Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / طلاق ثلاثہ پر نئے قانون کی ضرورت نہیں ، حکومت کا موقف

طلاق ثلاثہ پر نئے قانون کی ضرورت نہیں ، حکومت کا موقف

نئی دہلی۔ 22 اگست (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج تین طلاق پر نئے قانون کی ضرورت کو عملاً مسترد کردیا جبکہ طلاق کے اس طریقہ کار کو سپریم کورٹ نے غیردستوری قرار دیا ہے۔ حکومت کے ردعمل سے اشارہ ملتا ہے کہ موجودہ قوانین کافی ہیں ، جن میں گھریلو تشدد سے نمٹنے کا قانون شامل ہے۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ پر مربوط انداز میں غور کرے گی۔ عدالتی فیصلہ کو پڑھنے سے بادی النظر میں واضح ہوجاتا ہے کہ پانچ رکنی بینچ کی اکثریت نے طلاق ثلاثہ کو غیردستوری اور غیرقانونی قرار دیا ہے۔ اس فیصلہ کو ان لوگوں کیلئے بڑی کامیابی بتاتے ہوئے جو پرسنل لا کو ترقی پسند دیکھنا چاہتے ہیں، وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اب قانون ارض ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلامی دنیا کے کئی حصوں میں تین طلاق کے طریقہ کار کو مسترد کیا جاچکا ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ سپریم کورٹ کا فیصلے پر کس طرح عملدرآمد کیا جائے گا اور کیوں اس حکم نامہ کو لاگو کرنے کیلئے کوئی قانون درکار نہیں ہے، حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے وضاحت کی کہ اگر شوہر تین طلاق کا استعمال کرتا ہے تو شادی ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم نامہ کے بعد کسی بھی شوہر کی طرف سے طلاق ثلاثہ کے طریقہ کار کا استعمال قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔ شادی کے تئیں اس کا فرض برقرار رہے گا۔ بیوی بھی ایسے شخص کو پولیس کے پاس گھسیٹ لانے اور ہراسانی یا گھریلو تشدد کی شکایت درج کرانے کیلئے آزاد رہے گی۔ اس طرح انہوں نے اشارہ دیا کہ موجودہ تعزیری دفعات اس طریقہ کار کے انسداد کیلئے موجود ہیں اور کافی ہیں۔ مرکز اب تمام ریاستوں کو ایڈوائزری بھیجنے والا ہے جس کے ذریعہ ان سے سپریم کورٹ حکم نامہ کی تعمیل کو یقینی بنانے کیلئے کہا جائے گا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ وزارت ، ریاستی حکومتوں سے کہے گی کہ اس ضمن میں مناسب عمل کیا جائے۔ جہاں چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ایس عبدالنذیر کی رائے رہی کہ تین طلاق کے طریقہ کار کو 6 ماہ تک معطل رکھتے ہوئے حکومت سے اس ضمن میں کوئی قانون وضع کرنے کیلئے کہا جائے، وہیں جسٹس کورین جوزف، جسٹس آر ایف نریمن، جسٹس یو یو للت نے یہ موقف اختیار کیا کہ طلاق کا یہ طریقہ کار دستور ہند کے مغائر ہے۔ اکثریتی فیصلہ میں کہا گیا کہ طلاق ثلاثہ کے بشمول کوئی بھی عمل قرآن مقدس کے اصولوں کے خلاف ہو ، تو ناقابل قبول ہے۔ تینوں ججوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کے ذریعہ شادی ختم کرنے کا عمل کھلے طور پر ظلم ہے اور دستور کی خلاف ورزی بھی کرتا ہے، اس لئے اسے ’’کالعدم ‘‘ کردینا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT