Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ کی جانچ ’’عدالتی قانون سازی‘‘ : مسلم پرسنل لا بورڈ

طلاق ثلاثہ کی جانچ ’’عدالتی قانون سازی‘‘ : مسلم پرسنل لا بورڈ

سپریم کورٹ میں تازہ حلف نامہ ، طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ اور کثرتِ ازدواج کی مدافعت ، مودی حکومت کا موقف ’’بکواس‘‘

نئی دہلی۔ 18 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ  نے آج طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ اور کثرتِ ازدواج کی سپریم کورٹ کی جانب سے جانچ کو عدالتی قانون سازی کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرسنل لاز کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا، اس بنیاد پر کہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ کل ہند مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے تازہ حلف نامہ میں نریندر مودی حکومت کے موقف کو ’’بکواس‘‘ قرار دیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کو ان عوامل پر نظرثانی کرنی چاہئے کہ کیا یہ بنیادی حقوق جیسے صنفی مساوات اور سیکولرازم کے اقدار کے خلاف ہیں۔ جو دستور ہند کے ڈھانچہ کے اہم اجزاء ہیں۔ بورڈ کے سیکریٹری محمد فضل الرحیم نے کہا کہ اگر عدالت مسلم پرسنل لاز جو شادی، طلاق اور نان و نفقہ سے متعلق ہیں، جائزہ لینا جاری رکھتی ہے تو یہ عدلیہ کی قانون سازی کے مترادف ہوگا اور دستور میں اختیارات کی تقسیم کے نظریہ کے خلاف ہوگا۔ بورڈ نے ان قوانین کی عدالتی چانچ کی مخالفت کی وجوہات پیش کرتے ہوئے اپنی درخواست میں یہ سوال اٹھایا کہ یہ تمام مسائل قانون سازی کی پالیسی کے مسائل ہیں۔

علاوہ ازیں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے بہانے پرسنل لاز کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی اصلاح کے بہانے پرسنل لاز ازسرنو تحریر نہیں کئے جاسکتے کیونکہ انہیں دستورِ ہند کی دفعات 25 ، 26 اور 29 ’’مذہبی آزادی‘‘ کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ لا کمیشن کی یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی تازہ کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے بورڈ نے کہا کہ اس کا تعلق دستور کی مملکتی پالیسی کے رہنمایانہ خطوط سے متعلق ہے۔ چنانچہ کوئی بھی چیز مسلط نہیں کی جاسکتی۔ مذہبی صحیفوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی اپنے طور پر تاویل کی جاسکتی ہے۔ ایسی صورت میں جس کی نوعیت منفرد ہو لیکن ایسے متن میں مسئلہ کا حل موجود نہ ہو۔ حکومت نے پہلی بار اس عمل کی مخالفت کی ہے۔ طلاق ثلاثہ ، نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کو صنفی انصاف کے اصولوں کی روشنی میں زیرغور آنا چاہئے۔ عدم تعصب ، وقار اور مساوات کے اصولوں پر غالب آنے والا نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ بورڈ نے شوہروں کو طلاق کا حق دینے کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ تمام قانون ساز اس بات پر متفق ہیں کہ شوہر کو طلاق کا حق ہونا چاہئے۔ کسی بھی تاریخ اسلام کے قانون داں نے اس کے برعکس نظریہ پیش نہیں کیا۔

TOPPOPULARRECENT