Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / ’طلاق ثلاثہ کی تنسیخ پر شادی بیاہ و طلاق پر مرکز کا نیا قانون‘

’طلاق ثلاثہ کی تنسیخ پر شادی بیاہ و طلاق پر مرکز کا نیا قانون‘

سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل کی بحث، مسلمانوں میں کثرت ازدواج اور نکاح حلالہ پر متعاقب غور

نئی دہلی۔ 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہاکہ فی الحال وہ صرف تین طلاق کے مسئلہ پر سماعت کرسکتا ہے اور مسلمانوں میں کثرت ازدواج اور نکاح حلالہ جیسے مسائل پر مستقبل میں غوروخوض کیا جائے گا لیکن مرکز نے ان پہلوؤں پر بھی بحث کیلئے اصرار کیا۔ چیف جسٹس جے ایس کیہر کی قیادت میں پانچ رکنی دستوری بنچ نے کہا کہ ’’ہمیں حاصل محدود وقت میں ان تمام تین مسائل سے نمٹنا ممکن نہیں ہوگا‘‘۔ یہ تاثرات اس وقت ظاہر کئے گئے جب اٹارنی جنرل (اے جی) مکل روہتگی نے مرکز کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے کہا کہ نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج بھی دو ججوں کی بنچ کے حکم میں شامل ہیں جنہیں مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کے بشمول تین مسائل کو دستوری بنچ سے رجوع کیا گیا ہے۔ روہتگی نے کہا کہ ’’طلاق ثلاثہ، نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج جیسے تمام تین مسائل رجوع کرنے کی گنجائش ہے۔ دو ججوں کی بنچ کے حکم کے حوالہ کی بناء پر یہ تمام تین مسائل اس عدالت سے رجوع کئے جاچکے ہیں‘‘۔ مرکز کے اس ادعا کو نمایاں اہمیت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے ریمارک کیاہی کہ فی الحال وہ صرف طلاق ثلاثہ کے مسئلہ سے نمٹنا چاہتی ہے وہ بھی اس شرط پر کہ یہ مسئلہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے اگر کوئی تعلق رکھتا ہے۔ جسٹس کیہر کی قیادت میں اس بنچ نے جس میں جسٹس کورئین جوزف، آر ایف ناریمن، یویوللت اور عبدالقدیر بھی شامل ہیں، اٹارنی جنرل نے درخواست کی کہ اس بات پر وضاحت کردی جائے کہ نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کے مسائل ہنوز زیرغور ہیں اور مستقبل میں کوئی دوسری بنچ ان مسائل سے نمٹ سکتی ہے۔ یہ بنچ مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کے طریقہ کار کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ سات مختلف درخواستوں کی یکجا سماعت کررہی ہے جس میں مرکز نے آج اپنی بحث کا آغاز کیا ہے۔ قبل ازیں حکومت نے سپریم کورٹ سے آج کہا کہ طلاق ثلاثہ کو اگر عدالت میں غیردستوری اور ناجائز قرار دیتی ہے تو وہ مسلمانوں میں شادی و طلاق کو باقاعدہ بنانے کیلئے ایک قانون وضع کرے گی۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیھہر کی قیادت میں پانچ رکنی دستوری بنچ سے کہا کہ ’’عدالت کی طرف سے اگر فوری طلاق کے طریقہ کار طلاق ثلاثہ کو کالعدم کرتی ہے تو مسلم برادری میں شادی بیاہ اور طلاق کو باقاعدہ بنانے کیلئے مرکزی حکومت ایک قانون وضع کرے گی‘‘۔ روہتگی نے یہ استدلال اس وقت پیش کیا جب عدالت نے ان سے دریافت کیا کہ اگر ان طریقوں کو کالعدم کیا جاتا ہے تو اس کے بعد کسی مسلم مرد کے پاس نکاح اور شادی فتح کرنے کے کیا راستے باقی رہیں گے۔ اس مقدمہ کی سماعت کا آج تیسرا دن تھا۔ عدالت عظمیٰ نے گذشتہ روز اس تاثر کا اظہار کیا تھا کہ مسلمانوں میں عقدنکاح کی تنسیخ سے متعلق طلاق ثلاثہ ’’ایک انتہائی بدترین‘‘ اور ’’ناپسندیدہ‘‘ طریقہ کار ہے لیکن بعض ایسے فقہی مسلک اور مکاتب فکر ہیں جو اس کو ’’قانون‘‘ قرار دیتے ہیں۔ بنچ نے یہ ریمارک اس وقت کیا تھا جب سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید نے مختلف مکاتب فکر کے فقہی شہادتوں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ طلاق ثلاثہ ناپسندیدہ لیکن جائز ہے۔ جمعہ کو سماعت کے دوران دو سرکردہ وکلاء رام جیٹھ ملانی اور سابق مرکزی وزیر عارف محمد خاں نے طلاق ثلاثہ کے خلاف پوری شدت سے بحث کی تھی۔ طلاق ثلاثہ کی مخالف درخواست گذار فرح فیض نے الزام عائد کیا تھا کہ مسلم علماء تحت کی عدالتوں اور عدالت العالیہ جیسا متوازی عدالتی نظام چلارہے ہیں، جس پر بنچ نے کہا کہ ’’اس نقطہ کو قبول کیا جاتا ہے آپ نے بہت اچھا نقطہ اٹھایا ہے‘‘۔ عدالت نے اس مقدمہ کی سمعات کیلئے چھ دن دیئے ہیں جن میں تین دن طلاق ثلاثہ کو چیلنج کرنے اور ماباقی تین دن اس کی دفاع کرنے والوں کیلئے دستیاب ہیں۔

TOPPOPULARRECENT