Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / طلاق ثلاثہ ‘ حکومت قانون سازی کیلئے علما سے مشاورت کرے

طلاق ثلاثہ ‘ حکومت قانون سازی کیلئے علما سے مشاورت کرے

شہر کے علما کی رائے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلمانوں میں بے چینی ‘ خدشات دور کرنا حکومت کی ذمہ داری

حیدرآباد۔22اگسٹ (سیاست نیوز) طلاق ثلاثہ مسئلہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں میں کرب و بے چینی کی صورتحال پیدا کرچکا ہے اس فیصلہ کے ملک پر دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک کی دوسری بڑی آبادی کے جذبات و احساسات کو ملحوظ رکھتے ہوئے علماء سے قانون سازی میں مشاورت کرے تاکہ عوام میں اعتماد برقراررہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ذمہ دار علماء نے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل احترام ہے لیکن اس فیصلہ کے جو دور رس اثرات مرتب ہونے والے ہیں اس کے متعلق خدشات اپنی جگہ برقرار ہیں جنہیں دور کرنا اب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈکی جانب سے پیش کردہ ادعاء کے مطابق مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ہمیشہ ہی طلاق ثلاثہ کی مخالفت کی ہے اور اس مسئلہ کے حل کیلئے بورڈ نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے مرتکبین کو سزاء کے متعلق بھی غور کیا جارہا تھا۔ مولانا محمد رحیم الدین انصاری صدر مسلم یونائیٹڈ فورم و رکن تاسیسی کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ عدلیہ سے اپنے عائلی مسائل کو رجوع کرنے والوں کیلئے ہے اور اس فیصلہ کا احترام کیا جانا چاہئے لیکن جو لوگ قانون شریعت پر عمل پیرا رہنا چاہتے ہیں انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔انہوں نے بتایا کہ اس فیصلہ کے بعد حکومت پر ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ ملک کے تمام طبقات کے احساسات کا احترام کرتے ہوئے ملک کے سیکولر اقدار کی برقراری میں اپنا کلیدی کردار ادا کرے۔امیر امارت ملت اسلامیہ مولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ رکن مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس فیصلہ نے حکومت پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کی ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون سازی کیلئے علماء سے مشاورت کے ذریعہ شریعت میں مداخلت کے بغیر قانون سازی کو ممکن بنایا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ شریعت کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمان اپنے عائلی فیصلے کریں ایسا ممکن ہی نہیں ہے اسی لئے مسلمانو ںکو بھی چاہئے کہ وہ اپنی زندگیوں میں شرعی تعلیمات کو اہمیت دیتے ہوئے دینی اصولوں سے واقف ہوں۔ موالانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمیعۃ علماء ہند ریاست آندھرا پردیش و تلنگانہ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلہ کی توقع نہیں تھی کیونکہ اس فیصلہ میں کورٹ نے فریق اولی کو مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرے۔ انہوںنے بتایاسپریم کورٹ نے فریق کو ہی قانون سازی کی ہدایت دی ہے لیکن اب حکومت کو چاہئے کہ وہ فریق بنے رہنے کے بجائے مسلم علماء سے مشاورت کے بعد قانون سازی پر غور کرے۔ مولانا حامد محمد خان صدر جماعت اسلامی آندھرا پردیش و اڑیسہ و تلنگانہ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کسی بھی قیمت پر شریعت اسلامی میں مداخلت کو برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس میں کی جانے والی مداخلت کو قبول کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی قانون پر شریعت کو مقدم رکھتے ہیں اور ہندستانی مسلمان بھی اپنے معاملات کی شریعت کی رو سے یکسوئی کا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے بعض گوشوں سے دارلقضاء پر کی جانے والی تنقیدو ںپر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے عمل کے ذریعہ جو تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ علماء برادری میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے فوری بعد ٹیلی ویژن پر دکھائے جانے والے مناظر بھی باعث حیرت بنے رہے اور بیشتر تمام علماء نے ٹیلی ویژن چیانلس پر برقعہ میں دکھائی جانے والی خواتین کی حرکات وسکنات کو دین سے دوری کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے دینی شعور بیدار کرنے کی ضرورت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی وہ نوجوان نسل میں دینی رجحان پیدا کریں۔

TOPPOPULARRECENT