Thursday , September 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / طلاق ثلاثہ ۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے تناظرمیں

طلاق ثلاثہ ۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کے تناظرمیں

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے ماہ مئی میں گرمائی تعطیلات کے دوران طلاق ثلاثہ پر چھ روزہ طویل سماعت کےبعد ۱۸؍مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ کردیا تھا ،سہ شنبہ ۲۲؍اگست ۲۰۱۷ء؁کو سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر دستوری ،غیر قانونی قابل تنسیخ اورقرآن مقدس کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم ہونے کا فیصلہ صادرکیا ہے۔پانچ رکنی پنچ میں چیف جسٹس جے ایس کیہر،جسٹس کورین جوزف ،جسٹس آرایف نریمان ،جسٹس یو یو للت ،جسٹس ایس عبدالنظیرشامل ہیں۔مختلف مذہبی وابستگی رکھنے والا پانچ رکنی بنچ سکھ عیسائی پارسی ہندواورمسلم ججس پر مشتمل تھااس نےسات درخواستوں کی سماعت کی جس میں مسلم خواتین کی دائر کردہ پانچ علیحدہ درخواستیں تھیں ۔ ان میں طلاق ثلاثہ کے مسلمانوں میں پائے جانے والے رواج کو چیلنج کیا گیا تھا، اس پانچ رکنی بنچ میں چیف جسٹس جے ایس کیہر اورجسٹس نظیرنے اختلاف رائے کیا اورکہا ’’کہ تین طلاق برسوں قدیم طریقہ اورمسلم مذہب کا داخلی حصہ ہے اورعدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی ‘‘۔ جسٹس کورین جوزف نے کہا ’’طلاق ثلاثہ قرآن مجید کی تعلیمات کے خلاف ہے ‘‘اور کہا کہ ’’تین طلاق نظریاتی اعتبارسے اورقانونی حیثیت سے غلط ہے،تین طلاق کو دستوری تحفظ حاصل نہیں ہے‘‘۔کورین جوزف سمیت تین ججوں نے اس کو غیر دستوری قراردیا ہے ،عدالت نے چھ ماہ کی مدت کے لئے حکم التوا ءجاری کیا ہے کہ اس دوران کوئی بیک وقت تین طلاق دیتا ہے تو وہ اس فیصلہ کی روسے نا قابل عمل قرارپائیں گی، مزید کہا چھ ماہ کی مدت دراصل حکومت کو قانون سازی کےلئے فراہم کی گئی ہے ،بی جے پی حکومت نے تو اسلامی قانون میں رائج طلاق کے تمام طریقوں جیسے طلاق احسن ،طلاق حسن اورطلاق بدعت کو چیلنج کیا ہےاوردرخواست دی ہے کہ طلاق کی یہ ساری صورتیں ختم کردی جائیں،لیکن عدالت نے واضح کیا کہ پرسنل لا کو چیلنج نہیں کیا جاسکتاکیونکہ یہ بنیادی حق ہے،جبکہ حکومت نے بیک وقت تین طلاق کے بارے میں نئے قانو ن کی ضرورت کو مسترد کر دیا ہے اورعدالت کے فیصلہ کو ہی کافی مان رہاہے۔اس پس منظر میں غورطلب امر یہ ہے کہ اورمذاہب کے ماننے والوں کی طرح مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزاریں، دستورکے دئیے گئے اس حق کو سلب کرلینے کا کسی کو حق نہیں۔پہلے ہی سے مسلمانوں پر مسلم پرسنل لادستوری حیثیت سے نافذہے اس پر مسلمانوں کونہ صرف کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ دل وجان سے اس پر راضی ہیں ۔بیس یا پچیس کڑوڑسے زائد مسلمانوں میں سے پانچ دس پچیس یا اس سے کچھ زائد لاعلم افراد اسلامی عائلی نظام کو چیالنج کرتے ہیں تو یہ بات قابل لحاظ نہیں اس پر حکومت اورقانون کے ادارے انسانیت کی دہائی دیتے ہوئے اپنی ساری توانائی اس پر صرف کرتے ہیں تو اسکی غیر معقول ہونے میں کوئی کلام نہیں ہوسکتا۔ہندوستانی شہریوں کے بیسیوں بنیادی مسائل ہیں جن پر حکومت کی پوری مشنری کو متوجہ ہوجانا چاہیئے کیونکہ روزگار،تعلیم اورصحت وغیرہ وہ بنیادی مسائل ہیں جس کا ہر شہری محتاج ہے ،ملک میں تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی کثرت ہے ،غیر تعلیم یافتہ بے روزگاروں کی بھی ایک لامتناہی تعداد ہے۔ملک کی اکثریت سطح غربت سے نیچے زندگی گزاررہی ہے،ان کی روٹی روزی کا مسئلہ لا ینحل ہے،تعلیم کے میدان میں حکومت کا کوئی نمایاں رول نہیں ہے، حکومت کی طرف سے تعلیمی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ غریب اوربعض متوسط طبقات تعلیم میں بچھڑے پن کا شکار ہیں۔صحت کا جہاں تک سوال ہے وہ بھی اکثرشہریوں کی دسترس سے باہرہے،کیونکہ حکومت کی سرپرستی میں ایسا کوئی دواخانوں کا قابل توصیف کارنامہ نہیں ہے کہ جسکی وجہ حکومت کی سراہنا کی جاسکے،ابھی یوپی کے علاقہ گورکھپورکے سرکاری دواخانہ میں آکسیجن وادویات کی ضرورت کے مطابق فراہمی نہ ہونے کی وجہ لا تعدادمعصوم بچے موت کی آغوش میں پہنچ گئے ،یہ معصوم کلیاں کھل کر پھول بننے سے پہلے ہی مرجھا گئی ہیں

اس پررعایہ نے واویلا مچایا لیکن حکومت کے طرزعمل نے اس کوغیر اہم اوربے حیثیت ثابت کیا ہے ۔اس وقت پورے ملک میں کارپوریٹ دواخانوں کا جال بچھا ہواہے ، مالدار شہریوں کے لئے تو وہاں علاج ومعالجہ کی وی ۔آئی۔ پی سہولتیں مہیا ہیں۔غریب ومتوسط طبقات ان دواخانوں میں پہنچنے کا تصوربھی نہیں کرسکتے،یہ دواخانے خدمت سے زیادہ لوٹ کھسوٹ کی تجارت کے نقطہ نظرسے قائم کئے گئے ہیں،حکومت نہ تو ان دواخانوں کے غیر انسانی چلن پر کوئی روک لگاتی ہے اورنہ اعلی طرزکے عصری سہولتوں سے لیس دواخانے قائم کرتی ہے کہ جس سے غریب غرباء فائدہ اٹھا سکیں،اکثر دیہاتوں میں ایمبولینس وغیرہ کی سہولتیں مہیا نہ ہونے کی وجہ مردہ نعشوں کو غریبوں نے اپنے کاندھوں پر ڈھوکر طویل مسافت طے کی ہے۔ذرائع ابلاغ سے اکثرایسی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں جو ایک دردمند انسان کو دکھی کردیتی ہیں،لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انتخابات کے موقع پر تو ان بنیادی مسائل کے حل کے سلسلہ میں سبز باغ دکھائے جاتے ہیں ،جب حکومت بن جاتی ہے تو عہدےاوردولت ان کے حصہ میں آجاتی ہے لیکن غریب منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں ۔ وعدوں اورخوش فہمیوں میں جینا رعایہ کا مقدربن چکاہے،ان اہم بنیادی مسائل کی طرف نہ حکومت متوجہ ہے نہ ملک کی عدالتیں حکومت کو اس طرف متوجہ کرتی ہیںلیکن مسلمانوں کے عائلی مسائل سے پتہ نہیں ان کو کیوں کدہے؟مسلم خواتین سےبڑی ہمدردی ہے جبکہ مسلم خواتین کی اکثریت جس کو ننانوےفیصدسے زیادہ مزید ایک فیصد میں بھی ننانوے فیصد اسلام کو دل وجان سے پسند کرتی ہے اوراسلامی آئین کو اپنے لئے رحمت مانتی ہے ۔ناقابل لحاظ خواتین کی تعدادجو ہوسکتاہے نا دان اورجاہل شوہروں سے دکھ اٹھا رہی ہو ،یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے بعض خواتین جہاں مظلوم ہوں ان میں سے بعض کے شوہر بھی مظلومیت کا شکار ہوں چونکہ ہر کیس میں عورت ہی مظلوم ہوناضروری نہیں۔پھربھی ان کی ہمدردی کو ایسا بنیادی کاز تسلیم کرلیا گیا ہے کہ اسکے مقابل اربوں کھربوں شہریوں کے دکھ درد کا نہ تو کوئی احساس ہے نہ ان کے دکھوں کا مداواکرنےکی کوئی سنجیدہ منصوبہ بند کو شش حکومت کے پیش نظر ہے،ان حالات میں حکومت اورعدلیہ کی طلاق ثلاثہ اوردیگرمسلمانوں کے عائلی مسائل سے دلچسپی محل نظر ہےجبکہ اسلام نے ان کو بھی بے یارومددگار نہیں چھوڑا، ایسی مظلوم خواتین عدالتوں کا رخ کرنے کے بجائے کتاب وسنت کی روشنی میں اپنے مسئلہ کے حل کے لئے ماہرین قانون اسلامی سے رجوع کریں تو ان کی صحیح رہبری ورہنمائی ہوسکتی اوران کے دکھ کا مداوا بھی ہوسکتاہے۔چونکہ اسلام کا قانون اپنے اندر بڑی جامعیت رکھتا ہے کیونکہ وہ انسانو ں کا بنایا ہوانہیں بلکہ انسانوں کے پیداکرنے والے اورانسانوں کے آرام اورراحت کےلئے کائنات کا عظیم وخوبصورت نظام بنانے والے خالق ومالک کا بنا یا ہوا ہے ،وہ افراد جودین اسلام کے مبنی برمصلحت اورپر ازحکمت احکامات سے نا واقف ہیں یا واقف ہونے کے باوجودتعصب کی عینک لگائے ہوئے ہیں وہ ہمیشہ ظلمت وتاریکی میں بھٹکتے رہیں گے ان سے نہ تو کوئی گلہ ہے نہ شکوہ ۔سپریم کورٹ کے حالیہ پانچ رکنی دستوری بنچ کے اکثریتی فیصلہ سے مسلمانوں کے عائلی مسائل میں مداخلت کا دروازہ کھل گیا ہے،شاید یہ قدم یہاں رکنے والا نہیں ہے ہوسکتاہے اورمسائل بھی آئندہ زیر بحث لائے جائیں جسکا واضح اشارہ بی جے پی حکومت کی طرف سے عدالت میں دئیے گئے بیان سے مل رہا ہے جو ان کی نیت کے کھوٹ کی نشاندہی کررہا ہے۔چونکہ حکومت نے طلاق ثلاثہ سے آگے بڑھ کر اسلامی احکام کے روسے رائج طلاق کی ساری صورتوں کو کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان حالات میں غیر اسلامی ممالک میں نفاذ شریعت کا مسئلہ بڑا اہم بن جاتاہے ،مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اپنی ذات پرشریعت کو نافذ رکھیں، اپنی بیوی ،اولاد اورآگے بڑھ کر خاندان کے تمام افراد کوشریعت کے احکام کا پابند بنائے رکھنے کی مؤثرتدابیراختیارکریں۔ کوشش اس بات کی ہونی چاہیئے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اسلامی احکامات سے بے نورنہ رہنے پائے،خاص طورپر عائلی مسائل میں کوئی اختلاف رونما ہو تو حکومت وقانون کے اداروںکا دروازہ کھٹکھٹانےکے بجائے کتاب وسنت کے مطابق اپنے نزاع کے حل کے لئے علماء سے رجوع کریں۔ارشاد باری ہے ’’ان الحکم الا للّٰہ‘‘ اوراس ارشاد باری کو بھی سامنے رکھیں ’’پھر ہم نے آپ کو دین کے ایک خاص طریقہ (شریعت )پر کردیا ہےآپ اسی کی اتباع وپیروی کیجئے اوران کی خواہش کی پیروی نہ کیجئے جو علم نہیں رکھتے(الجاثیہ:۱۸)اللہ سبحانہ کی عطا کردہ جامع شریعت ساری انسانیت کےلئے رہبر ورہنما ہے ،شریعت عطاکرنے والی ذات علیم وخبیرہےاس جامع شریعت پر انگلی اٹھانے والے توحیدوشریعت کے نورسے محروم جہل کے عمیق غاروں میں گرے ہوئے حق پرستی کے بجائے نفس پرستی کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں،اس لئے ان نازک حالات میں اسلام مسلمانوں کو روشنی دکھا رہاہے کہ علیم وخبیر ذات کے واضح ہدایات ہی سے قلب وقالب کو روشن رکھا جائے،یہی وہ شاہراہ ہدایت ہے جس پر چل کر دنیا وآخرت کی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT