Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کی دستوری بنچ کا فیصلہ محفوظ

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کی دستوری بنچ کا فیصلہ محفوظ

ناپسندیدہ عمل بہتر اور عقیدہ کا معاملہ کیونکر ہوسکتا ہے ، مسلم اداروں سے استفسار
نئی دہلی ۔ /18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج مسلم اداروں سے یہ سوال کیا کہ طلاق ثلاثہ کو عقیدہ کا معاملہ کس طرح کہا جاسکتا ہے جبکہ خود ان کا یہ موقف ہے کہ یہ ایک گناہ کا کام ہے اور اسے ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی زیرقیادت 5 ججس پر مشتمل دستوری بنچ نے طلاق ثلاثہ کے دستوری جواز کو چیالنج کرنے والی مختلف درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ۔ اس نے مختلف فریقین بشمول مرکز ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ، آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لاء بورڈ اور دیگر کئی اداروں و تنظیموں کی سماعت گزشتہ 6 دن گرمائی تعطیلات کے دوران مکمل کی ۔ کورٹ نے مسلم پرسنل لاء بورڈ اور سابق مرکزی وزیر و سینئر وکیل سلمان خورشید کے بار بار دہرائے جانے والے اس موقف کا خاص طور پر نوٹ لیا کہ طلاق ثلاثہ کا قرآن مجید میں ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ یہ ایک گناہ کا کام ہے اسے ناپسندیدہ اور غلط سمجھا جاتا ہے اور عدالت کو اس معاملہ کا جائزہ نہیں لینا چاہئیے ۔ بنچ نے سلمان خورشید سے پوچھا کہ جب ایک گناہ کا کام ہے تو اسے عقیدہ کا معاملہ کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے ۔ کیا طلاق ثلاثہ کا عمل 1400 سال سے جاری ہے ؟ اس کا جواب ہاں میں ملے گا ۔ کیا یہ طریقہ کار دنیا میں رائج ہے اس کا جواب نفی میں ملے گا ۔ بنچ نے کہا کہ آپ خود اسے خراب اور ناپسندیدہ قرار دے رہے ہیں ۔ بنچ نے ان احساسات کا اظہار اس وقت کیا جب سلمان خورشید نے جو شخصی طور پر اس مقدمہ میں معاونت کررہے ہیں اس بات پر زور دیا کہ طلاق ثلاثہ ناپسندیدہ اور گناہ ہے ۔ تاہم ان کا یہ موقف تھا کہ عدالت کو اس معاملہ کا جائزہ نہیں لینا چاہئیے ۔ بنچ نے کہا کہ اگر کوئی کام گناہ ہے تو پھر یہ کسی عمل کا حصہ نہیں ہونا چاہئیے ۔ اگر کسی کام کو ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے تو پھر اسے قانون میں قبول نہیں کیا جاسکتا ۔ جو چیز اخلاقی طور پر غلط ہو وہ قانونی طور پر صحیح نہیں ہوسکتی ۔ جو چیز پوری طرح اخلاقی نہ ہو وہ قانونی نہیں ہوسکتی ۔ سینئر ایڈوکیٹ امیت سنگھ چڈھا نے شاعرہ بانو کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کی نفی کی اور کہا کہ طلاق ثلاثہ گناہ اور ناپسندیدہ عمل ہے اور یہ اسلام کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے ۔ شاعرہ بانو طلاق ثلاثہ کی متاثرہ اور اس مقدمہ کی فریق ہے ۔ بنچ نے واضح کردیا تھا کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ ان کے مذہب کی بنیاد ہے یا نہیں اس نے یہ بھی کہا تھا کہ فی الحال وہ کثرت ازدواج اور نکاح حلالہ کے مسائل سے نہیں نمٹے گی۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں معاملات کو زیرالتوا رکھا جائے گا اور ان کا فیصلہ بعدازاں کیا جائے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT