Saturday , July 22 2017
Home / دنیا / طالبان حملہ کے بعد برہم افغان عوام کا استعفوں کا مطالبہ

طالبان حملہ کے بعد برہم افغان عوام کا استعفوں کا مطالبہ

ملک گیر سطح پر قومی سوگ کا اعلان ‘ داخلی افراد کی طالبان سے سازش کا شبہ ‘امریکی تجزیہ نگار کی رائے

مزار شریف ۔23اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) افغانستان میں آج 100سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکت کے بعد قومی سوگ کا اعلان کیا ہے ۔ فوجی اڈے پر طالبان نے یہ حملہ کیا تھا جس کے بعد برہم عوام نے وزراء اور سربراہ فوج سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ شمالی افغان صوبہ بلخ میں مہلوکین کی درست تعداد ہنوز نامعلوم ہیں ۔ بعض مقامی عہدیداروں نے ہلاکتوں کی تعداد 130 ظاہر کی ہے ۔ حملہ جو طالبان کا کسی فوجی اڈے پر اب تک کا مہلک ترین حملہ تھا ۔  15سال میں ان کی بڑھتی ہوئی طاقت کا اظہار ہے ۔ وزارت دفاع نے کہا کہ 100سے زیادہ فوجی ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں ۔ ان اخباری اطلاعات کو نظرانداز کردیا گیا جن میں پانچ گھنٹہ طویل حملہ کے بعد جو صوبائی دارالحکومت مزار شریف قائم ایک فوجی اڈہ پر کیا گیا تھا ۔ ہلاکتوں کی درست تعدادہنوز واضح نہیں ہوسکی ۔ تاہم بعض مقامی عہدیداروں بشمول محمد ابراہیم خیراندیش سربراہ صوبائی کونسل نے ہلاکتوں کی تعداد 130 اور زخمیوں کی 60ظاہر کی ہے ۔ 10بندوق بردار فوجی وردیوں میں اور خودکش جیکٹیں پہنیں ہوئے فوجی لاریوں کے ذریعہ فوجی اڈہ میں داخل ہوئے اور انہوں نے قریبی فاصلہ سے فوجی اڈہ کی مسجد اور کھانے کے کمرے میں موجود فوجیوں پر اندھا دھند فائرنگ کردیں ۔

افغان عوام نے ملک کے عدم استحکام اور مسلسل مہلک طالبان حملوں کی بناء پر حکومت کی ناکامی پر برہمی ظاہر کی ہے اور اسے ملک کے عدم استحکام کا ذمہ دار ظاہر کیا ہے ۔ کابل میں گذشتہ مارچ میں ایک فوجی دواخانہ پر طالبان حملہ کیا گیا تھا جس سے کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ ایک صارف ذبیح اللہ نے فیس بک کے اپنے صفحہ پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ میں اپنے بیٹوں سے بہنیں اپنے بھائیوں سے اور بیویاں اپنے شوہروں سے محروم ہوگئیں ۔ حکومت ایسے مظالم کو روکنے کیلئے کیا کررہی ہے ۔ صرف مذمت ؟ ہم تھک چکے ہیں ۔ رونے سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتے ۔ ان تمام کا احترام کرنے کا بہترین طریقہ فائرنگ ہے ‘ ان لوگوں کو سزا دینی چاہیئے جو اپنے فرائض کی انجام دہی سے قاصر رہے اور دشمنوں کے ساتھ تعاون کیا ۔ بعض قائدین کو استعفے دے دینے چاہیئے ‘ کئی افراد نے وزیر دفاع عبداللہ حبیبی اور 209 ویں کور کے سربراہ سے جو فوجی اڈے پر تعینات ہیں استعفی کا مطالبہ کیا ہے ۔ مایوسی کے عالم میں کی ہوئی یہ کوئی کارروائی نہیں تھی ۔ طالبان افغان فوجی اڈے میں داخل ہوگئے ۔ یہ ان کی بڑھتی ہوئی طاقت کی علامت ہے ۔ واشنگٹن میں مقیم ایک تجزیہ نگار مائیکل کوگل میان نے اپنے ٹوئیٹر پر تبصرہ شائع کرتے ہوئے کہا کہ فوجی ذرائع کے بموجب اڈے پر حملہ میں کسی داخلی شخص کا طالبان سے گٹھ جوڑ بھی تھا ۔ عسکریت پسند نوجوانوں تھے اور غالباً تربیت کیلئے افغانستان میں تھے ۔ افغان فوج اور پولیس کے ملازمین ہلاک کردیئے گئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT