Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / ’ طاق و جفت اسکیم کیلئے کیا ایک ہفتہ کافی نہیں ہے‘ :عدالت

’ طاق و جفت اسکیم کیلئے کیا ایک ہفتہ کافی نہیں ہے‘ :عدالت

نئی دہلی۔6جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی ہائیکورٹ نے ٹریفک کے گذر کیلئے طاق و جفت تجربہ میں ناکافی سرکاری ٹرانسپورٹ کے سبب عوام کو ہونے والی دشواریوں کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی کی عآپ حکومت سے کہا ہے کہ وہ اپنے منصوبہ کے مطابق مقررہ 15دن کے بجائے ایک ہفتہ کیلئے ایسی ٹریفک تحدات عائد کرنے کے متبادل اقدام پر غور کرے ۔ اس اسکیم پر عمل آوری کے موقف پر حکومت کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ کو عدالت نے مبہم اور غیر واضح قرار دیا اور ڈیزل و سی این جی سے چلنے والی ان ٹیکیسوں سے پیدا ہونے والی آلودگی سے متعلق معلومات طلب کی ‘ جنہیں طاق و جفت اسکیم کے تحت تحدیدات میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔ عدالت نے یکم تا 7جنوری اس اسکیم کے پہلے ہفتہ کی مدت کے دوران آلودگی کی سطح میں رونما تبدیلیوں سے بھی عدالت کو واقف کروائے ۔ چیف جسٹس جی روہن اور جسٹس جئینت ناتھ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ آپ( حکومت) کو اس پر سوچنا چاہیئے ۔ موقف پر مبنی اپ کی رپورٹ مبہم اور مشکوک ہے جس میں ( تفصیلات کا ) زیادہ انکشاف نہیں کیا گیا ہے ۔ پھر خاطرخواہ عوامی ٹرانسپورٹ بھی نہیں ہے ۔ کیا واقعی یہ ضروری ہے کہ 15دن کیلئے تحدیدات عائد کی جائیں ‘‘ بنچ نے استفسار کیا ’’ کیا آپ کیلئے یہ چھ دن کافی نہیں ہیں ؟ ہم نے حکومت کو ایک ہفتہ کیلئے یہ اسکیم چلانے کی اجازت دی تھی ۔ اس دوران وہ شہر میں آلودگی کی سطح کی تفصیلات بھی جمع کریں ‘‘ ۔ بنچ نے اس اسکیم پر عمل آوری ’’ عملی شواری‘‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ آپٖ ( حکومت دہلی) کو چاہیئے کہ وہ عوام کو ہونے والی دشواریوں کے بارے میں سوچے ‘‘۔اسکیم کے خلاف کئی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ وہ حکومت کی پالیسیوں میں مداخلت نہیں کرتی لیکن حکومت کو اس کے بارے میں سوچنا چاہیئے ۔

TOPPOPULARRECENT