Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / طالبہ کو لڑکوں کے بیت الخلاء کے باہر کھڑا کردیا گیا

طالبہ کو لڑکوں کے بیت الخلاء کے باہر کھڑا کردیا گیا

بی ایچ ای ایل کالونی کے خانگی اسکول میں ٹیچر کا غیر انسانی رویہ ‘ کارروائی کیلئے کے ٹی آر کا تیقن

حیدرآباد ۔ 11ستمبر ( سیاست نیوز) ملک میں رواں ہفتہ کے دوران خانگی اسکولوں میں بدانتظامی کے سبب کمسن بچوں کے بری طرح متاثر ہونے کا لاامتناہی سلسلہ جاری رہا ۔ گڑگاؤں کے ریان انٹرنیشنل اسکول میں سات سالہ بچہ کے بہیمانہ قتل اور دہلی کے ایک اسکول میں پانچ سالہ طالبہ کی عصمت ریزی کے واقعہ کے علاوہ تلنگانہ کے ضلع سنگاریڈی میں ہفتہ کو پانچویں جماعت کی ایک طالبہ کو لڑکوں کے بیت الخلائء کے روبرو کھڑی رہنے کیلئے مجبور کیا گیا ۔ یہ بدبختانہ واقعہ رامچندرا پورم بی ایچ ای ایل کے رہائشی کوارٹرس کے قریب واقع راؤز ہائی اسکول میں ہفتہ کوپیش آیا جس کا انکشاف دوشنبہ کو ہوا جب اس لڑکی کے ارکان خاندان نے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے اسکول کے روبرو احتجاجی دھرنا منظم کیا ‘ جس کے نتیجہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور پولیس نے بروقت اسکول انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔ حکومت نے فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے عہدیداروں کو جلد رپورٹس پیش کرنے کی ہدایت کی ۔تفصیلات کے مطابق جسمانی تعلیم کی ٹیچر پرینکا نے اس لڑکی کو محض اسکول یونیفارم نہ پہننے پر لڑکوں کے بیت الخلاء کے روبرو دن بھر کھڑی رہنے کیلئے مجبور کیا ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ضرورت سے فارغ ہونے والے لڑکوں نے بیت الخلاء کے باہر کھڑی اس کمسن لڑکی کو دیکھ کر اس پر ہنس رہے تھے اور فقرے کستے ہوئے مذاق اڑا رہے تھے ۔ لڑکی نے اس کے ساتھ اختیار کئے گئے سلوک پر ہفتہ کو اپنے والدین سے شکایت کی تھی اور آج اسکول کھلنے کا انتظار کررہے تھے ۔ اس واقعہ کی مختلف گوشوں سے مذمت کی گئی ہے ۔ ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ نے ٹوئیٹر پر لکھ کر یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز اور غیر انسانی واقعہ سے اسکول کے خلاف مناسب کارروائی کیلئے اس مسئلہ کو ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری سے رجوع کریں گے ۔ کے ٹی راما راؤ کے ٹوئیٹ کے بعد ضلع انتظامیہ بھی سرگرم ہوگیا ۔ تاہم اس ٹیچر نے ان الزامات کی تردید کی اور اخباری نمائندوں سے کہا کہ لڑکی خود لڑکوں کے بیت الخلاء کے قریب کھڑی تھی اور کسی نے بھی اس سے وہاںکھڑے رہنے کیلئے نہیں کہا تھا ۔ لڑکی کے والد نے کہا کہ قبل ازیں تحریری درخواست دی گئی تھی کہ اس لڑکی کو ایک دن کیلئے بغیر یونیفارم کلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT