Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ضمنی انتخابات : بی جے پی 5 اور کانگریس کو 3 نشستوں پر کامیابی

ضمنی انتخابات : بی جے پی 5 اور کانگریس کو 3 نشستوں پر کامیابی

ٹی ایم سی اور جے ایم ایم کی ایک ایک نشست پر کامیابی، دہلی میں عام آدمی پارٹی کو ہزیمت ‘ ضمانت بھی ضبط ہوگئی
نئی دہلی 13 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام )  ملک کی 7 ریاستوں اور دہلی میں ہوئے ضمنی انتخابات میں 10 کے منجملہ بی جے پی نے 5 پر کامیابی حاصل کی۔ 3 نشستوں پر کانگریس کو کامیابی ملی جبکہ ٹی ایم سی اور جے ایم ایم نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ۔ بی جے پی نے جن 5 نشستوں پر حاصل کی وہاں 3 پر اس نے اپنا قبضہ برقرار رکھا جبکہ مابقی 2 نشستیں اس نے دہلی میں عام آدمی پارٹی اور راجستھان میں بی ایس پی سے حاصل کی ہے ۔ بی جے پی نے مدھیہ پردیش ، ہماچل پردیش اور آسام میں تین اسمبلی نشستوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ۔ کرناٹک میں حکمراں کانگریس نے دو نشستوں پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ۔ اسی طرح مدھیہ پردیش کے ضلع بھینڈ میں اتیر اسمبلی حلقہ پر کانگریس نے 857 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا قبضہ برقرار رکھا ۔ رائے دہی کے دن یہاں تشدد کے واقعات پیش آئے تھے ۔ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس نے کانتی دکشن پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ۔  کانگریس کیلئے بھی کچھ اچھی خبر یہ ہے کہ اس نے کرناٹک میں دونوں اسمبلی نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ اتوار کو ملک کی سات ریاستوں کے نو اسمبلی حلقوں کیلئے ضمنی انتخاب ہوا تھا ۔ اسی وقت سرینگر لوک سبھا حلقہ کیلئے بھی ووٹ ڈالے گئے تھے ۔ جن نو اسمبلی حلقوں کیلئے ووٹ ڈالے گئے تھے

ان میں کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں دو دو اور مغربی بنگال ‘ راجستھان ‘ آسام ‘ ہماچل پردیش اور دہلی کی ایک ایک نشست شامل تھی ۔ دہلی کے راجوری گارڈن حلقہ سے بی جے پی کی کامیابی اس کیلئے در اصل یہاں ہونے والے بلدی انتخابات سے قبل اچھی خبر ہے ۔ بی جے پی نے راجوری گارڈن حلقہ کے ضمنی انتخاب میں شاندار کامیابی حاصل کی جہاں برسر اقتدار عام آدمی پارٹی کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور یہاں اس کی ضمانت بھی نہیں بچ پائی ہے ۔ بی جے پی ۔ شرمنی اکالی دل کے امیدوار منجیندر سنگھ سرسہ نے 40,602 ووٹ حاصل کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرلی جبکہ کانگریس کی میناکشی چنڈیلا 25,950 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں۔ عام آدمی پارٹی کے ہرجیت سنگھ کو صرف 10,243 ووٹ حاصل ہوئے ۔ ان کی ضمانت نہیں بچ پائی ہے ۔ مدھیہ پردیش میں بی جے پی نے بندھوگڑھ اسملی حلقہ پر اپنا قبضہ برقرار رکھا ہے اور اس نے کانگریس کے امیدوار کو 25 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دیدی جبکہ آٹیر میں کانگریس اور بی جے پی میں کانٹے کا مقابلہ ہوا ۔ بی جے پی امیدوار شیو نارائن سنگھ نے کانگریس کی ساوتری سنگھ کو شکست دیدی ۔ یہاں ضمنی انتخاب بی جے پی رکن گیان سنگھ کے لوک سبھا کیلئے انتخاب کی وجہ سے ضروری ہوا تھا ۔ ہماچل پردیش میں بی جے پی امیدوار ڈاکٹر انیل دھیمان نے بھرونج حلقہ سے 8,290 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ۔

یہاں بی جے پی کے سینئر لیڈر ایشور داس دھیمان کے انتقال کی وجہ سے ضمنی انتخاب کروایا گیا تھا ۔ 68 رکنی ہماچل اسمبلی میں اب بی جے پی ارکان کی تعداد 28 ہوگئی ہے ۔ آسام میں بھی پارٹی امیدوار رانوج پیگو نے دھیماجیح حلقہ اسمبلی سے کانگریس امیدوار بابل سونوال کو 9.285 ووٹوں سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی ۔ یہاں بی جے پی رکن اسمبلی پردھان برواہ کے لوک سبھا کیلئے انتخاب کی وجہ سے ضمنی انتخاب ضروری ہوا تھا ۔ کرناٹک میں تاہم برسر اقتدار کانگریس نے ننجاگڈ اور گنڈلو پیٹ اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ کانگریس امیدوار کے این کیشومورتی نے نے ننجن گڈ حلقہ بی جے پی کے سرینواس پرساد کو 21,000 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی ۔ گنڈلو پیٹ میں کانگریس کی گیتا مہادیو پرساد نے بی جے پی کے سی ایس نرنجن کمار کو 10 ہزار ووٹوں کے فرق سے شکست دی ۔ دونوں نشستوں پر پہلے سے کانگریس کا قبضہ تھا ۔ اب جبکہ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کیلئے ایک سال سے بھی کم وقت رہ گیا ہے یہاں دونوں جماعتوں نے ضمنی انتخاب کیلئے سخت محنت کی تھی ۔ گنڈلو پیٹ میں ریاستی وزیر امداد باہمی مہادیو پرساد کے انتقال کی وجہ سے ضمنی انتخاب ہوا تھا ۔ ننجن گڈ میں کانگریس کرن اسمبلی سرینواس پرساد نے استعفی دے دیا تھا جس کے بعد یہ انتخاب ہوا اور کیشو مورتی نے یہاں سے کامیابی حاصل کی ۔

 

ضمنی انتخاب میں بی جے پی کی کامیابی متاثر کن ‘ مودی
نئی دہلی 13 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج مختلف ریاستوں کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کو متاثر کن قررا دیا ہے ۔ انہوں نے عوام سے ترقی اور بہتر حکمرانی کی سیاست میں یقین ظاہر کرنے پر اظہار تشکر بھی کیا ہے ۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ بی جے پی اور این ڈی اے نے مختلف ریاستوں میں ہوئے ضمنی انتخابات میں متاثر کن کامیابی حاصل کی ہے ۔ وہ پارٹی کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان عوام سے بھی اظہار تشکر کرتے ہیں جنہوں نے ترقی اور بہتر حکمرانی کی سیاست میں اپنے یقین کا اظہار کیا ہے ۔
ان حلقوں میں اتوار کو رائے دہی ہوئی تھی اور آج نتائج سامنے آئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT