Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / طلاق بالشرط

طلاق بالشرط

سوال : کیافرماتے ہیںعلمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکا عقدہندہ سے ہو۱،عقد کے تقریباًدوماہ کے بعداپنے ملک سے دوسرے ملک چلاگیااورنوسال تک بیوی کی کوئی خبرنہیںلی۔ بیوی اپنے ماںباپ کے گھرمقیم رہی، بیوی کے باپ کی طرف سے متعددخطوط تحریرکرنے کے بعدزید اپنے ملک آیا، بیوی سے ملے بغیرچندمعتبرلوگوںکے روبروایک تحریرلکھ دیا ’’میںاقراربلاجبرواکراہ صالح کرتاہوںکہ میری اہلیہ کومیں اپنے خسرکے مکان میں رکھ کرماہانہ برائے خوردونوش کا ہرماہ انتظام کرونگا، مندرجہ بالا تحریرکی خلاف ورزی ہونے پراس کاغذکوطلاق تصورکیاجائے ‘‘ اس تحریرکوبھی نوماہ گذرگئے، لیکن نہ اس نے خوراکی روانہ کیا، نہ کوئی خط لکھااورنہ کسی خط کا جواب دیا۔
ایسی صورت میںشرعاًتحریربالاکے متعلق کیاحکم ہے ؟
جواب :  بشرط صحت سوال وصدق بیان مستفتی اگرتحریرمذکورزیدنے بلاجبرواکراہ لکھی ہے اوراس کواس کااقبال بھی ہے، نیزاس نے تحریرکی خلاف ورزی بھی کی ہے توبیوی پرایک طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ جس کاحکم یہ ہے کہ شوہراندرون عدت (تین حیض) رجوع کرناچاہے تورجوع کرسکتاہے ۔عدت ختم ہوتے ہی دونوںمیںتفریق وجدائی ہوجائیگی۔ بعدختم عدت بیوی ہندہ کسی دوسرے شخص سے عقدکرناچاہے توعقدکرسکتی ہے۔ فتاوی عالمگیری جلداول ص ۴۲۰میں ہے: واذااضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا اور اسی کتا ب کے ص ۳۴۸میںہے واماحکمہ فوقوع الفرقۃ بالقضاء والعدۃ فی الرجعی وبدونہ فی البائن کذافی فتح القدیر۔
اہل کتاب زوجین میںسے زوج کااسلام قبول کرنا
سوال : کیافرماتے ہیںعلمائے دین اس مسئلہ میںکہ زیدوہندہ اہل کتاب سے تھے اوران کاعقداپنے مذہب کے مطابق ہواتھا۔اب زیدنے اسلام قبول کیاہے اورہندہ اپنے مذہب پرقائم ہے کیانومسلم شوہراپنی کتابیہ بیوی کو (جس کاعقداس کے مذہب کے لحاظ سے ہواتھااورہندہ ہنوزاپنے مذہب سابق پرقائم ہے) طلاق دے سکتا ہے یانہیں؟ یازیدکے اسلام قبول کرتے ہی اس کاسابقہ نکاح فسخ ہوجاتاہے؟
جواب : بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میںزیداورہندہ اہل کتاب سے تھے، اب شوہر(زید)نے اسلام قبول کرلیاتواس سے ان دونوںکے نکاح پرکوئی اثر نہیںپڑتا، بلکہ دونوںمیںحسب سابق نکاح باقی ہے۔ عالمگیرجلداول ص۳۳۸ میں ہے:  ولواسلم زوج الکتابیۃ بقی نکاحھماکذافی الکنز۔اوراب اگرشوہراپنی کتابیہ بیوی کوطلاق دیناچاہے توطلاق دے سکتاہے اورطلاق واقع بھی ہوجائیگی۔ درمختاربرحاشیہ ردالمختار جلد ۱۲ ص۵۶۰کتاب الطلاق میں ہے: (ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل)
مدت ادائی مہرمؤجل
سوال : کیافرماتے ہیںعلمائے دین اس مسئلہ میںکہ بیوی اپنے شوہرسے زرمہرکامطالبہ کررہی ہے شوہرزندہ ہے اورطلاق نہیںدیا، بوقت نکاح مہرمؤجل مقررہو۔ ا اورکوئی میعادمتعین نہیںکی گئی تھی۔ ایسی صورت میںبیوی کامطالبہ درست ہے یانہیں؟
جواب : شرعامہرمؤجل مطلق لکھاجائے اوراس میںمدت کاتعین نہ ہوتواس کی ادائی طلاق یابعدوقوع موت ہوگی، اس سے قبل طلب کرنے کابیوی کو کوئی حق نہیں۔ اورنہ شوہرپراس کی ادائی واجب ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلداول ص۳۱۸ میں ہے:  وان کان لاالی غایۃ معلومۃ فقداختلف المشائخ فیہ قال بعضھم یصح وھوالصحیح وھذا لان الغایۃ معلومۃ فی نفسھاوھوالطلاق اوالموت۔

TOPPOPULARRECENT