Monday , June 26 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ضلع پریشد کریم نگر کے اجلاس میں گرما گرم مباحثہ

ضلع پریشد کریم نگر کے اجلاس میں گرما گرم مباحثہ

ارکان اور عہدیداروں کے درمیان تلخ و تند اور ناشائستہ الفاظ کا تبادلہ

کریم نگر۔/7مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع پریشد کریم نگر کے منعقدہ اجلاسوں میں شاید ہی کبھی آج کی طرح انتہائی تعجب خیز بلکہ شرمناک قسم کے افسوسناک واقعات ہوئے ہوں۔کریم نگر ضلع پریشد میٹنگ ہال میں زیڈ پی چیرپرسن تلا اوما کی صدارت میں جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں نو تشکیل شدہ سات اضلاع کے زیڈ پیز، ضلعی عہدیدار، منڈل پریشد صدور،کو آپشن ارکان شریک تھے۔ مختلف محکمہ جات سے متعلقہ جملہ 31نکات پر مبنی ایجنڈہ مباحث کیلئے تیار کیا گیا تھا لیکن اس میں پہلے 6 انتہائی ضروری اور ترجیح طلب نکات پر مباحث و غور و فکر کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ چنانچہ زرعی شعبہ سے غور وفکر کرنے کا آغاز ہوا، بعد ازاں ضلعی دیہی ترقیات پر بحث شروع ہوتے ہی آئی کے پی کی جانب سے دھان کی خریدی میں بدعنوانی کا الزام لگایا گیا۔ اس دوران قومی روزگار ضمانت کاموں کی عمل آوری کسی پنچایتی منڈل پریشد، زیڈ پی ٹیز کی سفارش و رضامندی کے بغیرقرارداد کیجارہی ہے، یہ طریقہ غلط ہے۔ ایم پی پی جمنا میڈیلی نے برہم انداز میں سوالات کی بوچھار کردی۔ پی ڈی نے کہا کہ جی او کے مطابق ہی کروائے جارہے ہیں جواب دینے پر جی او حوالے کرنے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر عدالت سے رجوع ہونے کا انتباہ دیا۔ اس مسئلہ پر برسراقتدار کانگریس، سبھی زیڈ پی ٹیز، پی ڈی وینکٹیشوراؤ پر برس پڑے۔ اس پر پی ڈی نے جی او کی کاپی انگریزی حوالے کرنے پر کوآپشن رکن محمد جمیل الدین جو ایڈکیٹ بھی ہیں وہ جی او کاپی دیکھنے کے دوران زیڈ پی ٹیز اور ڈی آر ڈی، اے پی ڈی کے درمیان تلخ الفاظ کا تبادلہ ہوا۔ سب چور ہیں کہنے پر پی ڈی نے کہاکہ تم بھی چور ہو۔ ایک دوسرے پر جوابی وار کرتے مل بانٹ کر کھانے کا الزام لگایا۔ زیڈ پی چیرپرسن دونوں کو خاموش کروانے کی کوشش کرتی رہیں۔ کوآپشن رکن جمیل الدین نے اٹھ کر جی او کی کاپی شہ نشین پر موجود جوائنٹ کلکٹر کو دیتے ہوئے کہا کہ آپ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں یہ پڑھ کر فیصلہ کریں کہ ڈی آر ڈی اے پی ڈی قصوروار ہیں یا نہیں۔ جی او میں صاف ہے کہ ایم پی ٹی سی، پنچایت، زیڈ پی ٹیز کی نشاندہی کردہ منظورہ قرارداد کے کاموں کو کروایا جائے۔ پی ڈی جی او کی خلاف ورزی کررہے ہیں، جس پر زیڈ پی چیرمین نے کہا کہ ٹھیک ہے اس معاملہ کو یہیں پر ختم کردیں۔ لیکن اس دوران کوآپشن رکن جمیل الدین اور دیگر زیڈ پی ٹیز اجلاس چھوڑ کر باہر چلے گئے۔ قبل ازیں کانگریس زیڈ پی ٹیز نے آغاز پر ہی ہاتھوں میں پلے کارڈز تھام کر پوڈیم کے آگے احتجاج کیا۔ مالی بحران کے شکار زیڈ پی کی ترقی کیلئے فنڈز کی منظوری کے سلسلہ میں احتجاج کیا۔ حکومت کی جانب سے زیڈ پی کو آنے والے فنڈز کی فوری اجرائی کا مطالبہ کیا۔ زیڈ پی فلور چلا نارائن ریڈی و دیگر منڈلس پداپلی، ملیال، شوبھا رانی، ٹی دیویا اور دیگر زیڈ پی ٹیز نے احتجاجی نعرے بلند کرنے لگے، تلا اوما نے انہیں سمجھا بجھاکر اپنی نشستوں پر بیٹھ جانے اور اپنی شکایات درج کروانے کا مشورہ دیا اور انتباہ دیا کہ بہ حالت مجبوری زبردستی پولیس کے ذریعہ باہر کردینا پڑے گا۔ جس پر سبھی نے کچھ دیر تک احتجاج کیا اور پھر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ زیڈ پی ٹی سی وائس چیرمین وائی ریڈی سائی ریڈی نے حسن آباد سی پی ڈبلیو اسکیم کی عمل آوری کے کاموں کے بارے میں سوال کیاکہ 2008 میں شروع کردہ کام جوکہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے دور میں شروع کئے گئے تھے کب ختم ہوں گے۔ آبپاشی پراجکٹ کے تحت متاثرہ مڈ مانیر کے تحت چار متاثرہ گاؤں کو خالی کرنے کے لئے زبردستی کئے جانے کی رکن لچی ریڈی نے شکایت کی جبکہ بازآبادکاری کے اقدامات نامکمل ہیں،اس اجلاس میں نہ کسی رکن اسمبلی نے شرکت کی اور نہ رکن پارلیمنٹ نے شرکت کی البتہ ایم ایل سی منڈل پنوری سدھاکر ریڈی نے شرکت کی اور درمیان میں چلے گئے اور ان کے ساتھ ہی کلکٹر بھی اُٹھ کر چلے گئے تھے۔ دوبارہ ایک گھنٹہ بعد واپس آئے۔ جگتیال کے جوائنٹ کلکٹر نے شرکت کی۔ ڈی آر ڈی اے پی ڈی کو معطل کرنے کیلئے زیڈ پی ٹیز کی قرارداد منظور کرکے زیڈ پی چیرپرسن کے حوالے کی جس پر انہوں نے وزیر کے علم میں لانے کا تیقن دیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT