Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ضمانت روزگار اسکیم کو زرعی شعبہ سے مربوط کرنا ضروری

ضمانت روزگار اسکیم کو زرعی شعبہ سے مربوط کرنا ضروری

نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کے تیسرے اجلاس سے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کا خطاب
حیدرآباد 23 اپریل ( پی ٹی آئی ) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے آج کہا کہ قومی سطح پر قومی ضمانت روزگار اسکیم کو زرعی سرگرمیوں سے مربوط کرنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ اس شعبہ میں لیبر کی شدید قلت پائی جاتی ہے ۔ نئی دہلی میں نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل کے تیسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ اگر اس تجویز پر عمل آوری کی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف کسانوں کو بروقت زرعی کام کاج آگے بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ اس کے نتیجہ میں سماج کے پسماندہ طبقات کو روزگار فراہم کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔ چندر شیکھ رراؤ نے کہا کہ کسانوں میں یہ شور ہے کہ اس شعبہ میں مزدوروں کی قلت ہے ۔ قومی ضمانت روزگار اسکیم کو مزید موثر بنانے کیلئے اور زرعی کاموں کے ذریعہ پیداوار میں اضافہ کرنے کیلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ضمانت روزگار اسکیم کو زرعی کاموں سے مربوط کردیا جائے اور زرعی شعبہ میں کام کاج کو اس اسکیم کے تحت انجام دینے کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک تجویز یہ ہے کہ زرعی شعبہ میں غیر منظم ورکرس کی پچاس فیصد اجرتیں قومی ضمانت روزگار اسکیم سے ادا کی جائیں اور پچاس فیصد اجرت متعلقہ کسان ادا کرے ۔ یہ تجویز ان ریاستوں کیلئے ہونی چاہئے جو اس طریقہ کار کو قبول کرنے تیار ہوں۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ آئندہ پانچ سال میں کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ سارے ملک کو دو حصوں میں فوری طور پر تقسیم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ یہ تقسیم مخصوص فصلوں اور زرعی ماحول کے مطابق علاقوں کی بنیاد پر ہونی چاہئے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ کو بحران سے نکالنے اور زرعی شعبہ میں دوبارہ جان ڈالنے کیلئے کئی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ایسی روایتی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دیہی علاقوں کی معیشت کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT