Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / طبقہ واریت اور جانبداری نے روہت کی جان لے لی : راہول گاندھی

طبقہ واریت اور جانبداری نے روہت کی جان لے لی : راہول گاندھی

تعلیم کے مقدس مقامات پر سیاسی مداخلت بند ہونی چاہئے، نائب صدر کانگریس کا حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب

راہول گاندھی نے روہت کی ماں کو پرسہ دیا
زمین پر بیٹھ کر معطل طلبہ سے بات چیت
تمام خاطیوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ
حیدرآباد /19 جنوری (سیاست نیوز) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے طالب علم روہت کی خودکشی کے لئے مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ، وائس چانسلر یونیورسٹی اور مرکزی حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کے تمام ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دینے، طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لئے نیا قانون بنانے اور متاثرین کے ارکان خاندان کو ایکس گریشیا کے علاوہ سرکاری ملازمت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ راہول گاندھی نے آج اچانک سنٹرل یونیورسٹی پہنچ کر روہت کے والدین، معطل کئے گئے طلبہ اور احتجاجی طلبہ سے ملاقات کی اور روہت کی خودکشی کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انھوں نے معطل طلبہ سے زمین پر بیٹھ کر بات چیت کی اور بعد ازاں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی تعلیم کے حصول کا مقدس مقام ہے، لہذا یونیورسٹی میں ذات پات، طبقہ، مذہب اور علاقہ واریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مگر حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں جانبداری برتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے روہت کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ انھوں نے روہت کی خودکشی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کے مرکزی وزیر بنڈارو دتاتریہ، یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مرکزی حکومت برابر کے ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان لوگوں نے روہت کی توہین کی ہے، جب کہ وہ طلبہ کے خیالات اور احساسات کی پوری طرح تائید کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی ساری یونیورسٹیوں کی یہی صورت حال ہے، جب کہ یونیورسٹیوں میں طلبہ کو اپنے خیالات کے اظہار کی مکمل آزادی ہونی چاہئے۔ انھوں نے طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے روہت کے والدین کو پرسہ دینا بھی مناسب نہیں سمجھا، لہذا ایسے شخص کو وائس چانسلر کے عہدہ پر برقرار رہنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ انھیں یہ اطلاع ملی ہے کہ سیاسی دباؤ کے تحت پانچ طلبہ کو یونیورسٹی سے معطل کیا گیا ہے اور طلبہ کی آواز کو دبانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یونیورسٹیز میں تعلیم کے لئے پرامن ماحول ہونا چاہئے اور سیاسی مداخلت کو فوراً بند کردینا چاہئے۔ انھوں نے روہت کی خودکشی کی ذمہ داری قبول کرنے مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی پر زور دیا اور کہا کہ روہت کے والدین اور یونیورسٹی کے طلبہ کے لئے ان (راہول گاندھی) کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے۔ قبل ازیں راہول گاندھی کے یونیورسٹی کیمپ پہنچتے ہی طلبہ اور کانگریس قائدین نے ان کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر مسرز ڈگ وجے سنگھ، اتم کمار ریڈی، ملو بٹی وکرامارک، کے جانا ریڈی، محمد علی شبیر، خواجہ فخر الدین، سید عظمت اللہ حسینی، انیل کمار یادو، عامر جاوید اور دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر طلبہ نے راہول گاندھی کو فیس بک پر ان کے خلاف کئے گئے کمنٹس سے واقف کروایا، جب کہ راہول گاندھی نے طلبہ کے علاوہ روہت کی والدہ اور ارکان خاندان سے کافی دیر تک بات چیت کی اور انھیں پرسہ دیا۔ اس موقع پر طلبہ ’’بی جے پی ہٹاؤ اور دلت بچاؤ‘‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT