Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / طب ایک مقدس پیشہ تقدس کی برقراری اطباء کی ذمہ داری

طب ایک مقدس پیشہ تقدس کی برقراری اطباء کی ذمہ داری

علاج اور تشخیص کو کاروباری انداز فکر بنانا افسوس ناک ، اردو مسکن میں توسیعی لکچر
حیدرآباد ۔ 8 ۔ دسمبر : ( پریس نوٹ ) : پروفیسر ڈاکٹر محمد عاقل قادری پرنسپل لقمان یونانی میڈیکل کالج بیجا پور نے کہا کہ عصر حاضر میں یونانی طریقہ علاج کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یونانی طب کے ماہرین پریکٹیشنرز کو طب یونانی کے شعبہ میں ریسرچ کی سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہئے وہ کل اردو مسکن خلوت میں آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس شاخ تلنگانہ کے زیر اہتمام مسلسل یونانی طبی تعلیم کے تحت ’ طبی اخلاقیات اور طب یونانی کی اہمیت ‘ پر توسیعی لکچر دے رہے تھے ۔ ابتداء میں ڈاکٹر خواجہ بدر الدین صدیقی نائب صدر نے خیر مقدم کیا ۔ ڈاکٹر افتخار جہاں بیگم موظف پرنسپل نظامیہ طبی کالج نے صدارت کی ۔ ڈاکٹر محمد احسان الحق ڈائرکٹر العارف یونانی میڈیکل کالج نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ پروفیسر عاقل قادری نے طبی اخلاقیات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طب ایک مقدس پیشہ ہے جس کے تقدس کو برقرار رکھنا اطباء کی اولین ذمہ داری ہے ۔ طبی اخلاقیات کی سب سے بنیادی شرط یہ ہے کہ طبیب میں انسانی ہمدردی کا جذبہ پوری آب و تاب کے ساتھ ہونا چاہئے ۔ یونانی طب کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب جذبہ ہمدردی اور خدمت رہا ہے ۔ یونانی طبیب نے اپنے فن میں تجارتی رجحانات کو ہمیشہ مسترد کیا ہے ۔ دوسرے طریقے سے علاج کرنے والے بعض افراد نے علاج اور تشخیص کے شعبہ کو کاروباری انداز فکر دیا ہے ۔ جو میڈیکل ایتھیکس کے سراسر خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض کاروباری عناصر نے محض دولت کے حصول کی خاطر اس پیشہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے ۔ چنانچہ حیدرآباد میں پولیس کی جانب سے بعض نقلی ڈاکٹروں کی گرفتاری اس کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ اس مقدس پیشہ کا ناجائز اور غیر مجاز استعمال کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر عاقل قادری نے کہا کہ آج یونانی طب کو عوامی مقبولیت حاصل ہورہی ہے ۔ اس کا بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے کیوں کہ عوام اس حقیقت کو تسلیم کرچکی ہے کہ یونانی علاج مضر اثرات سے پاک ہے اور ایک عام آدمی کے لیے زیادہ مشکل بھی نہیں ہے ۔ ڈاکٹر محمد احسان الحق ڈائرکٹر العارف یونانی میڈیکل کالج نے کہا کہ مسلسل یونانی طبی تعلیم ہر یونانی طلباء و طالبات ، ریسرچ اسکالرس اور حکماء کے لیے وقت کی ایک اہم ضرورت ہے کیوں کہ جب تک کوئی طبیب موجودہ دور میں ہوئے ریسرچ کے کاموں اور نئے نئے تجربات سے واقف نہیں ہوگا وہ اپنے آپ کو دنیا کے ماہرین طب میں شمار نہیں کیا جاسکتا ۔ ڈاکٹر رفیع حیدر شکیب نے جلسہ کی کارروائی چلائی ۔ ڈاکٹر عبدالرب اعظم نے پروفیسر عاقل قادری کا تعارف کروایا ۔ ڈاکٹر احسن فاروقی اسسٹنٹ پروفیسر نظامیہ طبی کالج نے طلباء و طالبات کو یونانی طریقہ علاج کی اہمیت اور افادیت بتائی اور خواہش ظاہر کی کہ وہ جستجو اور لگن کے ساتھ طب یونانی کی تعلیم حاصل کریں اور اپنے آپ کو ماہر طبیب کی حیثیت سے دنیا میں روشناس کروائیں ۔ اس موقع پر اطباء ، ڈاکٹرز ، ریسرچ اسکالرس کے علاوہ ماہرین طب جن میں خاص کر حکیم سید خواجہ عبدالوحید ، ڈاکٹر رحمان خاں ، ڈاکٹر قدرت اللہ خاں ، حکیم ایم اے سجاد ، جناب عبدالقدیر عاصم ، ڈاکٹر سید زین العابدین خاں ، ڈاکٹر حیدر یمنی ، ڈاکٹر محمد عبدالمجیب ، ڈاکٹر ایم اے ماجد قابل ذکر ہیں ۔ سی یو ایم ای پروگرام میں نظامیہ طبی کالج ، العارف یونانی میڈیکل کالج طلباء و طالبات اور اساتذہ نے شرکت کی ۔ اراکین کمیٹی حکیم غلام محی الدین ، حکیم سید غوث الدین ، ڈاکٹر عماد الحسن اشرف نے انتظامات کی نگرانی کی ۔ آخر میں ڈاکٹر عزیز علی نے شکریہ ادا کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT