Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ کی درخواستوں پر دستوری بنچ فیصلہ کریگی

طلاق ثلاثہ کی درخواستوں پر دستوری بنچ فیصلہ کریگی

سپریم کورٹ کا بیان، مرکز کی جانب سے طلاق ثلاثہ پر اعتراض

نئی دہلی۔16 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایک پانچ رکنی دستوری بنچ سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی جائے گی جو طلاق ثلاثہ، نکاح حلالہ اور کثیر زوجگی کے مسلمانوں میں رواج کے بارے میں پیش کردہ درخواستوں کی سماعت اور ان کا فیصلہ کرے گی۔ اس بنچ کے صدر چیف جسٹس جے ایس ایہر کی زیر صدارت ایک بنچ نے تین مسائل کے مجموعے کو اپنے ریکاڈر میں شامل کرلیا جو فریقین کی جانب سے تیار کئے گئے تھے اور ان مقدمات کے بارے میں تھے۔ بنچ نے کہا کہ دستوری بنچ 30 مارچ کو ان درخواستوں کا فیصلہ سنائے گی۔ دریں اثناء مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں مسائل کی ایک فہرست پیش کی ہے تاکہ ان کا فیصلہ کیا جاسکے۔ اس نے فریقین کے بنیادی حق پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ کسی کے مذہب کی تشہیر طلاق ثلاثہ، نکاح حلالہ اور کثیر زوجگی کے ذریعہ محفوظ نہیں رکھی جاسکتی۔ این ڈی اے حکومت نے پہلی بار عدالت عالیہ میں ایسے عمل کے انسداد کے لیے جو مسلمانوں میں جاری ہے، صنفی مساوات، سکیولرزم اور بین الاقوامی کنونشنوں کے فیصلوں کی تعمیل کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں یہ مسئلہ پیش کیا ہے۔ دستور کی دفعہ کے بموجب عوامی نظم و ضبط، اخلاق و کردار اور صحت کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت جو اس موضوع پر دستور میں موجود ہیں، تمام افراد آزادیٔ ضمیر کے مساوی طور پر مستحق ہیں اور انہیں حق حاصل ہے کہ آزادانہ طور پر تبلیغ کرسکیں، عمل کرسکیں اور مذہب کی تشہیر کرسکیں۔ حکومت نے اس کے بعد یہ سوال اٹھایا کہ کیا عمل اور مذہب کی تشہیر کرنے کا حق دیگر اہم خطوط کے تحت ہے جیسے کہ حق مساوات (دفعہ 14) حق زندگی (دفعہ 21) دستور ہند۔ مرکزی حکومت نے دستور ہند کی دفعہ 13 کا بھی حوالہ دیا جو یہ گنجائش فراہم کرتی ہے کہ کوئی بھی قانون کالعدم قرارپائے گا اگر وہ دستوری اسکیموں کے مطابق نہ ہو اور مسلم پرسنل لا کی جانب سے منظور کیا گیا ہو کیوں کہ دستور ہند کی دفعات کے مطابق اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے۔ مرکزی حکومت نے سوال کیا کہ کیا ایسا کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔ مرکز نے ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے مسلمانوں کے اس عمل کو دستوری اصولوں کی جیسے صنفی مساوات، سکیولرزم اور بین الاقوامی کنونشنوں، مذہبی کارروائیوں اور مختلف اسلامی ممالک میں رائج ازدواجی قانون کے برعکس قرار دیا۔ مرکز نے کہا کہ طلاق ثلاثہ، نکاح حلالہ اور کثیر زوجگی کے کارآمد ہونے پر صنفی مساوات اور دیگر غالب اصولوں کی بنیاد پر غور کرنا چاہئے جیسے بے تعصبی، وقار اور مساوات وغیرہ۔

TOPPOPULARRECENT