Saturday , October 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / طلاقِ کنائی

طلاقِ کنائی

سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو انکے شوہر نے ایک خط لکھا جس میں تحریر ہے کہ ’’ اب سے تمہارے اورمیرے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے تم میری بیوی نہیں ہو ، میں تمہارا شوہر نہیں ہوں … تیرے اور میرے درمیان اب کوئی رشتہ ہی نہیں ہے ، بھول جا ۔ جلدی میں طلاق دینے کی کوشش کرتا ہوں ، میری بیوی کیطرح اگر رہنا ہے تو میں جیسا بولتاہوں ویسا کرو ‘‘  آیا ان الفاظ سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی یا نہیں    ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  صورت مسئول عنہا میں شوہر نے تحریر مذکور الصدر میںجو الفاظ لکھے ہیں وہ کنائی ہیں۔ اگر ان سے شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو تو طلاق واقع ہوگی ورنہ نہیں عالمگیری جلد اول ص ۳۷۵ میں ہے  ولو قال ماأنتِ لی بامرأۃ أو لستُ لکِ بزوج ونوی الطلاق یقع … ولو قال لھا لا نکاح بینی وبینکِ أو قال لم یبق بینی وبینکِ نکاح یقع الطلاق إذا نوی۔  اور ص ۳۷۶ میں ہے:  ولو قال لم یبق بینی وبینکِ شیٔ ونوی بہ الطلاق لا یقع۔ پس شوہر سے اس کی نیت دریافت کیجاے  ، اگر اس کی نیت طلاق کی تھی تو طلاق واقع ہوگی ورنہ تعلقات زوجیت علیٰ حالہ قائم رہیں گے۔
آداب کہنے سے مسنون سلام ادا نہیں ہوتا
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ بعض لوگ ’’ السلام علیکم‘‘ کہتے ہیں اور بعض’’ سلام علیکم‘‘  کیا دونوں طر یقے صحیح ہیں ؟  ان میں سے بہتر طریقہ کونسا ہے۔ بچوں عورتوںکے سلام کا بھی یہی طر یقہ ہے یا اس میں کوئی فرق ہے۔ ’’ آداب ‘‘ قدمبوسی‘‘ ’’ تسلیم‘‘ وغیرہ الفاظ جو استعمال کئے جاتے ہیں۔ کیا ان سے بھی سلام ادا ہوجاتا ہے ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  السلام علیکم الف لام کے ساتھ کہنا بہتر ہے اور بغیر الف لام کے تنوین کے ساتھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ سلام میں عورتیں بچے سب برابر ہیں۔ سب کو السلام علیکم کہنا چاہئے ۔ آداب ، بندگی قدمبوسی تسلیم کورنش وغیرہ کہنے سے مسنون سلام ادا نہیں ہوتا۔ کنزالعباد ص ۳۴۹ میں ہے : فی الظھیریۃ و لفظۃ السلام فی المواضع کلھا ’’ السلام علیکم‘‘ أو ’’ سلام علیکم‘‘ بالتنوین و بدون ھذین اللفظین کما یقول الجھال لا یکفی سلاما۔
زبانی قرآن پڑھنا
سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو سورۂ یسین اور سورہ مزمل زبانی یاد ہے ، اگر زید روزانہ زبانی سورہ یسین یا سورہ مزمل کی تلاوت کرے تو کافی ہے یا دیکھ کر پڑھنا ضروری ہوگا  ؟  بینوا تؤجروا
جواب : ہر مسلمان کو قرآن شریف کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اگر دیکھ کر قرآن پڑھنے کا وقت نہیں اور وہ زبانی قرآن پڑھتا ہے تو کافی ہے لیکن قرآن شریف زبانی پڑھنے کے بہ نسبت دیکھ کر پڑھنا زیادہ اجر و ثواب اور فضیلت کا موجب ہے کیونکہ دیکھ کر پڑھنے میں دو طرح سے عبادت کا ہونا ثابت ہے ۔ایک تو تلاوت اور دوسرا اس کا دیکھنا ، قرآن مجید کو دیکھنا بھی ایک مستقل عبادت ہے ۔ نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  افضل عبادۃ امتی قراء ۃ القرآن نظرا۔ یعنی میری امت کی افضل ترین عبادت دیکھ کر قرآن مجید پڑھنا ہے۔  عالمگیری جلد ۵ ص  ۳۱۷ کتاب الکراھۃ میں ہے:  قرأۃ القرآن فی المصحف أولی من القراء ۃ عن ظھر القلب ۔                                                                   فقط  واﷲتعالیٰ اعلم

TOPPOPULARRECENT