Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / طلاق ثلاثہ مسئلہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف پر تنقید

طلاق ثلاثہ مسئلہ پر مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف پر تنقید

بی جے پی ذہن سازی مہم ، سمپوزیم میں جسٹس سی وی راملو ، شاذیہ علمی و رامچندر راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔7جولائی (سیاست نیوز) طلاق ثلاثہ مسئلہ پر بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قبل عوام کی ذہن سازی کی مہم شروع کرچکی ہے اور اپنے نظریات کی حامل تنظیموں کے ذریعہ اس طرح کے پروگرامس منعقد کروانے لگی ہے جس کے ذریعہ علماء کی تضحیک کی جائے اور ان کی توہین کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ مسئلہ پر ان کی رائے کو غلط قرار دیا جائے۔ پرگنا بھارتی کی جانب سے تلگو یونیورسٹی نامپلی میں آج شام منعقدہ ایک سمپوزیم بعنوان طلاق ثلاثہ: انصاف اور سماجی تبدیلی سے جسٹس سی وی راملو‘ شاذیہ علمی اور مسٹر این رامچندر راؤ نے خطاب کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ ادعا کیا کہ عدالت کا فیصلہ سماجی تبدیلی کا مظہر ثابت ہوگا۔ جسٹس راملو نے طلاق ثلاثہ مسئلہ کو ظلم سے تعبیر کرتے ہوئے اس مسئلہ کو جنسی مساوات سے جوڑنے اور اسے مذہب کے بجائے قانون کے نظریہ سے دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ مسئلہ خواتین کے حقوق کا مسئلہ ہے۔ شاذیہ علمی نے اپنے خطاب کے دوران علماء کی جانب سے اختیار کئے جانے والے موقف کو اسلام کے موقف کے برعکس قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جو علماء یہ کہہ رہے ہیں کہ طلاق ثلاثہ گناہ ہے اسی لئے اس کی سزاء مقرر کی جانی چاہئے وہ اس بات کا جواب بھی دیں کہ گناہ کو کرنے کی گنجائش کہاں سے پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے قرآن کے مفہوم کو تبدیل کرنے کا الزام علماء پر عائد کرتے ہوئے دعوی کیا کہ شاہ بانو مقدمہ سے شائرہ بانو مقدمہ کے درمیان جو وقت گذرا ہے اس دوران ہندستانی مسلم خواتین میں روشن خیالی آئی ہے جس کے سبب شاہ بانو سے شائرہ بانومقدمہ کے درمیان کی مدت میں ہندستان تبدیل ہو چکا ہے۔ حکومت ہند کے موقف کا دفاع کرتے ہوئے شاذیہ نے دعوی کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جنسی مساوات کی حامی ہے اور وہ اسی لئے اس جماعت کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اس سمپوزیم سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ مسئلہ کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے کیونکہ یہ حقوق کی لڑائی ہے ۔ رکن قانون ساز کونسل بی جے پی مسٹر این رامچندر ریڈی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ خواتین کو حصول انصاف کی تائیداور ان پر ہونے والے مظالم کو روکنے کیلئے کی جانے والی کوششیں مذہبی معاملات وقوانین میں مداخلت نہیں ہیں۔ انہوں نے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو لاکھوں دستخطوں پر مشتمل نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں کہ طلاق ثلاثہ کے طرقہ کار کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ وکلاء پر بھی اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ طلاق کے لئے رجوع ہونے والے جوڑوں کو ملانے کی کوشش کریں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT