Friday , May 26 2017
Home / عرب دنیا / ضلع دمشق سے باغیوں کے تخلیہ کا آغاز

ضلع دمشق سے باغیوں کے تخلیہ کا آغاز

تین اضلاع قابون ‘ تشرین اور برزین میں باغیوں سے معاہدے ‘خانہ جنگی کے خاتمہ کی کوشش
دمشق ۔ 14مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) شہری اور باغی اپوزیشن کے زیر قبضہ ضلع دمشق کے علاقہ سے تخلیہ کرنے کا آغاز کرچکے ہیں ‘ جب کہ سرکاری فوجیں شام کے دارالحکومت پر اپنے قبضہ کو مستحکم کرچکی ہیں ۔ ایک اخباری نمائندے نے جو قابون میں ہے سرحد کے آس پاس دیکھا کہ شہری اور جنگجو علی الصبح تخلیہ کررہے تھے ‘ قبل ازیں پڑوسی علاقہ سے معاہدہ کا اعلان ہفتہ کی رات دیر گئے زبردست جنگ کے بعد کیا گیا تھا ۔ یہ معاہدہ جاریہ ہفتہ قبل ازیں قریبی باغی زیرقبضہ اضلاع برزین اور تشرین کے معاہدوں کے جیسا ہے ۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا کہ تخلیہ کا آغاز ہوچکا ہے اور اپوزیشن زیر قبضہ ضلع کے حصہ میں مقیم ایک انسانی حقوق کارکن نے قبل ازیں توثیق کی کہ کارروائیاں جاری تھیں ‘ مکانات تیار کئے جارہے ہیں تاکہ حکومت کا اس علاقہ پر قبضہ ہوسکے ۔ جو افراد روانہ ہونا چاہتے ہیں چاہے وہ شہری یا جنگجو ان کے نام درج رجسٹر کئے جارہے ہیں ۔ تخلیہ کا معاہدہ ہفتہ کی رات ہوا جب کہ سرکاری فوج پڑوسی علاقہ میں داخل ہوگئی ۔ شامی فوج نے کل رات دیر گئے پڑوسی علاقہ میں داخل ہونے کے بعد معاہدہ طئے کیا تھا اور کئی مسلح عناصر کا محاصرہ کردیا تھا جو پڑوسی علاقہ میں تھے ۔ شامی فوج نے کل انہیں مجبور کیا کہ ہتھیار ڈال دیں اور اپنے ہتھیار فوج کے سپرد کردیں ۔ قابون ‘ برزین اور تشرین علاقوں میں جس قسم کے معاہدہ ہوئے تھے ‘ انہی کے جیسا معاہدہ طئے پایا جس کے تحت باغیوں نے اتفاق کیا کہ انہیں اپوزیشن زیر قبضہ علاقہ میں جانے کیلئے محفوظ راستہ دینے پر وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں گے ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدے چھ سال کی خانہ جنگی ختم کرنے کا بہترین طریقہ ہیں لیکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ سرکاری بمباری اور محاصروں نے معاہدوں پر مجبور کردیا ہے ۔ دو گروپس برزین سے جاریہ ہفتہ پڑوسی علاقہ منتقل ہوچکے ہیں جب کہ گروپ تشرین سے تخلیہ کیلئے تیار ہے ۔ تمام تینوں گروپس شمال مشرقی شام کے صوبہ ادلیب جارہے ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT