Wednesday , October 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ضلع کرنول کے اردو میڈیم مدارس کئی مسائل سے دوچار

ضلع کرنول کے اردو میڈیم مدارس کئی مسائل سے دوچار

نندیال ۔ 22 ۔ جنوری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) کرنول ہی نہیں ریاست آندھراپردیش کے اردو میڈیم مدارس کا کوئی پُرسان حال نہیں ۔ کرنول آواز کمیٹی کی جانب سے پورے ضلع کے اردو میڈیم مدارس کے تعلق سے ایک سروے کیا گیا جس سے پتہ چلا کہ ضلع میں 290 اردو پرائمری مدارس ب، 15 یو پی مدارس ، 32 اردو ہائی اسکول ہیں ۔ ان مدارس میں 60 سنگل ٹیچر اسکول ہیں ۔ آواز کمیٹی کے آندھراپردیش ریاستی صدر جناب محمد مرتضی نے بتایا کہ قانون آر ٹی آئی کے تحت ہر اسکول میں دو مدرسین کا ہونا لازمی ہے لیکن ضلع میں 60 اسکول ایسے ہیں جن میں صرف ایک ہی مدارس کام کررہا ہے ۔ ایسے مدارس میں بچوں کی تعلیم کی حالت کیسی ہوگی ہر کوئی جان سکتا ہے ۔ 2014 میں ڈی ایس سی تو منعقد ہوا لیکن آج تک اس کا رزلٹ نہیں دیا گیا اور ضلع بھر میں ایک مدرس کی انتخاب نہیں ہوا ۔ تعلیمی سال ختم ہونے جارہا ہے آج تک بہت سے اسکولوں میں اکیڈیمک انسٹرکٹرس کو بھی تعین نہیں کیا گیا ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ تلگودیشم حکومت کو مسلمانوں کے بچوں کی تعلیم سے اور ان کی ترقی سے کتنی دلچسپی ہے ۔ ضلع کے 32 اردو میڈیم ہائی اسکولس میں 6 مضامین پڑھانے کیلئے اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کئی مشکلوں کا سامنا کررہے ہیں اور امتحانات میں ناکامیاب ہورہے ہیں اور وہیں پر اپنی تعلیم کو ختم کررہے ہیں ۔ اساتذہ کی کمی کی وجہ سے اردو میڈیم کے طلبہ ترک تعلیم کررہے ہیں یا تلگو میڈیم کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔ حکومت اردو زبان اور اردو میڈیم اسکولوں کے ساتھ سوتیلے رویہ اختیار کررہی ہے بلکہ اردو طلباء کے ساتھ ناانصافی بھی کررہی ہے ۔ سچرب کمیٹی کے بموجب تعلیمی میدان میں مسلمانوں کی حالت ایس سی ، ایس ٹی سے بھی بدتر ہے ۔ حالانکہ آندھراپردیش میں کرنول ضلع میں مسلم آباد میں اول ہے ۔ ایسے ضلع میں اردو میڈیم مدارس کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت مسلمانوں اور ان کی تعلیم پر کتنی دلچسپی بتارہی ہے ۔ انتخاب سے پہلے نائیڈو جی مسلمانوں کو سبز باغ اور بلند بانگ دعوے سے وزیراعلی بن تو گئے لیکن مسلمان اور ان کی تعلیم کے بارے میں توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ جہاں تک مسلمانوں کو اچھوت سمجھ کر ایک بھی مسلمان کو اپنی وزارت میں جگہ نہیں دی ہے ۔ آندھراپردیش کے مسلمان بدقسمت ہے کہ مائناریٹی سنٹر بھی اب مسلمان نہ ہو کر ریڈی صاحب کو بیٹھایا گیا حالانکہ مسلمانوں کو معلوم تھا کہ نائیڈو جی بی جے پی کے ساتھ جوڑ چکے ہیں پھر بھی اس مسلمانوں کے ساتھ انصاف کریں گے ۔ آواز کمیٹی کے ریاستی صدر محمد مرتضی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے بجٹ میں آبادی کی تناسب سے 10 فیصد بجٹ دیا جائے اور اس کا پورا خرچ کریں ۔ مسلمانوں کیلئے ریزرویشن کے بارے میں اور پلان کے بارے میں قدم اٹھاکر مسلمانوں کی امید کو بنائے رکھیں ۔ اردو میڈیم اسکولںو کی خستہ حالت پر نظرثانی کریں اور ہر منڈل ہیڈکوارٹرس میں ایک اردو میڈیم جونیر کالج قائم کریں اور ہر ایک ڈیویژن ہیڈکوارٹرس پر ایک مسلم مائنارٹیز کیلئے ہاسٹل کا انتظام کریں ۔ نائیڈو ان مسائل پر جلد از جلد قدم نہ اٹھانے پر ریاستی سطح پر مہم چلانے کی بات کی ۔ ریاست کے سبھی مسلمان محمد مرتضی نے اپیل کی کہ اس مہم میں آواز کا ساتھ دیں ۔

TOPPOPULARRECENT