Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / طارق فتح کو دہلی میں برہم نوجوانوں نے مار پیٹ کی

طارق فتح کو دہلی میں برہم نوجوانوں نے مار پیٹ کی

نئی دہلی۔/21فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی نژاد مصنف طارق فتح جو اب کنیڈا کا شہری ہے اسے گذشتہ روز دارالحکومت کے قلب میں منعقدہ ایک اردو فیسٹیول کے دوران ہجوم نے دھکم پیل اور حملے کا نشانہ بنایا۔ 67سالہ طارق نے کہا کہ تقریباً 100جنونی افراد جن میں زیادہ تر نوجوان تھے ان کے ہجوم نے حملہ کردیا یہاں تک کہ ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے وہاں پہنچ کر معاملہ قابو میں کیا۔ آزاد خیال طارق مسلم کنیڈین کانگریس کا بانی بھی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اتوار کی رات جن پتھ میں جشن ریختہ میں شرکت کیلئے مہمان کے طور پر گیا تھا کہ یکایک حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ طارق نے ایک ٹوئیٹ میں بتایا کہ وہ 67سالہ شخص ہوتے ہوئے 20 سالہ اردو جہادیوں کا مقابلہ کرنے پر مطمئن ہے، جو مجھ پر دیوانہ وار ٹوٹ پڑے تھے۔ وہ مجھے وزیر اعظم نریندر مودی کا کتا کہتے ہوئے چلا رہے تھے۔ اس تمام گڑبڑ کے باوجود طارق  نے وہاں سے چلے جانے سے انکار کیا۔ طارق نے بتایا کہ اسے ہجوم نے پیچھے سے حملہ کرتے ہوئے گھونسے لاتیں رسید کئے۔ کنیڈا کے شہری کا الزام ہے کہ پولیس نے اسے بچانے کی بجائے خود انہیں زدوکوب کیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے ہجوم بے چین ہوگیا اور ماحول بگڑ گیا اس لئے انہیں وہاں سے فوری چلے جانا چاہیئے۔ پولیس والوں نے انہیں زبردستی وہاں سے لے جانے کی کوشش بھی کی لیکن وہ اپنی نشست پر تقریباً دو گھنٹے ڈٹ کر بیٹھا رہا۔ یہاں تک کہ سینئر آفیسر نے آکر اپنے ڈپارٹمنٹ والوں کے رویہ پر معذرت خواہی کی اور طارق فتح کو وہاں سے ہٹایا۔طارق نے منتظمین کو انہیں یکا و تنہا چھوڑدینے کا مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ انہوں نے ہی ہجوم کو اُکسا کر حملہ کرایا ہوگا۔ منتظمین کے ترجمان نے بتایا کہ ہمارا غیر سیاسی ایونٹ رہا۔ ہمارے پاس چھوٹی سی ٹیم ہے اور والینٹرس اپنے پروگرام کی مصروفیت میں تھے۔ جب ہم نے حالات بگڑتے دیکھے تو پولیس کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ طارق فتح کو سیکورٹی فراہم کی جاسکے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT