Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ضلع پریشد محبوب نگر کا اجلاس درہم برہم

ضلع پریشد محبوب نگر کا اجلاس درہم برہم

ارکان اسمبلی کا ایک دوسرے پرحملہ ، کانگریس کا آج بند کا اعلان
حیدرآباد /4 ستمبر ( سیاست نیوز ) محبوب نگر ضلع پریشد کا اجلاس درہم برہم ہوگیا ۔ کانگریس اور ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے ایک دوسرے پر حملہ کیا ۔ کانگریس رکن اسمبلی رام موہن ریڈی پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے 5 ستمبر کو ضلع محبوب نگر بند منانے کا اعلان کیا ہے ۔ ضلع میں آبپاشی پراجکٹس کے مسئلہ پر مباحث میں حکمران ٹی آر ایس اور اصل اپوزیشن ٹی آر ایس ارکان میں لفظی جھڑپ ہوگئی ۔ ایک موقع پر ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی مسٹر بالراجو اور کانگریس کے رکن اسمبلی مسٹر رام موہن ریڈی کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی ۔ حالت کشیدہ ہوجانے پر پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی ۔ ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی مسٹر بالراجو نے صدرنشین ضلع پریشد کے پوڈیم کے قریب بیٹھ کر احتجاج کیا اور کانگریس کے رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ کانگریس کے رکن اسمبلی مسٹر رام موہن ریڈی نے انہیں بات کرنے کی اجازت نہ دینے کا صدرنشین پر الزام عائد کیا ۔ جھگڑے اور لفظی جھڑپ کے دوران دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات عائد کئے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کی ہٹ دھرمی اور کانگریس رکن اسمبلی پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے 5 ستمبر کو بطور احتجاج ضلع محبوب نگر بند منانے کا اعلان کیا ہے کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ترقیاتی اور فلاحی کاموں کی انجام دہی میں ناکام ہوگئی ہے اور ضلع پریشد کے اجلاس میں سوال کرنے پر کانگریس کے رکن اسمبلی رام موہن ریڈی پر حملہ کیا گیا ہے ۔ قائد اپوزیشن اسمبلی مسٹر کے جاناریڈی نے کانگریس رکن اسمبلی پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسپیکر اسمبلی سے اس کی شکایت کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت طاقت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کریں ۔ ورکنگ پریسیڈنٹ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر ملوبٹی وکرامارک نے کانگریس کے رکن اسمبلی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ناکامیوں پر کانگریس پارٹی بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عوام میں حکومت کے خلاف شعور بیدار کیا جائے گا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT