Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ کی اسلام میں اجازت لیکن بیجا استعمال نہ کیا جائے

طلاق ثلاثہ کی اسلام میں اجازت لیکن بیجا استعمال نہ کیا جائے

یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر احتجاج شروع کرنے کا اشارہ، مولانا ولی رحمانی کا بیان
نئی دہلی۔/15اکٹوبر، ( سیاست نیوز) اسلام میں تین طلاق کی اجازت ہے لیکن اس کا بیجا استعمال نہیں ہونا چاہیئے جس کی وجہ سے حکومت کو اس شرعی عمل کو نشانہ بنانے کا موقع فراہم ہورہا ہے۔ قومی دارالحکومت علاقہ سے تعلق رکھنے والے ائمہ کی کانفرنس میں ان خیالات کا اظہار کیا گیا۔ اس کانفرنس میں تقریباً 500 ائمہ کرام نے شرکت کی اور طلاق ثلاثہ کے علاوہ لا کمیشن کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کے سلسلہ میں عوامی رائے حاصل کرنے کی کوشش کی سختی سے مخالفت کی گئی۔ کمیشن کے اس اقدام کے جواب میں ائمہ کرام نے مسلم طبقہ کے ارکان بالخصوص خواتین سے دستخط حاصل کرتے ہوئے یہ پیام حکومت تک پہنچانے کا فیصلہ کیا کہ انہیں موجودہ اسلامی قوانین کے سلسلہ میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مفتی اعجاز ارشد قاسمی نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ طلاق ثلاثہ کے بیجا استعمال سے متعلق شکایات سے نمٹا جائے گا۔ تین طلاق کی اسلام میں اجازت ہے لیکن اس کا بیجا استعمال نہیں ہونا چاہیئے جس کی وجہ سے حکومت کو ہم پر تنقید کا موقع فراہم ہورہا ہے۔جنرل سکریٹری پرسنل لا بورڈ مولانا ولی رحمانی نے ائمہ کرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضرورت پڑنے پر اس مسئلہ پر احتجاج کیلئے ذہنی طور پر تیار رہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج پرامن رہے گا۔

 

تین طلاق پر حکومت کے موقف کی مخالفت
یکساں سیول کوڈ پر سوالبند پر تنقید، بریلوی علماء کا بیان

بریلی 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں کے بریلوی فرقے نے تین طلاق کے مسئلہ پر مرکز کے موقف اور یکساں سیول کوڈ (یو سی سی) پر لاء کمیشن کے سوالبند کی مخالفت کی ہے۔ بریلوی، ہندوستان میں مسلمانوں کا ایک بہت بڑا فرقہ ہے۔ درگاہ اعلیٰ حضرت رضا خاں بریلوی پر کل رات منعقدہ علماء کے اجلاس کے بعد اس کے سابق سجادہ نشین اور سرپرست مفتی اختر رضا خاں نے آج ایک بیان جاری کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ میں مرکز کی طرف سے داخل کردہ حلفنامہ کی سخت مذمت کی اور کہاکہ یکساں سیول کوڈ پر جاری کردہ سوالبند کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اختر رضا خاں نے مزید کہاکہ ’’قرآن و حدیث کے مطابق تین طلاق، اصولی طور پر درست ہے لیکن اسلام میں بیک وقت تین طلاق کہنا اچھا نہیں سمجھا جاتا چنانچہ شرعی عدالتیں اس ضمن میں فیصلہ دے چکی ہیں‘‘۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ اس مسئلہ پر سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کرنا دراصل مسلم پرسنل لاء اور اقلیتوں کو دستور کے تحت دیئے گئے حقوق میں مداخلت ہے۔ اختر رضا خاں نے کہاکہ اگر مرکزی حکومت اس مسئلہ پر غیر ضروری اصرار سے باز نہیں آئے گی تو ہندوستانی شرعی کونسل بھی اس (حکومت) کے خلاف ایجی ٹیشن کے لئے مجبور ہوجائے گی۔ درگاہ اعلیٰ حضرت کے ترجمان مفتی محمد سلیم نوری نے الزام عائد کیاکہ تین طلاق کے بہانہ مرکزی حکومت یکساں سیول کوڈ کے پرانے مسئلہ کے احیاء کی کوشش کررہی ہے جو ملک کے لئے بہتر نہیں ہے۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے علماء نے الزام عائد کیاکہ مسلم خواتین کو اسلام کے خلاف اُکسایا جارہا ہے اور ایسے افراد اصل مقصد حساس مسئلہ پر داخلی اختلافات پیدا کرنا ہے تاکہ مسلم پرسنل لاء کو ہی ختم کردیا جائے۔ ان علماء نے مسلم خواتین پر زور دیا کہ اُنھیں اسلامی شریعت پر بھروسہ رکھنا چاہئے اور اپنی طلاق سے متعلق مسائل کو شرعی عدالتوں سے رجوع کرنا چاہئے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT