Tuesday , September 19 2017
Home / مضامین / طلاق ثلاثہ ’’مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند‘‘

طلاق ثلاثہ ’’مومن فقط احکام الٰہی کا ہے پابند‘‘

محمد نصیرالدین
ساری دنیا کے مسلمانوں کا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ یہ کائنات کا تنہا خالق ، مالک اور پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطۂ حیات عطا فرمایا ہے جس کو اسلام کہتے ہیں۔ اسلام محض چند رسوم و رواج یا پوجا پاٹ کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی امور و معاملات میں مکمل رہنمائی کا مجموعہ ہے ۔ اسلامی نظام حیات کا ایک حصہ فرد کی نجی اور عائیلی زندگی سے متعلق ہے جس میں نکاح ، خلع، طلاق ، وراثت، ترکہ ، ہبہ اور نفقہ جیسے امور و معاملات کو شامل کیا گیا ہے۔ ان قوانین کے مجموعہ کا نام ’’مسلم پرسنل لا‘‘ ہے ۔ دستور ہند میں معماران دستور نے مسلمانوں کو مسلم پرسنل لا کو اختیار کرنے اور عمل کرنے کی آزادی و اختیار دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کے بعد سے مسلمان بلا خوف و خطر مسلم پرسنل لا پر عمل کرتے رہے ہیں۔ نہ انہوں نے کبھی دیگر فرقوں کو مسلم پرسنل لا پر عمل کرنے کی دعوت دی اور نہ ہی ملک میں مسلم پرسنل لا کے نفاذ کا مطالبہ کیا لیکن ملک کی یہ بہت بڑی بدبختی ہے کہ وقفہ وقفہ سے ہندو شدت پسند عناصر مسلم پرسنل لا کے خلاف آواز بلند کرتے رہتے ہیں، اتنا ہی نہیں بلکہ یکساں سیول کوڈکے نفاذ کی باتیں بھی کی جاتی ہیں۔ مسلم پرسنل لا کے خلاف آواز بلند کرنے والے مسلم خواتین کی مظلومیت اور پسماندگی کا بہانہ بناکر خود کو مسلم خواتین کے خود ساختہ مسیحا اور مسلم خواتین کے حقوق کے علمبردار بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کاش کہ وہ کبھی سنجیدگی سے اسلامی قوانین کا مطالعہ کرتے، مسلم پرسنل لا پر غور کرتے اور اسلام نے خواتین کو جو حقوق و اختیارات دیئے ہیں، اس کی حکمت و مصلحت سے آشنا ہونے کی کوشش کرتے۔
اسلامی شریعت میں انسانوں کی زندگی کے ہر مسئلہ کا حل رکھا گیا ہے ۔ مرد و عورت کسی بھی خاندان کی اہم بنیاد ہوتے ہیں، جن کی وساطت سے نسلیں باقی رہتی ہیں اور معاشرہ اور سماج میں خوشگوار فضاء قائم ہوتی ہے ۔ اسلام نے شوہر اور بیوی کے تعلقات کو  کافی اہمیت دی ہے بلکہ دونوں کے خوشگوار تعلقات کو لازم اور ضروری قرار دیا ہے ۔ اسلام اس مرد کو بہتر مرد قرار دیتا ہے جواپنے اہل و عیال کے لئے بہتر ہو اور اس عورت کو جنت کی خوش خبری دیتا ہے جس کو دیکھ کر شوہر خوش ہوجائے ۔ قرآن مجید نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے ۔ جس طرح لباس سردی گرمی برسات کے موسمی اثرات سے بچنے میں مدد دیتا ہے اور ماحول کے مضر اثرات سے انسان کے جسم کی حفاظت کرتا ہے ، اسی طرح ہر قسم کی تکلیف ، پریشانی ، مصیبت ، تناؤ اور مسئلہ میں شوہر بیوی کیلئے لباس کا کام کرے اور بیوی شوہر کے لئے لباس بن جائے ۔ باوجود ان ہدایات کے مختلف وجوہات اور سماج و معاشرہ کے اثر سے شوہر اور بیوی کے درمیان اختلاف کا پیدا ہونا اور نااتفاقی کا جنم لینا کوئی انہونی بات نہیں ہے چنانچہ شریعت مطہرہ نے ایسے ہی نازک مواقع کے ضمن میں ہدایت دی کہ ہر دو فریق وسعت قلبی ، دور اندیشی ، فراخ دلی اور درگزر و معافی کا رویہ اپنائیں اور دونوں کے درمیان کسی بھی قسم کی رنجش اور دوری کو پیدا نہ ہونے دیں۔ شوہر کو خاص طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بیوی سے ناراض ہوکر تشدد نہ کرے کیونکہ عورت نہایت کمزور ہوتی ہے ، البتہ یہ ہدایت دی گئی کہ حسب ضرورت بیوی کو خواب گاہ سے علحدہ کردیں تاکہ علحدگی میں دونوں کو نفس مسئلہ پر اور خود اپنے رویہ اور رول پر نظر ثانی یا جائزہ لینے کا موقع مل جائے ۔ اس کے باوجود بات نہ بنے تو دونوں طرف کے بزرگوں کو مل کر فریقین میں مصالحت کی ہر ممکنہ کوشش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ خدانخواستہ پھر بھی مسئلہ کا حل نہ نکل سکے اور باہم کشیدگی اور نااتفاقی باقی رہے تو مرد کو اجازت دی گئی کہ وہ طہر کی حالت میں ایک طلاق دے۔ تاہم پہلی طلاق کے بعدد ونوں کے ملنے کا بلا شرط اختیار فریقین کو حاصل ہوگا ۔ ایک طلاق کے بعد فوری دوسری طلاق دینے سے منع کیا گیا اور دوسرے طہر سے فارغ ہونے پر دوسری طلاق کا استعمال ہوسکتا ہے لیکن پہلی اور دوسری طلاق کے درمیان کا وقفہ فریقین کیلئے کافی اہم ہوتا ہے جس میں وہ اختلافی امور پر غور و فکر کرسکتے ہیں اور ان اختلافات کو ختم کر کے دوبارہ زوجیت میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوسکے تو طہر کی حالت میں دوسری طلاق دی جاسکتی ہے ۔ تاہم اس کے بعد بھی فریقین زوجیت میں واپس ہونا چاہیں تو انہیں موقع حاصل رہے گا لیکن بدقسمتی سے دوسری طلاق کے بعد بھی شوہر اور بیوی میں صلاح صفائی نہ ہوسکے اور دونوں بھی علحدگی پر اصرار کریں تو تیسرے طہر میں تیسری طلاق دی جاسکتی ہے ۔ تیسری طلاق کے بعد فریقین ایک دوسرے کیلئے اجنبی ہوجائیں گے اور لازماً دونوں کے درمیان علحدگی ہوجائے گی ۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جو اسلام معاشرتی ہدایات کے ضمن میں سکھایا ہے وہ بھی اس صورت میں جبکہ فریقین کے درمیان نباہ کے تمام راستے بند ہوچکے ہوں اور دونوں کا یکجا رہنا ناممکن ہوگیا ہو۔ اسلام چونکہ خوشگوار ازدواجی زندگی کا علمبردار ہے تاکہ آنے  والی نسلوں کی فکری اخلاقی تربیت اور تعمیر ہوسکے۔ خوشگوار ازدواجی زندگی نہ ہو تو ایسے خاندان بظاہر زندگی گزارتے ہیں لیکن چین و سکون سے محروم اور اضطراب و بے چینی کے عالم میں ان کی گزر بسر ہوتی ہے اور ان کے بچوں پر اس کے شدید مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگرچیکہ طلاق کے ذریعہ شریعت شوہر و بیوی میں مذکورہ طریقہ سے علحدگی کی اجازت دیتی ہے لیکن ’’طلاق ‘‘ کو پسند نہیں کرتی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جائز چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ عمل اللہ کے نزدیک‘‘ طلاق ہے۔ طلاق اور طلاق ثلاثہ کی یہ حقیقت ہے شریعت نے جو طریقہ سکھلایا ہے وہ عین مبنی پر انصاف اور حکمت و مصلحت کو لئے ہوئے ہے لیکن ۔ کوئی شخص جہالت کی بناء پر ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہوکر ، وقتی جذبات سے مغلوب ہوکر یا پھر شراب و کباب کے زیر اثر بہ ایک وقت طلاق ثلاثہ کا مرتکب ہوتا ہے تو اس میں شریعت اور مسلم پرسنل لا کا کہاں قصور ہے ؟ قصور تو اس فرد کا ہے لیکن اس بہانے شریعت کے خلاف بیان بازی کرنا سوائے بدنیتی کے اور کچھ نہیں ہوسکتا۔ تعجب ہے کہ وزیراعظم اور ایک وزیر اعلیٰ پر جنہوں نے عورت سے کبھی واسطہ ہی نہیں رکھا عورت کی مظلومیت کو لیکر مسلم پرسنل لا پرنکتہ چینی کر رہے ہیں۔ کیا وہ اس بات کیلئے تیار ہیں کہ امتحانات میں چند طلباء کو نقل نویسی کی اجازت دے دی جائے اور انسداد نقل نویسی کے قوانین کو ظلم و بربریت سے تعبیر کیا جائے کیونکہ ان قوانین کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں طلباء کا مستقبل تاریک ہوجاتا ہے ۔ شریعت کے مخالفین کو آخر کون کس طرح سمجھائے کہ شریعت کا اطلاق صرف ان لوگوں پر ہوتا ہے جنہوں نے توحید کا اقرار کیا ہے اور شریعت کی پابندی کا عہد کیا ہے جو لوگ شرعی قوانین پر ایمان نہیں رکھتے اور جنہیں روز آخر جوابدہی کا یقین نہیں ہے چاہے وہ نقوی ، حسین ، انصاری اور خان جیسے نام رکھنے والے کیوں نہ ہوں انہیں مکمل اختیار ہے کہ وہ اپنے من پسند طریقے کے مطابق زندگی بسر کریں۔ اس بات سے انہیں کسی نے منع نہیں کیا کہ وہ گنیش کی پو جا کریں، چڑھاوے چڑھائیں، ماتا کے مقدس لوازمات سے لطف اندوز ہوں ، کباب و شراب کی محفلیں سجائیں ، طوائفوں کے ساتھ مستی کریں اور اسمبلی و پارلیمنٹ کی رکنیت یا وزارت حاصل کرنے کیلئے ماتھے پر تلک لگائیں لیکن انہیں یہ آزادی و اختیار کسی بھی صورت حاصل نہیں ہے کہ وہ الٰہی قوانین کے خلاف یا وہ گوئی کریں یا مذموم اظہار خیال کریں۔ مسلم نما نام رکھنے والی چند خود ساختہ مسلم خواتین کی فکر کرنے کے بجائے ان کیلئے زیادہ بہتر ہے کہ وہ ان ہزاروں خواتین کی حفاظت کریں جنہیں ان کے شوہر زندہ جلا رہے ہیں، ان لاکھوں خواتین کی طرف توجہ دیں جنہیں ان کے شوہروں نے بے یار و مددگار چھوڑدیا، ان لاکھوں بیوہ خواتین کی فکر کریں جن کی زندگی نان و شبینہ کی محتاج ہوچکی ہے ، ان لاکھوں خو اتین کی زندگیوں کو آباد کرنے کی کوشش کریں جو عصمت و عفت کا کاروبار کر رہی ہیں اوران لاکھوں ضعیف ماں باپ کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے کی فکر کریں جن کے بچوں نے انہیں بے یار مددگار چھوڑدیا۔
مسلمانوں کو یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہئے کہ ’’شریعت اسلامی‘‘ دراصل الٰہی قوانین کا مجموعہ ہے جسپر عمل در آمد ہر مسلمان کے ایمان و عقیدہ کا تقاضہ ہے ۔ حالات چاہے کتنے سنگین کیوں نہ ہوں مسلمان شریعت کو تھامے رہیں گے ۔ مخالفتیں چاہے جتنی بھی ہوں حتی کہ جان پر بن کیوں نہ آئے ، انہیں شریعت کو ترک نہیں کرنا ہے ۔ دوسری طرف یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ مصیبتیں اور مصائب ہر دور میں آتے رہے ہیں اور تاریخ شاہد ہے کہ ہر دور میں اہل ایمان نے ایمان اور توکل کی طاقت کے بل پر مخالفتوں کا سامنا کیا اور ساری دنیا کو بتلادیا کہ اسلامی شریعت مسلمانوں کی متاع عزیز ہے  اور مسلمان جان دے سکتا ہے لیکن شریعت میں کسی بھی طرح کی مداخلت برداشت نہیں کرسکتا۔
ملک میں حالات جس تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان حالات کا مقابلہ محض چند افراد یا چند جماعتوں یا اداروں سے ممکن نہیں ہے ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ یقیناً مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ ہے لیکن اس میں مسلمانوں کے مزید اداروں انجمنوں اور اہل قلم صحافی حضرات دانشور اور مصلحین کی شمولیت ضروری ہے تاکہ مسلمانوں کے وسیع تر اتحاد و اتفاق کو پروان چڑھایا جاسکے۔ اولین چیز جس کی ضرورت ہے وہ یہ کہ بورڈ کے چند اصحاب کو پیش آمدہ مسائل کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی گفت و شنید اور قانونی کارروائیوں کیلئے مختص کیا جائے تاکہ وہ مکمل یکسوئی سے ان امور کو انجام دے سکیں۔ دوسری طرف ملت کے عوام و خواص میں پرسنل لا کی اہمیت و افادیت اور ضرورت کو واضح کرتے ہوئے تعارفی مہم چلائی جائے کہ وہ نہ صرف مسلم پرسنل لا کیا ہے اس سے واقف ہوں بلکہ اس پر عمل کرنے اور وابستہ رہنے کا جذبہ ان میں پیدا ہوجائے۔ تیسری طرف غیر مسلم دانشور ، قانون داں ، میڈیا ، اہل علم اور خاص و عام کے سامنے مسلم پرسنل لا کو بطور نظام رحمت کے پیش کیا جائے تاکہ وہ مسلم پرسنل لا سے واقف ہوسکیں اور مسلم پرسنل لا کو لیکر ان کے اندر کی مختلف غلط فہمیاں دور ہوسکیں۔ ملک کی تمام قومی و علاقائی زبانوں میں مسلم پرسنل لا سے متعلق تعارفی لٹریچر تیار کیا جائے اور بڑے پیمانہ پر تقسیم کا اہتمام کیا جائے ۔ یہی وہ امور ہیں جن پر ہر خاص و عام کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اگر ان سے کوتاہی برتی گئی تو حالات مزید ابتر اور سنگین ہوسکتے ہیں اور اندیشہ ہے کہ آنے والی نسلوں کے لئے اسلامی شریعت پر عمل آوری مشکل ہوجائے ۔ امید کہ ملت کے سربر آوردہ اصحاب علماء زعما قائدین صلحا صحافی اور دانشور بلا کسی ذہنی تحفظ کے اس جانب توجہ دیں گے ، اللہ تعالیٰ توفیق خیر بخشے ۔ آمین  ؎
شاہین ہے تو زمین کی پستی نہ کر کبھی قبول
اپنے بلند عزم کو تاروں سے ہمکنار کر

TOPPOPULARRECENT