالفت کرنا اہم اپوزیشن کے شایان شان نہیں ہے۔ عوام نئے اضلاع کی تشکیل کی طرح کلکٹریٹس کی نئی عمارتوں کی تعمیر کا استقبال کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس کو مشورہ دیا کہ وہ فلاحی اسکیمات اور ترقی کے سلسلہ میں حکومت سے تعاون کا رویہ اختیار کرے۔ کانگریس دور حکومت میں مختلف پراجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا گیا لیکن کئی برس گزرنے کے باوجود ان کی تکمیل نہیں کی گئی۔ کانگریس دور کے زیرالتوا پراجیکٹس کو ٹی آر ایس حکومت مکمل کررہی ہے۔ پربھاکر نے کہا کہ محبوب نگر ضلع میں 5 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنا ٹی آر ایس حکومت کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کل سوریہ پیٹ میں چیف منسٹر کے جلسہ عام میں شرکت پر عوام سے اظہار تشکر کیا۔ عوام نے یہ ثابت کردیا کہ وہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کے ساتھ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT