Wednesday , September 20 2017
Home / اداریہ / طاقتور اقتدار

طاقتور اقتدار

 

 

میری جانب یہ کس کی توجہ ہوئی
کیا تھی یہ زندگی اور کیا بن گئی
طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے دستوری بنچ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ اس موضوع پر مختلف گوشوں میں یہی بحث جاری ہے کہ فیصلہ کیا ہوگا۔ ہر کوئی  اپنی دانش کے مطابق رائے ظاہر کررہا ہے۔ طلاق ثلاثہ پر فیصلہ کو محفوظ رکھنے کیلئے ججوں نے قانونی حکمت سے کام لیا ہے یا دستوری مسئلہ پر غور کرنا شروع کیا ہے۔ آئین کی حکمرانی کا خواب ہر ہندوستانی کا خواب ہے مگر یہ خواب پورا نہیں ہوسکتا جب ملک فرقہ پرستوں کے نرغے میں ہو تو آئینی اور جمہوری ادوار میں عوام الناس کو ان کا حق نہیں مل سکتا۔ جب تک ملک کے ہر طبقہ کو ان کا حق نہیں مل جاتا اس وقت تک آئین کی حکمرانی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ برسوں سے جن پارٹیوں نے مسلمانوں کو صرف ووٹ بنک بناکر رکھا تھا، انہوں نے آئینی حقوق سے بھی محروم رکھا۔ اب تک کی حکومتوں نے آئین کو کس طرح پامال کیا ہے یہ تاریخ شاہد ہے حکومتوں کو راہ دکھانے کیلئے ہندوستان کی اعلیٰ ترین عدالتیں موجود ہیں۔ ان کی خدمات حاصل کرنے میں بھی حکمرانوں نے اپنے مطلب کی دکان سجائی ہے تو پھر مسلم قوانین کے حق میں آواز اٹھانے والی طاقتیں ان ہی سیاسی راہ داریوں سے اٹھیں گی۔ آج سپریم کورٹ اور سماج کے مختلف گوشوں میں صرف طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کو گرماگرم بحث کا موضوع بنایا گیا ہے۔ بلاشبہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک آئینی ادارہ نہیں ہے لیکن شریعت کیلئے مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والا مستحکم ادارہ ہے۔ مسلمانوں کو سیاسی اور سماجی طور پر کمزور کرنے سے ان کی اہمیت گھٹ جانے کا گمان رکھنے والی سیاسی جماعت نے اپنے فرقہ پرستانہ منصوبوں کو مختلف موقعوں پر روبہ عمل لایا ہے۔ بابری مسجد شہادت اور گجرات فسادات کے بعد اس پارٹی کو احساس ہوا کہ اگر اس نے فرقہ پرستانہ سوچ کے ذریعہ سیاسی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرے گی تو اس میں کامیابی نہیں ملے گی۔ لہٰذا 1992ء میں ایودھیا میں بابری مسجد شہادت کے بعد سے اقتدار سے محروم پارٹی نے اپنی  حکمت عملی اور فرقہ پرستانہ پالیسی میں تبدیلی لائی۔ ایک تیر سے دو شکار کرنے کی منصوبہ بندی کے طور پر مسلم خواتین کے طلاق ثلاثہ کا مسئلہ اٹھایا۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست یوپی میں مسلم ووٹ کی طاقت کو بکھیر کر رکھ دیا اور مسلم ووٹ کی اہمیت بھی یکسر گھٹا دی گئی۔ تشہیری حربے نے کام کر دکھایا۔ اس طرح مرکزی حکمراں پارٹی نے سیکولر پارٹیوں کو ان کے گڑھ والے حلقوں اور کامیابی کیلئے یقینی سمجھے جانے والے علاقوں میں مسلم طبقہ کو خود ان کے سیاسی لیڈروں کے ذریعہ منتشر کرانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ عین یوپی انتخابات کے وقت طلاق ثلاثہ کا مسئلہ شدت سے اٹھایا گیا۔ ہر چاہ اسی کو موضوع بنانے کامقصد آج سیاسی طاقت کی حامل ایک قومی جماعتی نظریہ کو کامیاب بنانا تھا۔ ملک میں اپوزیشن نام کی چیز کو ہی ختم کردینے کی غرض سے فرقہ پرستوں نے منظم طریقہ سے سیاسی حکمت عملی اختیار کرلی اور اس میں ان تمام کو پھانسنے کا عمل شروع کیا جو لالچ میں آ کر دھوکہ دہی کا آسانی سے شکار ہوتے ہیں۔ یکساں سیول کوڈ کا زور دینے والوں نے جب مسلم  خواتین کے طلاق ثلاثہ پر شدت سے توجہ دی تو یہاں مسلم سماج نشانہ پر رہا۔ مسلم ماؤں اور بہنوں کیلئے آنسو بہانے والے اقتدار کے ذمہ داران خود اپنی زندگی میں خواتین کے ساتھ انصاف نہیں کرسکے۔ مسلم خواتین کو بااختیار بنانے کی بات کرنے والے خود اپنے طبقہ کی خواتین کے ساتھ امتیازات کے معاملہ کو ختم کرنے میں ناکام ہیں۔ مذہبی عقیدہ کا معاملہ جب عدالتوں تک پہنچایا جاتا ہے تو اس میں گہری سازش ہی ہوتی ہے۔ فرقہ پرست تنظیمیں اپنے مذہبی عقائد پر قائم رہنے کو حق بجانب قرار دیتی ہیں اور جب یہی عقیدہ مسلم طبقہ کے بارے میں ہوتا ہے تو اپنے دوہرے معیار کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ فرقہ پرست تنظیموں کو اقتدار کی طاقت ملنے کے بعد یکطرفہ اقدامات میں تیزی پیدا ہونا کوئی حیران کن بات نہیں البتہ یہ تشویش کا معاملہ ہے۔ ہندو عقیدہ کے حوالے سے جب کچھ امور اور باتوں میں تنازعہ قرار دیا جاتا ہے تو اس پر چراغ پا ہوجانے والی تنظیمیں مسلم عقیدہ کو ضرب پہنچانے کیلئے دستور کا سہارا لینے کی کوشش کرتی ہیں۔ جس دستور یا آئین میں یکساں حقوق کی بات واضح ہے تو اس پر توجہ نہیں دی جاتی۔ جب عقیدہ کا مسئلہ سامنے آتا ہے تو اس کو آئین کی نظر سے دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس منظم سازش میں آج مسلم خواتین کو طلاق ثلاثہ کے عنوان سے نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جس ملک میں انصاف کے حصول کا معیار دوہرے پن کا شکار بنادیا جارہا ہے تو مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردیاں بھی گھناؤنی سازش کا حصہ معلوم ہوں گی۔ افضل گرو سے یعقوب میمن اور سوامی اسیمانند سے سادھوی پرگیہ کے کیسوں کا جائزہ لیا جائے تو سارا معاملہ آشکار ہوگا۔
جی ایس ٹی : کہیں خوشی کہیں غم
گڈس اینڈ سرویس ٹیکس پر عمل آوری ملک کی بہت بڑی آبادی کیلئے خوشخبری لاسکتی ہے۔ 1211 اشیاء پر ٹیکس شرحوں کو قطعیت دیئے جانے کے بعد ہندوستان کے سب سے بڑے ٹیکس اصلاحات کا عمل یکم ؍ جولائی سے شروع ہوگا اور عوام کو 81 اشیاء پر یکساں ٹیکس ادا کرنا ہوگا یا پھر کم سے کم 18 فیصد ٹیکس نافذ ہوگا۔ ہندوستان کو ایک متحد مارکٹ بنانے کی کوشش میں وزارت فینانس کا یہ جی ایس ٹی منصوبہ کچھ شعبوں کو راحت تو کچھ کو نقصان دہ بنادے گا۔ صارفین کی بڑی تعداد کیلئے جی ایس ٹی ایک دھماکہ سے کم بھی نہیں ہوگا کیونکہ ٹیلی ویژن، ریفریجریٹرس اور ایرکنڈیشن مہنگے ہوں گے۔ کمپنیاں ہمیشہ ہی سے ان پر عائد ہونے والا ٹیکس کا بوجھ صارفین اور خریداروں کی جیب ہلکی کرکے کم کرلیتی ہیں۔ مواصلات کی سرویس بھی مہنگی بنادی جارہی ہے جبکہ ملک میں قرض کے بوجھ سے دبی ٹیلیکام صنعتوں نے راحت پیاکیج کی اپیل کی ہے اور انہوں نے نئے ٹیکس شرح پر مایوسی کا بھی اظہار کیا ہے۔ اگرچیکہ مرکز اور اس کے ماہرین نے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس ملک کی جی ڈی پی (GDP) میں 2 تا 2.5 فیصد کے اضافہ کی توقع ظاہر کی اور اس سے ملک میں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی بھی امید کی ہے ملک کے بالواسطہ ٹیکس نظام میں شفافیت لانے کیلئے جی ایس ٹی کو نافذ کیا جارہا ہے مگر اس قانون پر مناسب طور پر عمل آوری کو یقینی بنانے میں حکومت کس حد تک کامیاب ہوگی یہ وقت ہی بتائے گا۔ ملک کی بڑی صنعتیں یا بڑے بیوپاریوں کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا مگر ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ حکومت نے ان ہی بڑے تاجرین کی منفعت کو ذہن میں رکھ کر جی ایس ٹی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ملک میں چھوٹے بیوپاری اور چھوٹے صنعتکاروں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کے لئے یہ جی ایس ٹی اندیشہ کا باعث بن سکتا ہے۔ نوٹ بندی کے بعد ملک کا سیاحتی شعبہ بری طرح متاثر ہے۔ اب جی ایس ٹی نے اس کے زوال کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کاکام کیا تو بیرونی سیاحوں کی تعداد مزید گھٹ جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT