Friday , August 18 2017
Home / مضامین / طبی نظر بندی

طبی نظر بندی

کے این واصف
قارئین کرام !پچھلے تین ہفتے سے ہم ’’نظر بند ‘‘تھے ۔ویسے کسی کو نظر بند کیا جا نا، دو چار سوکروڑ کے اسکام میں جیل بھیج دیا جانا یا کم از کم گھر پر انکم ٹیکس کا دھاوا ہو نا آج کے دور میں اعزاز سمجھا جا تا ہے اور یہ اعزاز ہم جیسے کم نصیبوں کے حصہ میں کہاں ۔ ہم ایسے معزز مجرمین میں شامل ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے  ۔اور اب بچی کچھی تھوڑی سی زندگی میں ایسے کوئی امکان نظر بھی نہیں آتے ۔ ہم نظر بند ضرور رہے مگر ہماری نظر بندی کچھ مختلف تھی جسے ہم نے ’’طبی نظر بندی ‘‘ کا نام دیا ہے ۔بڑے سیا سی  قائدین یا اقتدار اعلی کی منصبوں پر فائز رہیں شخصیات پر عائد کی گئی نظر بندی میں وہ لوگ صرف اپنی قیامگاہ میں مقید کر دیئے جاتے ہیں مگر وہ اپنے گھر میں جو چاہے کر سکتے ہیں ۔ صرف انہیں گھر سے باہر کی دنیا سے منقطع کر دیا جاتا ہے ۔ ہم کسی مجرمانہ سر گرمی کی پاداش میں نظر بند نہیں تھے اس لئے ہم پر گھر آئے مہمانوں سے ملنے کی پابندی نہیں تھی ۔مگر ہم پر زندگی کے دیگر معمولات یا مشاغل درونِ خانہ انجام دہی پر مکمل پابندی عائد تھی ۔جیسے لکھنا پڑھنا ،ٹی وی دیکھنا ،کمپیوٹر کا استعمال وغیرہ غیرہ ۔اور ان ساری پابندیوں پر ایک اور پابندی یہ تھی کہ آنکھوں پر گہرا کالا چشمہ لگائے رکھے ۔بہر حال تین ہفتے تک ہم موسیقار رویندر جین یا تمل ناڈو کے سیاسی قائد وسابق چیف منسٹر ایم  جی رامچندرن کا روپ دھارے گھر پر بیٹھے رہے ۔یعنی ہماری نظر بندی بطوراستعارہ نہیں بلکہ حقیقتاً تھی ۔کیونکہ ہم تھوڑے تھوڑے وقفے سے آنکھوں میں دوا کے قطرے ڈلواکر آنکھیں بند کئے لیٹے رہتے یا پھر آنکھوں پر کا لا چشمہ چڑھا کر اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی کو تاریک یا نیم تاریک کر لیتے ۔آنکھوں میں   CATARACTاتر جانا آج کل ایک عام بیماری ہے ۔شاید اسی کو پرانے وقتوں میں ’’موتیا‘‘اتر نا کہتے تھے ۔موتی برسنا ،موتی رولنا یا کسی شہنشاہ ِ وقت کو خوشخبری سنا نے پر موتیوں سے منہ بھر نا کہاوتیں ہیں ۔ہمارے گھر نہ موتی بر سے نہ کسی نے موتیوں سے منہ بھرا بس آنکھوں میں موتیا اترا ۔مگر ہم ہر حال میں رب الارباب کے شاکر وممنون ہیں ۔ جس حال میں رکھے ۔

جیسا کہ ہم نے بتایا ہماری آنکھوں میں  CATARACTاتر آیا تھا جس سے ہماری ایک آنکھ کی روشنی تقریباً ختم ہو گئی تھی ۔کیونکہ حید رآباد امراضِ چشم کے علاج کے لئے ہندوستان کا ایک اہم سنٹر مانا جاتا ہے اس لئے ہم اپنے علاج کے لئے اپنے شہر حید رآباد تین ہفتے قبل پہنچے ہم ابھی اسی جستجو میں لگے تھے کہ کس دواخانے یا ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے ۔حید رآباد میں آنکھوں کے علاج کے لئے بڑے نامور ہسپتال اور طبیب موجود ہیں ۔ہم ابھی اپنے بجٹ میں بیٹھنے والے ہسپتال کے بارے میں غور وخوض میں لگے ہی تھے کہ ایک شام ہمارے قلب اور مکان سے قریب رہنے والے معروف مزاح نگار جناب مجتبی حسین ہمارے گھر تشریف لائے ۔ مجتبی حسین  صاحب نہ صرف شہر کے بڑے اسپیشلسٹ ڈاکٹر ز کو شخصی طور پر جانتے ہیں بلکہ کئی امراض صغیرہ وکبیرہ کا شخصی تجربہ بھی رکھتے ہیں ۔جیسے ہی ہم نے ان سے ذکر کیا کہ ہم اپنی آنکھ کے آپریشن کے سلسلے میں حیدرآباد آئے ہوئے ہیں تو فوراً  چائے کی کپ میز پر رکھی، جیب سے موبائیل فون نکالتے ہوئے کہا کہ ہم شہر کے ایک ماہر امراض چشم کو جانتے ہیں بلکہ کچھ عرصہ قبل خود میں اور ہماری بیگم کا آپریشن انہی کے ہاتھوں ہوا ہے ۔اور فوراً آنکھوں کے معروف ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی سے رابطہ کر کے ان سے ہمارا   Appointment مقرر کر وادیا ۔ہم نے مجتبی حسین اور ان کی بیگم کے آپریشن ایک ساتھ ہونے کی بات پر ان سے سوال کیا کہ کیا آج کل ہسپتالوں میں بھی ’’ایک کی قیمت ادا کر و اور ایک مفت پائو ‘‘( Buy One Get One Free) والی اسکیم چل رہی ہے ؟ اس پر مجتبی بھائی مسکرائے مگر کچھ کہا نہیں بس چند لمحے خاموشی سے چھت کی طرف دیکھتے رہے ہمیں لگا کہ وہ اپنی خاموشی کی زبان میں کہہ رہے ہیں ہم ایک جہاں دیدہ شخص ہیں تو ہماری بیگم بھی ہمارے ہم پلہ ہی ہیں۔ہم دونوں نے زندگی کے اس لمبے سفر میں مشکلوں کی کڑی دھوپ اور راحتوں کی چاندنی ایک ساتھ دیکھی ہے ۔زندگی کے نشیب وفراز میں ہم قدم رہے ہیں ۔ہمارے نظریات جداگانہ ہوں تو ہوں، ہماری بصیرت میں فرق ہو تو ہو مگر زمانے کے منظر پر ہماری نگاہیں یکسا ں رہیں لہذا ہماری آنکھوں پر CATRATESکے پر دے بھی شاید ایک ساتھ آئے ۔
مجتبی حسین صاحب کے بارے میں بہت سے قلمکاروں نے مضامین لکھے۔ ان کی شخصیت اور فن کے ایک ایک پہلو کو اجاگر کیا، مگر ان کے ایک خاص وصف کا ذکر کسی تحریر میں کم از کم ہماری نظر سے نہیں گزرا ،وہ ہے ان کا لوگوں کی بے غرض مدد کرنا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی انسان میں اپنے ہم نفسوں کی مدد کے جذبے سے اچھا جذبہ کچھ اور نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ جذبہ مجتبی بھا ئی کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ وہ نہ صرف مدد طلب کر نے والوں کی فراخ دلی سے مدد کر تے ہیں بلکہ وہ لوگوں کی بے طلب بھی مدد کرتے ہیں ۔یعنی اگر انہیں کسی اور ذریعہ سے پتہ چل جائے کہ ان کے کسی جاننے والے شخص کو فلاں کام میں مدد درکار ہے تو وہ سب سے پہلے اپنے رابطوں کی زنبیل میں ٹٹولیں گے پھر اس شخص سے خود رابطہ کریں گے جسے مدد درکار ہے اور حتی المقدور اس کی مدد کریں گے ۔وہ ایک رقیق القلب انسان ہیں ۔ان کی اس انسان دوستی کے وصف نے ہم ’’کم بینا‘‘ انسان کا ہاتھ پکڑا اور ہمیں معروف ماہر چشم ڈاکٹر سکندر علی خان لودھی تک پہنچادیا ۔

بڑے اور اچھے ڈاکٹرز عام طور پر تند خو اور چڑ چڑے ہوتے ہیں ۔مگر ڈاکٹر سکندر لودھی ایک معروف اور مصروف ترین ڈاکٹر ہونے کے باوجود بڑے خوش مزاج اور بذلہ سنج انسان واقع ہوئے ہیں ان سے ملنے کے بعد ہمارے ذہن میں آیا کہ آنکھوں کے ڈاکٹر سکندر لودھی کا نام تو ’’قرۃ العین لودھی ‘‘ہونا چاہئے تھا کیونکہ مریض کو ان سے ملتے ہی دکھتی آنکھوں میں ٹھنڈک محسوس ہونے لگتی ہے ۔  ڈاکٹر کتنا ہی بڑا نباض اور اپنے میدان کا ماہر ہو، اگر وہ ساتھ ساتھ خوش مزاج اور خوش گفتار ہو تو مریض کو علاج سے قبل ہی آدھی شفا حاصل ہوجاتی ہے ۔یہاں ہمیں ایک لطیفہ یاد آرہا ہے ۔آپ بھی سن لیں۔ایک صاحب آنکھوں کے ڈاکٹر کے پاس گئے اور کہا ڈاکٹر صاحب میں آنکھوں کی ایک عجیب وغریب بیماری میں مبتلا ہوں ۔ڈاکٹر نے پوری کیفیت بیان کر نے کو کہا،تو مریض نے بتا یا کہ ڈاکٹر صاحب مجھے آنکھیں بند کرنے کے بعد کچھ نظر نہیں آتا ۔اور دیوار کے پیچھے کی کوئی چیز بالکل نظر نہیں آتی ۔ڈاکٹر بھی بڑا خوش مزاج اور حاضر جواب تھا ،اس نے کہا تشویش کی کوئی بات نہیں آپ جلد ٹھیک ہوجائیں گے ۔میں دوا لکھ رہا ہوں۔ آپ ایک ہفتہ تک ایک گولی سونے کے بعد اور ایک گولی جاگنے سے قبل لیں انشاء اللہ جلد شفا ہوجائیگی ۔

بہر حال کچھ ضروری طبی امتحانات کے بعد ہم آپریشن تھیٹر تک پہنچ گئے ۔ہمیں Sterilized کپڑے اور ٹوپی پہناکر قطار میں بٹھادیا گیا ۔ مگر ہم نے اس موقع پر سلفی نہیں بنائی جب کہ سلفی لوگ موقع بے موقع بناتے ہیں ۔بلکہ یہ بھی سنا ہے کہ اب لوگ جنازوں میں شریک ہوتے ہیں تو میت کے ساتھ بھی سلفی بنانے لگے ہیں ۔ہم خود ایک فوٹو گرافر ہیں ۔VIP اور VVIPs کے گر د گھومتے ہماری زندگی گزری مگر ہم نے کبھی کسی کے ساتھ اپنی کوئی تصویر بنائی نہ کبھی سلفی لینے کی کوشش کی ۔ آپریشن تھیٹر جانے کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا ۔شاید ہمارے چہرے پر انجانے خوف سے ہوائیاں اڑتیں دیکھ کر ڈاکٹر لودھی نے ہم سے کہا آپ آپریشن کے اس ڈرامائی تیاری سے بالکل خوف زدہ نہ ہوں ۔یہ آپریشن بہت ہی آسان ہے ۔چند منٹوں میں ختم ہوجائے گا اور آپ دو ایک گھنٹے کی طبی نگرانی کے بعد گھر بھیج دئیے جائیں گے ۔ڈاکٹرصاحب کی بات نے ہماری ہمت بندھائی اور ہوا بھی ویسا ہی ۔  یعنی ہم تھیٹر میں اس انتظار میں تھے کہ شاید آپریشن ابھی شروع ہو نے والا ہے ۔مگر کچھ منٹ بعد ڈاکٹر نے ہمیں اٹھ جانے کو کہا  ۔ہم نے آنکھوں سے کاجل چرانے والوں کے بارے میں سنا تھا ۔یہ ماہرِ امراض چشم تو ان سے بھی آگے نکلے ۔کیا کمال کی جرّاحی ہے نہ کاٹ نہ زخم ۔پھر ایک لمحے کے لئے بہ بھی خیال آیا کہ ڈاکٹر نے کچھ کیا بھی ہے کہ نہیں ،صرف ہمیں چند منٹ آپریشن ٹیبل پر لٹاکر تھیٹر سے باہر نکال دیا مگر چند گھنٹے بعد جب آنکھ کھول کر دیکھا تو لگا کہ آنکھ تو پوری طرح روشن ہوگئی ہے ۔اب بغیر عینک کے بھی ہر شے صاف نظر آرہی ہے ۔جیسا آج سے چار دھائی قبل نظر آتا تھا ۔تب یقین آیا کہ ہاں واقعی آپریشن ہوا ہے ۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ انسان ٹھوکر کھاتا ہے تو اس کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔مگر اب میڈیکل سائنس کی ترقی نے انسان کی  آنکھیں کھولنے کے لئے ایک آسان سا آپریشن ایجاد کر دیا ہے ۔
آپریشن سے فارغ ہو کر دو گھنٹے بعد گھر آئے ۔دوسرے دن سے ملنے ملانے والوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ہمارے ایک دوست جو کچھ دن قبل CATARACTآپریشن کروا چکے تھے گھر آئے ۔اپنے تجربے کی روشنی میں رائے اور مشوروں سے نوازا ۔پھر بولے یار سائنس کی ترقی نے اس آپریشن کو آسان بناکر اچھا نہیں کیا ۔ہم نے کہا آپریشن آسان ہونے سے آپ کو کیا تکلیف ہے ؟۔تو بولے  پہلے اس آپریشن کے بعد انسان دو چار دن دواخانے میں داخل رہتا تھا ۔ اس دوران مریض بیک وقت کئی نرسوں کی تیمارداری کا لطف اٹھاتا  ۔یہ کیا کہ یوں آپریشن ہوا اور پھر گھر واپس ۔ہاتھوں میں دم اور آنکھوں میں نئی توانائی آجانے کے بعد بھی ساغر ومینا سے محروم کر دیا جانا یہ بھی کوئی بات ہوئی ۔ہم نے اپنے دوست سے کہا کہ ہمارا ذہن تو اس پہلو کی طرف نہیں گیا مگر جس بات سے ہم پریشان ہیں وہ یہ انسان تین ہفتے جیسا طویل عرصہ بغیر پڑھے، لکھے ، ٹی وی ،WhatsAppاور ای میل وغیرہ دیکھے بغیر کیسے گزار سکتا ہے ۔انسان بھلا کب تک چھت کو دیکھے گا ،کب تک دیواروں کو ٹکٹکی باندھے گھورتا رہے گا ۔ان دنوں بار بار یہ شعر بھی ہمارے ذہن میں گونجتا تھا ۔

آپ کی بات سے انکار نہیں ہے لیکن
بولتی  کیوں نہیں دیوار  اگر سنتی ہے
پھر یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے کہ دینے والے نے دیواروں کو صرف کان دئیے ہیں زبان نہیں دی ،گھر میں جگہ  اور کرسیاں بدل بدل کر دن کاٹتے اور کروٹیں بدل بدل کر رات گزارتے۔  اس دور میں کسی کے پاس وقت ہی نہیں ۔اب انسانی رابطے صرف ای میل،Face book،App    Whatsوغیرہ تک ہی محدود رہ گئے ہیں ۔
بہرحال اب ہم طبی قید سے آزاد اور  صحت مند ہیں ۔آنکھیں پوری طرح روشن ہیں۔سوچتے ہیں کہ علم ِ طب نے انسان کی بصارت بہتر کر نے کے سامان تو کردئیے ۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ بصیرت بڑھانے کا علاج دریافت کر تا ۔ انسان کی فکر کو بہتر بنا نے کی دوا ایجاد کرتا ۔انسانوں میں امن وانسانیت کے ساتھ جینے کا جذبہ پیدا کرنے کا کوئی علاج دریافت کر تا تو یہ زمین گولہ بارود سے دہلتی اور نہ انسانی خون سے لال ہوتی۔اللہ تعالی نے انسانوں کی رہبری کے لئے پیغمبر ورسول بھیجے ،ہدایت کے لئے کتابیں نازل کیں ۔آج یہ سب بے فیض اور بے معنیٰ نظر آتے ہیں۔
اے مری گل زمین تجھے چاہ تھی اک کتا ب کی
اہل کتاب  نے مگر  کیا  تیرا حال  کر دیا
[email protected]

TOPPOPULARRECENT