Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / طلاق ثلاثہ روکنے قاضیوں کو مشاورتی نوٹ

طلاق ثلاثہ روکنے قاضیوں کو مشاورتی نوٹ

نکاح نامہ میں شرط ، طلاق ثلاثہ دینے والوں کا سماجی بائیکاٹ ، سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کا حلفنامہ

نئی دہلی ۔22 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے دوشنبہ کو سپریم کورٹ سے کہا کہ قاضیوں کے نام ایک مشاورتی نوٹ جاری کرتے ہوئے یہ ہدایت کی جائے گی کہ وہ دلہا اور دولہن کو نکاح نامہ میں ایک شرط شامل کریں جس کے تحت بیک وقت تین طلاق کے طریقہ کار کو خارج رکھا جاسکے۔ علاوہ ازیں عقد نکاح کے وقت قاضیوں کی طرف سے دلہوں کو یہ تاکید کی جائے گی کہ وہ مستقبل میں کسی موقع پر ’’طلاق ثلاثہ‘‘ کا طریقہ کار استعمال نہ کریں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ میں آج داخل کردہ حلفنامہ میں کہا کہ اُس کے ویب سائیٹ ، مطبوعات اور سوشیل میڈیا پلیٹ فارموں کے توسط سے بھی یہ مشاورتی نوٹ جاری کیا جائے گا ۔ قاضیوں سے کہا جائے گا کہ وہ عقد نکاح کے وقت نکاح نامہ کی تکمیل کے وقت دلہوں کو یہ تاکید کریں کہ بیک وقت ’’طلاق ثلاثہ‘‘ کے عمل سے گریز کیا جائے کیونکہ ’’یہ شریعت میں ایک ناپسندیدہ عمل ہے ‘‘ ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری محمد فضل الرحیم کی طرف سے داخل کردہ حلفنامہ میں کہا گیاہے کہ ’’عقد نکاح کے وقت نکاح کرنے والے شخص ؍ دلہا کو مشورہ دیا جائے کہ اختلافات کی صورت میں نوبت طلاق تک پہونچتی ہے تو مرد کو چاہے کہ وہ بیک وقت تین مرتبہ طلاق کہنے سے گریز کرے کیونکہ شریعت میں یہ ناپسندیدہ عمل ہے ۔طلاق ثلاثہ دینے والوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حلفنامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’عقد نکاح کے وقت نکاح کے ضابطہ کی تکمیل کرنے والا شخص ( قاضی) یہ مشورہ دے گا کہ دلہا اور دلہن اپنے نکاح نامہ میں ایک شرط شامل کریں جس کے تحت دلہن کا شوہر بیک وقت تین مرتبہ طلاق کہنے کے طریقہ کار سے گریز کرتے ہوئے اس عمل کو اس سے خارج رکھا جائے گا ‘‘ ۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر کی قیادت میں پانچ رکنی دستوری بنچ جو ’’طلاق ثلاثہ‘‘ کے مقدمہ پر گزشتہ ہفتہ اپنا فیصلہ محفوظ کرچکی ہے اب پرسنل لاء بورڈ کے تازہ حلفنامہ کا جائزہ لے گی ۔ عدالت عظمیٰ نے مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کے طریقہ کار کے دستوری جواز کو چیلنج کرتے ہوئے بشمول مرکز اور دیگر فریقوں کی طرف سے دائر کردہ مقدمہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، آل انڈیا مسلم ویمنس پرسنل لاء بورڈ اور دوسروں کے ادعاء جات کی گرمائی تعطیلات کے دوران چھ دن تک سماعت کی اور 18 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ کردیا۔ سپریم کورٹ نے دوران بحث یہ سوال بھی اُٹھایا تھا کہ جب خود مسلم ادارے بھی اس (طلاق ثلاثہ کے ) عمل کو ناپسندیدہ اور مترادف گناہ تصور کرتے ہیں تو پھر تین طلاق کا طریقہ کار مسلمانوں کے اعتقاد کا مسئلہ کس طرح بن سکتا ہے ۔ بعد ازاں مرکز نے کہاکہ ’’سب سے پہلے مسلم برداری کو داخلی سطح پر غوروبحث کے ذریعہ مثبت نتیجہ پر پہونچنے کا موقع دیا جائے گا اور اس کے بعد اگر ضروری ہو تو تین طلاق کے طریقہ کار کو روکنے کیلئے ایک قانون سازی بھی کی جائے گی ‘‘۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT