Friday , July 28 2017
Home / ہندوستان / ’طلاق ثلاثہ کے دستوری جواز کا فیصلہ سپریم کورٹ پر منحصر ‘

’طلاق ثلاثہ کے دستوری جواز کا فیصلہ سپریم کورٹ پر منحصر ‘

نئی دہلی ۔ 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے آج کہا کہ پارلیمنٹ کو ’’طلاق ثلاثہ‘‘ کیخلاف کوئی قانون وضع کرنے کے تمام تر اختیارات حاصل ہیں لیکن اب یہ کرنا سپریم کورٹ پر منحصر ہیکہ اس عمل (طلاق ثلاثہ) کے دستوری جواز پر وہ (عدالت عظمیٰ) کوئی فیصلہ کرے۔ مکل روہتگی نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے حلفنامہ کو محض ’’اشک شوئی‘‘ قرار دیا جس میں کہا گیا ہیکہ طلاق ثلاثہ کا طریقہ کار استعمال کرنے والوں کو سماجی بائیکاٹ کا سامنا کرنا ہوگا اور کہا کہ چھوت چھات اور ستی جیسی غیردستوری رسومات سے نجات پانے کیلئے ماضی میں بھی پارلیمنٹ اپنی طرف سے قوانین وضع کرچکا ہے۔ روہتگی نے پی ٹی ئی سے کہا کہ ’’پارلیمنٹ کو قانون وضع کرنے کا اختیار ہے اور ماضی میں وہ ایسا کرچکا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ عدالت کو مداخلت سے روکتا ہے یا پھر اس عمل کو ناجائز قرار دیتا ہے۔ چنانچہ اب اس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی صوابدید پر منحصر ہے‘‘۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ’’آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا تازہ ترین حلفنامہ دراصل اس مسئلہ سے عدالت کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ مکل روہتگی کے اس بیان کو نمایاں اہمیت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر چھ دن تک مکمل سماعت کے بعد سپریم کورٹ اپنا فیصلہ محفوظ کرچکا ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے حلفنامے میں یہ بھی کہا تھا کہ قاضیوں کے نام مشاورتی نوٹ بھی جاری کیا  جارہا ہے جو عقد نکاح کے موقع پر دلہوں سے کوئی نصیحت کرینگے کہ ازدواجی زندگی میں تلخیوں کی صورت میں بھی وہ طلاق ثلاثہ کا استعمال نہ کریں۔

TOPPOPULARRECENT