Saturday , May 27 2017
Home / مذہبی صفحہ / طلاق ثلاثہ کا موضوع ہی کیوں زیربحث ہے؟

طلاق ثلاثہ کا موضوع ہی کیوں زیربحث ہے؟

اسلام کا نظام حیات انسانی زندگی کے سارے شعبوں میں رہبری ورہنمائی کرتاہے،ازدواجی بندھن بھی حیات انسانی کا ایک اہم فطری گوشہ ہے، اس بارے میں اور اورشعبوں سے متعلق احکام ومسائل سے زیادہ اسلام نے وضاحت وصراحت کے ساتھ رہنمائی کی ہے:نکاح ،خلع ،انفساخ نکاح ،عدت،وراثت،رضاعت وحضانت،جیسے اہم مسائل پر اسلام کے فطری ورہنمایانہ اصول وضوابط موجودہیں جوابدی حیثیت رکھتے ہیں ۔اسلامی احکام کی روح اوراسکے مصالح سے نا واقف اسلامی احکام پر انگلی اٹھاتے ہیں جبکہ اسلامی احکا م کی خوبی یہ ہے کہ وہ جہاں نافذہوںوہاں چین وسکون ہوگا اوروہ معاشرہ اضطراب وبے چینی سے پاک ہوگا۔موجودہ معاشرہ کا چین وسکون اسی لئے رخصت ہوگیا ہے کہ اس میں اسلامی فطری احکام کی پاسداری باقی نہیں رہی ہے۔
نکاح وشادی اورطلاق وخلع جیسے قوانین صرف اسلام اورمسلمانوں تک محدود نہیں پورے ملک بلکہ سارے عالم کا یہ مسئلہ ہیں،ہماراملک کثیرالمذاہب افرادپر مشتمل ہے اورتمام مذاہب میں شادی بیاہ بوقت ضرورت جدائی (سپریشن)کا عمل ایک فطری ضرورت کے طورپر تسلیم شدہ ہے۔اس گوشہ میں اسلام کے رہنمایا نہ خطوط بڑے صاف وشفا ف ہیں،اسلامی احکام کی روسے طلاق وغیرہ کی حیثیت گویا ایمرجنسی ڈورکی سی ہے، ناگزیرضرورت ہی پراسکا استعمال دانشمندانہ حکمت عملی کا تقاضہ ہے اسلام اسکی حمایت کرتا ہے،دشمنی یا لاعلمی یا کوتاہ ذہنی کی وجہ اس کو نازک وحساس مسئلہ بناکر پیش کرنا اسلام اورمسلمانوں کے خلاف ایک منصوبہ بندسازش نہیں تو پھر اورکیا ہے؟
طلاق وخلع وغیرہ جیسے علمی وشرعی مسائل کی پوری جا نکاری جبکہ مسلمانوں کے اکثرطبقے کو نہیں ہے تو پھر دیگرمذاہب کے افرادکو اسکی کیا واقفیت ہوسکتی ہے؟ الکٹرانک میڈیا پر ایسے ہی افراد اس موضوع پر بحث کرتے دکھائی دے رہے ہیں ،نا واقف نام نہادمسلم مردوخواتین اس بحث میں زوروشورسے حصہ لیتی ہیں ،فریق مخالف انکی بحث کو سماجی بنیادوں پر کنڈم کرتاہے ،اس طرح یہ پیغام دیا جاتاہے کہ اس موضوع پر بحث کرنے والے مسلم دانشوراپنی ہارمان چکے ہیں۔ایسے میں عام مسلمانوں اوردیگرسیکولر اقدارپر یقین رکھنے والوں کو اس منصوبہ سازشی پیغام پراعتمادنہیں کرنا چاہیئے بلکہ ان قوانین کے ماہرین سے رجو ع کرکے اپنی تشفی کا سامان کرنا چاہئیے ۔پرنٹ میڈیا بھی اس کازمیں پیچھے نہیں ہے وہ بھی اسلام کے فطری قوانین کو کنڈم کرنے کیلئے جان توڑکوشش کررہاہے۔
ایسے نازک حالات میں مسلم سماج کو اپنا جائزہ لینا چاہئے ،اسلام سے اپنے رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی عملی جدوجہد کرنی چاہئے ۔نکاح کا بندھن جو اسلامی نظام کا ایک فطری و پاکیزہ حصہ ہے جوتاحیات نبھانے کے جذبہ سے ایک مسلم مردوخاتون کے درمیان اسلامی احکام کی بنیادوں پر قائم ہوتاہے اسلئے مسلم سماج میں طلاق وغیرہ کے بڑھتے رجحان پر بھی روک لگنی چاہئے ۔طلاق کے واقعات کی کثرت میں مردوعورت دونوں مساوی طورپر شریک ہیں ۔تحقیق کے مطابق گوکہ طلاق کا تناسب اوروں کے بالمقابل مسلم سماج میں کم ہے لیکن اسلامی احکامات،ازدواجی بندھن کی اسلامی روح اورسابقہ ادوار کے خداترس مسلم سماج کو پیش نظر رکھا جائے تو نسبتا موجودہ مسلم معاشرہ طلاق کے بکثرت واقعات سے دوچارہے،اس پر سنجیدہ غوروفکرکی ضرورت ہے۔
ازدواجی زندگی میں کسی بھی چھوٹے بڑے اختلاف کی صور ت میں لڑکی اورلڑکی والوں کا پولیس سے رجوع ہونا اوراسکے بعد کی  498-Aکے تحت کی جانے والی قانونی کاروائی کے نتیجہ میں مسلم سماج بکھر رہاہے ،لڑکیوں کو بجائے فائدہ کے شدیدضررونقصان پہونچ رہاہے، پولیس اورعدالتی کاروائیوں کی وجہ بآسانی حل ہونے والے مسائل بھی گنجلک اورگمبھیرہوتے جارہے ہیں ،مسلم سماج کو اس ناعاقبت اندیشی کے نقصانات کو محسوس کرنا چاہیئے اورایسے جذباتی فیصلے لینے سے سخت احتراز کرنا چاہیئے جواپنے پیرپر اپنے ہاتھ سے کلہاڑا مارنے کے مترادف ہے۔
طلاق کا موضوع اس وقت پورے ملک پر چھایا ہواہے ،حکومت ،عدلیہ اورذرائع ابلاغ کے ساتھ ہر وہ فرد جو اسلامی احکام کے ’’ابجد‘‘سے واقف نہیں وہ بھی زورشورسے اس موضوع پر اظہارخیال کو ضروری سمجھ رہا ہے۔اس طرح کے اسلامی موضوعات پر زبان کھولنے والے کچھ کھلے دشمن بھی ہیں جو برملا اپنی اسلام ومسلم دشمنی کا ببانگ دہل اظہارکررہے ہیں، اورکچھ وہ بھی ہیں جو درپردہ اسلام دشمن ہیں لیکن انسان دوستی کے فرضی روپ میں مسلم خواتین کی حمایت ومددکیلئے اٹھ کھڑے ہیں۔مسلم سماج کے کچھ ایسے سادہ لوح بندے بھی ہیں جودشمنان اسلام کی سازشوں اوراسلام کے خلاف انکی جاری ریشہ دوانیوں سے نا واقف ،صرف ان کے ظاہری ہمدردانہ روپ سے متاثرہیں ،اس نادانی کی وجہ وہ دشمن طاقتوں کے ایجنڈہ کومضبوط کررہے ہیں ، اورکچھ امت کے ایسے افراد بھی ہیں جو برائے نام مسلمان ہیں ،اسلام سے انکو کوئی مطلب نہیں وہ اپنے مفادات کو عزیزرکھتے ہیں اور اقتدارپر براجمان افرادکو خوش کرنے کی کوشش میں اپنے خالق ومالک کی ناراضگی مول لیتے ہیں۔افسوس اس بات کا ہے کہ اس صف میں ہمارے ملک کے کچھ ایسے مذہبی رہنمادکھائی دے رہے ہیں جو خاندانی یااپنے طے کردہ مذہبی روایا ت کی وجہ منصب رشدوہدایت پر فائز ہیں۔ اسلامی ہدایات اوراسلام کے سچے پیروبزرگان سلف کی اسلامی روایات کی تصدیق جن کو حاصل نہیں، یہاں ان کی مذہبی حیثیت اس وقت زیربحث نہیں لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اس پر لب کشائی سے احترازکرتے ،اگربولنا ہی ضروری سمجھا جارہا تھا توقرآن وسنت کے علوم کا گہرائی سے علم رکھنے والے علماء سے مشاورت کے بعد زبان کھولتے۔طلاق ثلاثہ کے موضوع پر کچھ وہ خواتین بھی   لب کشائی کررہی ہیں جواپنی دانست میں اپنے آپ کو دانشورخیال کرتی ہیں،ایسی خواتین میں ملک کی ایک نا مورخاتون بھی شریک ہے جوملک کے اہم اوردستوری عہدہ پر فائزمسلم شخصیت کی رفیق حیات ہونے کا اعزازرکھتی ہے۔ملک میں فسطائی طاقتیں جو اودھم مچائی ہوئی ہیں اورجن کا مقصدایک خاص آفاقی وآسمانی مذہب اوراسکے ماننے والوں کونشانہ بنانا ہے ،اس سازش سے کیا وہ (خواتین)لاعلم ہیں؟اگرزبان کھولنے کا شوق ہے توملک کی نازک صورتحال پر کوئی تبصرہ کرنے سے وہ کیوں گریزاں ہیں؟سیکولر ملک میںخالص ہندومذہبی روایات کے نفاذکی غیرجمہوری کوششوں کے خلاف کیوں ان کی زبان پر تالا لگ جاتاہے؟گاؤرکھشا کے فرضی جنون کی وجہ ملک میں جو غنڈہ گردی مچی ہے اسکی روک تھام کیلئے کوئی اقدام ان کے پیش نظر کیوں نہیں ہے؟انسانی جانوں سے کھلواڑکرنے والے مجرمین کے خلاف انسانی وجمہوری بنیادوں پر مظلوم مقتولین اورانکے افرادخاندان سے کوئی ہمدردی کرنے اوران کادردوکسک محسوس کرنے کے انسانی جذبہ سے انکے دل کیوں محروم ہوگئے ہیں؟عورتیں تو فطری طورپر دردمندی ودل سوزی کا پیکر ہوتی ہیں ،انکا نازک فطری مزاج ایسے خوں آشام انسانیت سوزمظالم کا تحمل ہی نہیں کرسکتا پھربھی وہ اپنے فطری احساسات کے خلاف کیسے ان اقدامات کو گوارہ کی ہوئی ہیں؟ دستور کے اعتبارسے انسانی جان ومال ،عزت وآبروکی حفاظت ،تعلیم ،صحت،روزگار،رشوت،سود،شراب،ملک کے بہت بڑے مالی سرمایہ کے ڈاکوؤں اورغاصبین جیسے وجئے مالیہ وغیرہ سے ملکی سرمایہ کی بازیابی وغیرہ جیسے اہم مسائل اس وقت ملک کو درپیش ہیں، جس کی وجہ ملک کا سیکولر کردارداؤپر لگ گیا ہے۔ اس پر حکومت کے ذمہ داروں ،قانونی اداروں بلالحاظ مذہب وملت ملک کے تمام دانشوروں کوایک جٹ ہوکرسنجیدہ کوشش کرنی چاہیئے ،اس سلسلہ میں عوامی تمام طبقات کو اس جد وجہد میں عملا شریک کرنا چاہئیے تاکہ ملک کی رعایہ خوشحال رہے اورملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے۔
ایسے مسائل جوملک میں رہنے والی رعایہ کے مذہب وآستھا سے جڑے ہوئے ہیں انکو بلاوجہ موضوع بحث بنانا اوراس پر اپنی ساری توانائیاں صرف کرنا نہ حکومت کو زیبا ہے نہ عدلیہ کو،اورنہ ہی فرضی دانشوروں کو اس مہم میں اپنے اوقات کھپانا چاہئے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT