Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / طلاقِ ثلاثہ پر حکومتی موقف مسلمانوں کے بنیادی حقوق میں مداخلت

طلاقِ ثلاثہ پر حکومتی موقف مسلمانوں کے بنیادی حقوق میں مداخلت

شرعی قوانین پر مفاہمت نہیں ہوسکتی ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کو جماعت اسلامی ہند کی کامل تائید ۔ مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنیکی سازش کامیاب نہیں ہوگی : جلال الدین عمری

نئی دہلی ، 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) جماعت اسلامی ہند نے طلاقِ ثلاثہ کے بارے میں حکومت کے موقف کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ’’کسی (بھی) شہری کے اعتقاد اور مذہب میں‘‘ کوئی مداخلت نہیں ہونا چاہئے۔ امیر جماعت اسلامی ہند مولانا سید جلال الدین عمری نے ایک بیان میں کہا کہ مسلمان طلاق، کثرتِ ازدواج اور دیگر شرعی قوانین کو ’’اپنے مذہب کا جزو سمجھتے ہیں اور اس لئے اُن معاملوں میں شریعت محمدی صلعم کی تعمیل کرنے کے پابند ہیں‘‘۔ انھوں نے کہا، ’’حکومت کو مسلمانوں کے اس موقف کا احترام کرنا چاہئے، نہ کہ اسے ختم کرنے کی سازش رچائی جائے‘‘۔ یہ اعادہ کرتے ہوئے کہ سماجی اصلاح اور جنسی مساوات کے نام پر یکساں سیول کوڈ کو ’’مسلط‘‘ کرنے کی کوششیں ’’اُلٹی پڑیںگی‘‘، امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ دستور شہری کو اپنے مذہب کا اظہار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ ’’یہ قابل احترام آزادی ہر فرد کو دی گئی ہے اور ہمارے دستور میں اسے بنیادی حق کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔‘‘ مرکزی حکومت نے گزشتہ ہفتے تین طلاق کے عمل کی سپریم کورٹ میں مخالفت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسے مذہب کا لازمی جزو باور نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ’’جنسی مساوات اور خواتین کی عظمت ناقابل مفاہمت ہیں‘‘ حکومت نے فاضل عدالت کو ایک حلفنامہ کے ذریعے اپنے موقف سے واقف کرایا، جس میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’مذہبی اعمال کسی خاتون کے حقوق اور امنگوں کیلئے رکاوٹ نہیں ہوسکتے، چاہے وہ خاتون کسی بھی مذہب پر عمل پیرا ہو۔ امیر جماعت اسلامی ہند نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت شرعی قوانین سے متعلق مسائل میں مسلمانوں کو دیگر برادریوں کی تقلید کیلئے مجبور نہیں کرسکتی، اور کہا کہ ایسا اقدام اُن (مسلمانوں) کے بنیادی حقوق میں ’’مداخلت ‘‘ کے مترادف ہوگا۔ وہ جو طلاقِ ثلاثہ کے خلاف واویلا مچارہے ہیں

اور کثرتِ ازدواج پر پابندی کا مطالبہ کررہے ہیں، وہ معمولی تعداد میں ہیں اور ہندوستانی مسلم برادری کے نمائندہ نہیں ہیں۔ ’’جماعت ِ اسلامی ہند کامل طور پر کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہے، جو ہندوستانی مسلمانوں کا معتبر نمائندہ ادارہ ہے۔‘‘ نیز تمام ’’بڑی‘‘ مسلم تنظیمیں اور مسلم کمیونٹی کی ’’غالب اکثریت‘‘ کی بورڈ کو ٹھوس تائید و حمایت حاصل ہے اور ’’اپنی شریعت میں کوئی بھی مداخلت برداشت نہیں کریں گے‘‘۔ یہ اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہ مسلمانوں میں اختلاف کے بیج بونے کی کوشش کرنے والے عناصر کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تین طلاق اور کثرتِ ازدواج کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے ، جس کا واحد مقصد مسلمانوں کو قبائلی سماج کی صفات کے زیراثر اور خواتین کو کمتر سمجھنے والوں کے طور پر پیش کرنا ہے۔ جلال الدین عمری نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں میں کثرت ِ ازدواج کا تناسب ’’برائے نام‘‘ ہے۔ ’’یہ مسلمانوں کیلئے لازمی نہیں کہ کثرتِ ازدواج کو اپنائیں بلکہ ایک سے زیادہ شریک ِ حیات (بیوی) رکھنے کی اجازت ہے، جو بعض شرائط کے تابع ہے۔‘‘ تین طلاق کے سوال پر امیر جماعت اسلامی ہند نے کہا، ’’علماء کی اکثریت کا اتفاق ہے کہ ایک نشست میں تین طلاق دینا دراصل قطعی اور ناقابل تنسیخ طلاق کا موجب ہوجاتا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص ایک نشست میں طلاقِ ثلاثہ کا اعلان کردے مگر کہے کہ اُس کا منشاء صرف ایک طلاق ہے، تو اسے اسی طرح باور کیا جائے گا۔‘‘ انھوں نے کہا کہ علاوہ ازیں، یہ حقیقت نسبتاً کم معروف ہے کہ اسلام منکوحہ (شادی شدہ خاتون) کو ’’خلع‘‘ کے ذریعے رشتہ ازدواج ختم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ’’اگر وہ اپنی ازدواجی زندگی سے خوش نہیں، تو وہ اپنا نان و نفقہ واپس کرتے ہوئے علحدگی کا تقاضہ کرسکتی ہے۔ اگر شوہر اُس کی بات قبول کرنے سے انکار کردے تو وہ قاضی سے رجوع ہوسکتی ہے، جو خلع کے ضابطوں کی تکمیل میں اُس (درخواست گزار خاتون) کی مدد کرے گا۔‘‘ یکساں سیول کوڈ پر بڑھتے مباحث کے درمیان لا کمیشن نے اس موضوع پر عوامی رائے مانگی ہے تاکہ فیملی (مسلم خاندان) سے متعلق قوانین پر نظرثانی اور ان کی اصلاح کی جائے، اور کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد قوانین کی بہتات کی بجائے سماجی ناانصافی سے نمٹنا ہے۔

تین طلاق کے مسئلہ پر ریفرنڈم کی تجویز
شرعی قوانین میں تبدیلی ناممکن، ظفریاب جیلانی
مظفر نگر 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک رکن ظفر یاب جیلانی نے کہا ہے کہ شرعی قوانین کو ہرگز تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے تجویز پیش کی کہ تین طلاق کے مسئلہ پر مرکزی حکومت کی جانب سے ریفرنڈم کروایا جائے۔ ظفر یاب جیلانی نے کل شام یہاں ایک تقریب کے موقع پر اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ 90 فیصد مسلم خواتین شرعی قوانین کی تائید کرتی ہیں۔ جیلانی نے جو اترپردیش کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بھی ہیں کہاکہ ’’مرکزی حکومت، تین طلاق کے مسئلہ پر ریفرنڈم کرواسکتی ہے۔ مسلمان کبھی بھی مسلم پرسنل لاء میں کسی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے‘‘۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ ’’تین طلاق پر امتناع عائد کرنے کی کوشش دراصل یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی ایک سازش ہے‘‘۔ تاہم اُنھوں نے کہاکہ اسلام میں طلاق کو ایک ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی پر اُنھوں نے کہاکہ پڑوسی ملک کو ایک سبق سکھانے کے معاملہ میں سارے مسلمان اپنے ملک کے ساتھ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ پاکستان خود اپنی سازشوں سے ہی بُری طرح متاثر ہوا ہے اور حتیٰ کہ پاکستانی مساجد بھی اب دہشت گرد حملوں سے محفوظ نہیں رہی ہیں۔ واضح رہے کہ مرکز نے 7 اکٹوبر کو سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے مسلمانوں میں تین طلاق اور کثرت ازدواج کے عمل پر سپریم کورٹ کی طرف سے مناسب احکام کی اجرائی کی درخواست کے ساتھ اپنے حلفنامہ میں صنفی مساوات اور سیکولرازم جیسے دستوری اُصولوں، بین الاقوامی قواعد و ضوابط اور مختلف اسلامی ملکوں میں مذہبی رسوم اور ازدواجی قوانین کا حوالہ دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT