Friday , August 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ضلع پریشد اجلاس محبوب نگر میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ

ضلع پریشد اجلاس محبوب نگر میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ

غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے متعلقہ عہدہ داروں کو جوائنٹ کلکٹر کی ہدایت
محبوب نگر /6 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع کے عوام کے مسائل کی یکسوئی اور بنیادی سہولتیں فراہم کرنا اور ضلع کے ترقیاتی کاموں کے لئے کارآمد مباحثہ کے بعد ضروری اقدامات کرنے کے لئے ضلع پریشد جنرل باڈی اجلاس منعقد کیا جاتا ہے۔ ان اجلاسوں میں اکثر دیکھا جا رہا ہے کہ زیڈ پی ٹی سیز کو نظرانداز کرتے ہوئے ارکان اسمبلی اجلاسوں میں من مانی کر رہے ہیں۔ مائک پر ایم ایل ایز گھنٹوں تقاریر کرتے ہیں اور زیڈ پی ٹی سیز کی بار بار اپیل کے باوجود انھیں بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ جمعہ کے روز منعقدہ ضلع پریشد میٹنگ ہال میں بدترین واقعات پیش آئے۔ ایم ایل ایز لمبی لمبی تقریریں کرتے ہوئے گرما گرم مباحث، تنقیدیں، گالی گلوج کرتے ہوئے ہاتھا پائی پر اتر آئے۔ ان حرکتوں سے اجلاس کا وقار پامال ہوا۔ محبوب نگر ضلع پریشد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسے بدترین مظاہرے دیکھے گئے۔ ان واقعات نے زیڈ پی ٹی سی ارکان کو کافی متاثر کیا۔ حملوں اور گالی گلوج میں ملوث ایم ایل ایز پر پولیس اسٹیشن میں الزامات، شکایات اور کیسس بک ہوئے۔ جوائنٹ کلکٹر رام کشن نے سیاست نیوز کو بتایا کہ ان واقعات کے ریکارڈ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی ہدایت متعلقہ عہدہ داروں کو دے دی گئی ہے۔ ضلع پریشد اجلاسوں کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ عہدہ داروں کے ساتھ کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے ضلع میں بہبودی اسکیمات پر عمل آوری کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کئے جائیں، طے کرنا ہوتا ہے۔ زیڈ پی ٹی سیز نے ایم ایل ایز سے کئی بار اپیل کی کہ آپ کو بات کرنے کے لئے اسمبلی موجود ہے۔ اس اجلاس میں ہمیں بات کرنے کا موقع دیا جائے۔ مکتھل کے زیڈ پی ٹی سی سری ہری نے بتایا کہ ہمارے حقوق ہمارے لئے محفوظ رکھنے کا ہم نے بارہا ضلع پریشد چیرمین بنڈاری بھاسکر سے مطالبہ کیا، لیکن بے فیض رہا۔ جمعہ کے دن اجلاس میں 24 نکات پر بحث ہونا تھا، لیکن کسی ایک نکتہ پر بھی بحث مکمل نہ ہوسکی۔ سیاسی الزامات اور حکومت پر نکتہ چینی میں وقت برباد کیا گیا۔ یہ اجلاس ضلع پریشد چیرمین کی صدارت میں منعقد ہوتا ہے اور اس کی کارروائی بھی وہی چلاتے ہیں، لیکن ضلع پریشد محبوب نگر میں ایسا نہیں ہو رہا ہے، کارروائی وزراء چلا رہے ہیں، جب کہ پنچایت راج 756 احکامات کے تحت ضلع پریشد اجلاس کی کارروائی چیرمین کو ہی چلانا چاہئے اور اکثریتی ممبران کی تائید سے قرارداد منظور کرانا چاہئے۔ ان قراردادوں کو چیف ایکزیکٹیو آفیسر کے ذریعہ رو بہ عمل لانے کی ذمہ داری بھی زیڈ پی چیرمین کی ہوتی ہے۔ جمعہ کے دن پیش آئے واقعہ کی سابق زیڈ پی چیرمین جے وینکٹیا اور دامودھر ریڈی نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنرل باڈی اجلاس ایک اہم پلیٹ فارم ہوتا ہے، یہاں سیاسی داؤ پیچ اور بدکلامی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ پورے ضلع کے 64 منڈلوں کے ترقیاتی کاموں کے لئے یہ اجلاس منعقد ہوتا ہے۔ سیاسی داؤ پیچ انتخابات کے وقت ہی ٹھیک رہتے ہیں، یہاں بلالحاظ سیاسی وابستگی مل جل کر کام کرنا ہوتا ہے۔ اجلاس کے ان واقعات نے سیاسی قائدین کے علاوہ عوام کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT