Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ کی مخالفت کے پس پردہ خفیہ ایجنڈہ نہیں

طلاق ثلاثہ کی مخالفت کے پس پردہ خفیہ ایجنڈہ نہیں

بیشتر مسلم ممالک میں امتناع شریعت میں مداخلت نہیں ؟ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد کا استفسار، صنفی مساوات کی تائید

نئی دہلی 20 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت کا کوئی ’’پوشیدہ ایجنڈہ نہیں ہے‘‘ کہ وہ یکساں سیول کوڈ مسلط کرے یا مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کے رواج کی مخالفت کرے۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے مذہبی تنظیموں اور اپوزیشن پارٹیوں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اُنھوں نے یہ بھی کہاکہ ہندوستان آزادیٔ مذہب و عقیدہ کا احترام کرتا ہے۔ ناجائز یا تعصب پر مبنی رواج اِس کا اٹوٹ حصہ نہیں ہوسکتے اور نہ اُن کو تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ یہ پورا اندیشہ کہ ہم یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے والے ہیں یا ہمارا کوئی پوشیدہ ایجنڈہ ہے، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے قطعی مربوط نہیں کیا جانا چاہئے۔ لاء کمیشن اِس کا جائزہ لے رہا ہے اور وسیع طور پر تمام دلچسپی رکھنے والوں سے مشاورت کا امکان ہے۔ روی شنکر پرساد پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کرنے والے لاء کمیشن کے روبرو اپنی رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ روی شنکر پرساد نے ’’اچھوت‘‘ کے رواج کا حوالہ دیا اور کہاکہ مذہبی عوامل کو دستوری اقدار کے مطابق بنانا چاہئے۔ اُنھوں نے صنفی انصاف، صنفی مساوات اور صنفی وقار پر زور دیا اور کہاکہ یہ نریندر مودی حکومت کی بنیادی اور اولین ترجیحات ہیں۔

اُنھوں نے کہاکہ ہم آزادیٔ مذہب و آزادیٔ عقیدہ کا احترام کرتے ہیں۔ جن کو بنیادی حقوق کے طور پر تحفظ فراہم کیا گیا ہے لیکن ہر ناجائز یا تعصب پر مبنی عمل کو عقیدہ کا جزو لازم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت نے 7 اکٹوبر کو سپریم کورٹ میں مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اُسے مذہب کا جزو لازم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر سوالات کا جواب دیتے ہوئے بی جے پی کے سینئر قائد نے کہاکہ چند خواتین اپنے حقوق نہیں چھوڑ سکتے اور کسی مخصوص مذہب سے اُن کا تعلق ہونے کی وجہ سے اُنھیں اُن کے حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہاکہ صنفی مساوات ہمارا دستوری حق ہے۔ جس دن دستور وجود میں آیا تھا اُسی دن سے یہ بنیادی حق قرار دیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر قانون نے کہاکہ خواتین کی ترقی و بااختیاری حکومت کی ترجیحات میں سے ایک ہے۔

اُنھوں نے کہاکہ روٹی بچاؤ بیٹی بچاؤ پروگرام ایک بڑی تحریک بن چکا ہے اور مودی حکومت کی تحریک جنین کو ختم کرنے کے خلاف ہے۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صنفی مساوات کے مسئلہ پر سنجیدہ ہے۔ وزیر قانون نے کہاکہ بعض لوگ طلاق ثلاثہ کے عمل کو شریعت کی خلاف ورزی یا مسلم پرسنل لاء کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں، ان کے اندیشے اِس مسئلہ پر ہمارے حلفنامے میں شامل ہیں۔ مسلم ممالک کی کثیر تعداد میں طلاق ثلاثہ کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ثالثی اور مشاورت کو پہلا اقدام قرار دیا گیا ہے۔ کئی ممالک میں قانون کے ذریعہ طلاق ثلاثہ برخاست کردی گئی ہے۔ ایران، مراقش، مصر، تیونس، انڈونیشیاء، افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان ایسے ہی ممالک ہیں۔ اب میں راست سوال کرنا چاہتا ہوں اگر اِسے اسلامی یا غالب مسلم آبادی والے ممالک میں طلاق ثلاثہ پر پابندی عائد کی جاتی ہے اور اسے شریعت یا پرسنل لاء کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جاتا تو یہی دلیل ہندوستان جیسے سیکولر ملک کے لئے کیوں کارآمد نہیں ہوسکتی۔

TOPPOPULARRECENT