Sunday , June 25 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ، مسلمانوں کے اعتقاد کا معاملہ، 1400 سال سے عمل

طلاق ثلاثہ، مسلمانوں کے اعتقاد کا معاملہ، 1400 سال سے عمل

حدیث نبویؐ میں تذکرہ، دستوری جواز کا سوال نہیں، سپریم کورٹ میں پرسنل لاء بورڈ کا بیان
نئی دہلی 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (آے آئی ایم پی ایل بی) نے آج سپریم کورٹ میں کہاکہ ’طلاق ثلاثہ‘ اعتقاد کا معاملہ ہے جس پر مسلمان گزشتہ 1400 سال سے عمل کرتے رہے ہیں چنانچہ اس کے دستوری و اخلاقی جواز اور واجبیت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس مسلم ادارہ نے ’طلاق ثلاثہ‘ کا ایودھیا میں لارڈ رام کی پیدائش سے متعلق ہندوؤں کے اعتقاد سے تقابل کیا۔ سینئر ایڈوکیٹ اور سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے اس مقدمہ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے کہاکہ ’’637 ء سے ’طلاق ثلاثہ‘ پر عمل جاری ہے جس کو اب غیر اسلامی کہنے والے ہم کون ہوتے ہیں۔ مسلمان اس طریقہ کار پر گزشتہ 1400 سال سے عمل کرتے رہے ہیں۔ یہ اعتقاد کا معاملہ ہے۔ چنانچہ اس کے دستوری قانونی جواز کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔

چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی قیادت میں پانچ رکنی دستوری بنچ پر بحث کے دوران کپل سبل نے مزید کہاکہ ’’میرا اعتقاد ہے کہ لارڈ رام ایودھیا میں پیدا ہوئے ہیں تو یہ میرے اعتقاد کا معاملہ ہے۔ اس کے دستوری جواز کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ کپل سبل نے اس حقیقت کا حوالہ بھی دیا کہ ’طلاق ثلاثہ‘ کا ذکر (حدیث نبوی ﷺ) میں بھی پایا جاتا ہے اور پیغمبر (اسلام حضرت) محمد ﷺ کے دور کے بعد اس پر عمل کیا جانے لگا تھا۔ سکھ، عیسائی، پارسی، ہندو اور مسلم جیسے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنیو الے ججوں جسٹس کورئین جوزف، آر ایف ناریمن، یو یو للت اور عبدالنذیر پر مشتمل دستوری بنچ پر بحث کا آج چوتھا دن تھا جس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT