Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / طلاق ثلاثہ کیخلاف درخواست گذار خواتین کو دھمکیاں

طلاق ثلاثہ کیخلاف درخواست گذار خواتین کو دھمکیاں

تحفظ کا مطالبہ ، ٹیلیفون پر دھمکیوں ، بدگوئی اور الزام تراشی کی شکایت، چیف منسٹر کو مکتوب
کولکاتا 25 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) طلاق ثلاثہ کے خلاف مقدمہ میں درخواست پیش کرنے والی 5 خواتین میں سے ایک عشرت جہاں نے چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اُن سے مطالبہ کیاکہ اُن کے لئے اور اُن کے بچوں کے لئے حفاظتی اور صیانتی انتظامات کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ اُنھیں اُن کے سسرالی رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دھمکیوں کا سامنا ہے۔ نازیہ الٰہی خان مشیر قانونی عشرت جہاں نے کہاکہ بعض پڑوسی اور اُس کے سسرالی رشتہ دار اُس پر الزام عائد کررہے ہیں کہ وہ اپنی برادری کے مفادات کے خلاف گئی ہے۔ عشرت اور اُس کے بچوں کو بدسلوکی اور دھمکیوں کا اُس کے پڑوسیوں اور چند سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے نشانہ بنایا جارہا ہے جو ہوڑہ کے علاقہ پیل خانہ میں مقیم ہیں۔ یہ علاقہ وہی ہے جہاں عشرت جہاں اپنے بچوں کے ساتھ مقیم ہے۔ عشرت جہاں نے اخباری نمائندوں سے کہاکہ اُس نے چیف منسٹر ممتا بنرجی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اپنے اور اپنے بچوں کے لئے تحفظ طلب کیا ہے۔ مکتوب کی نقول ہوڑہ سٹی پولیس کمشنریٹ اور مقامی گولہ باروی پولیس اسٹیشن کو روانہ کی جاچکی ہیں۔ اُس نے کہاکہ اُسے بدگوئی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ عدالتی فیصلہ ہونے کے بعد سے اُن پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ ایک بُری شخصیت ہیں کیا کوئی شخص اپنے حقوق طلب کرنے پر بُری شخصیت بن جاتا ہے۔ عشرت جہاں کے شوہر نے فون پر دبئی سے 2014 ء میں طلاق کا لفظ تین بار ادا کرتے ہوئے اُنھیں طلاق دے دی تھی۔ اِس رواج کو سپریم کورٹ نے 22 اگسٹ کو کالعدم قرار دیا۔ اُس کی 13 سالہ بیٹی اور 7 سالہ بیٹا ہے۔ اُس نے کہاکہ وہ اِس تاریخی فیصلے پر انتہائی خوش ہے۔ عشرت جہاں اور اُس کی مشیر قانونی نے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کیا ہے کہ اُسے فون پر دھمکیاں دی جارہی ہیں، بدگوئی کی جارہی ہے اور ہراساں کیا جارہا ہے۔ اُس نے چیف منسٹر پر زور دیا ہے کہ اُنھیں اور اُن کے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT