Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / طلاقِ ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا آج فیصلہ

طلاقِ ثلاثہ پر سپریم کورٹ کا آج فیصلہ

نئی دہلی ۔21 اگسٹ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )سپریم کورٹ مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کے تعلق سے کل تاریخی فیصلہ سنائے گا۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر کی زیرقیادت 5 ججس پر مشتمل دستوری بنچ نے گرمائی تعطیلات کے دوران چھ دن متواتر اس اہم ترین مسئلے کی سماعت کی تھی اور 18 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا ۔ سماعت کے دوران عدالت نے یہ وضاحت کی کہ وہ کثرت ازدواج کے مسئلے کا فی الحال جائزہ نہیں لے گی اور صرف طلاق ثلاثہ کے بارے میں ہی غوروخوض کیا جائے گا اور یہ معلوم کیا جائے گا کہ یہ طریقہ کار مسلمانوں کے مذہب کا بنیادی حق ہے یا نہیں ۔ اس بنچ میں چیف جسٹس جے ایس کیہر کے علاوہ جسٹس کورین جوزف ، جسٹس آر ایف نریمان ، جسٹس یویو للت اور جسٹس ایس عبدالنظیر شامل ہیں۔ مختلف مذہبی وابستگی جیسے سکھ ، عیسائی ، پارسی ، ہندو اور مسلم جسٹس پر مشتمل یہ بنچ تشکیل دی گئی ہے۔ اس نے جملہ سات درخواستوں کی سماعت کی جن میں مسلم خواتین کی دائر کردہ پانچ علحدہ درخواستیں بھی شامل ہیں۔ ان سب درخواستوں میں طلاق ثلاثہ کے مسلمانوں میں پائے جانے والے رواج کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ درخواست گذاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ طلاق ثلاثہ کا طریقہ کار غیردستوری ہے ۔ جن مسلم خواتین نے درخواستیں داخل کی ، اُنھوں نے بھی تین طلاق کے طریقہ کار کو چیلنج کیا ، جہاں شوہر اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین مرتبہ طلاق دیدیا کرتا ہے ۔ بسا اوقات فون پر یا مسیج کے ذریعہ بھی طلاق دی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران یہ احساس ظاہر کیا کہ تین طلاق کا طریقہ کار انتہائی نامناسب ہے اور مسلمانوں میں رشتہ ازدواج کو ختم کرنے کیلئے یہ ناپسندیدہ عمل ہے ۔ حالانکہ کئی مکاتیب فکر اسے ’’قانونی‘‘ قرار دیتے ہیں۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران کئی وکلاء بشمول نامور قانون داں رام جیٹھ ملانی نے مختلف دستوری بنیادوں پر تین طلاق کے طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ اُنھوں نے اس ضمن میں مساوات کے حق کا بھی حوالہ دیا ۔ عدالت سے کہا گیا ہے کہ تین طلاق جنسی بنیاد پر امتیاز کے مترادف ہے ، اس کے علاوہ یہ طریقہ کار قرآنی تعلیمات کے بھی مغائر ہے۔ اس طریقہ کار کی خواہ کتنی ہی مدافعت کی جائے اسے قبول نہیں کیا جاسکتا اور یہ دستوری بنیادوں کے بھی برعکس طریقہ ہے۔ مرکز نے بھی دستوری بنچ سے کہا ہے کہ اگر تین طلاق کے طریقہ کارکو غلط قرار دیا جائے تو وہ مسلمانوں میں شادی اور طلاق کے طریقہ کار کو موثر بنانے کیلئے قانون سازی کرنے تیار ہے۔ حکومت نے مسلمانوں میں طلاق کے تینوں طریقہ کار ، طلاق بائن ، طلاق مغلظہ اور طلاق رجعی بالکلیہ یکطرفہ اور ماورائے دستور ہیں۔ حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ تمام پرسنل لاء دستور سے مطابقت کے حامل ہونا چاہئے ۔ شادی ، طلاق ، وراثت کے معاملے میں پرسنل لاء پر عمل آوری دستوری بنیادوں پر ہونی چاہئے ۔ مرکز کا یہ کہنا ہے کہ تین طلاق اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے اور یہ اقلیتی و اکثریتی معاملہ بھی نہیں ہے بلکہ یہ مسلمان مرد اور مظلوم خواتین کے مابین داخلی و باہمی جھگڑا ہے ۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے تین طلاق کے مسئلہ کا ایودھیا میں بھگوان رام کی پیدائش سے متعلق عقیدے سے موازنہ کیا۔ انھوں نے کہاکہ ان عقائد کو دستوری اخلاقی بنیادوں پر پرکھا نہیں جاسکتا ۔ انھوں نے کہاکہ 637 عیسوئی سے طلاق ثلاثہ کا طریقہ کار جاری ہے اور اسے غیراسلامی قرار دینا غلط ہے ، کیونکہ مسلمانوں میں 1400 سال سے یہ طریقہ جاری و ساری ہے ۔ کپل سبل نے کہاکہ پارلیمنٹ کوئی قانون بناسکتی ہے یا پھر اس معاملے کو متعلقہ طبقہ پر ہی چھوڑ دیا جانا چاہئے اور عدالت کو اس مسئلہ پر مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔ عدالت نے سماعت کے دوران مسلم پرسنل لاء بورڈ سے یہ پوچھا تھا کہ کیا کسی عورت کو نکاح نامہ تیار کرتے وقت یہ اختیار دیا جاسکتا ہے کہ وہ طلاق ثلاثہ کو ’’نہیں‘‘ کہے ۔ سپریم کورٹ میں دائر کردہ مختلف درخواستوں میں مسلمانوں کے دیگر اُمور جیسے نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کو بھی چیلنج کیا گیا تھا۔ جج نے فی الحال طلاق ثلاثہ کے مسئلے کا جائزہ لیا ہے اور اُس نے ازخود یہ سوال اُٹھایاہے کہ کیا مسلم خواتین کے ساتھ طلاق یا اُن کے شوہر کی دوسری شادی کے معاملے میں صنفی امتیاز کا سامنا ہے ؟

TOPPOPULARRECENT