Tuesday , September 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / طلاق درعالم مدہوشی

طلاق درعالم مدہوشی

سوال :  کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر بحالت غصہ وغیض اپنی طبیعت و مزاج کو پہچان نہ سکا ناقابل برداشت حالت غیض میں کیفیت جنون طاری رہی ۔ حاضرین کا بیان ہے کہ بکر نے اسی حالت میں اپنی زوجہ کو تین مرتبہ طلاق بائن دیا لیکن موصوف کا کہنا ہے کہ اس وقت کیا ہوا اسکا اسکو کوئی علم نہیں ۔ نیز تین طلاق تو درکنار ایک مرتبہ بھی اس نے طلاق نہیں دی ہے ۔ لوگوں کے کہنے پر اس کو طلاق کی بات معلوم ہوئی ہے ۔ اس واقعہ کے وقت زوجہ موجود نہیں تھی اور اس کو کسی واقعہ کی اطلاع نہیں ہے  ۔
ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے  ؟
جواب  :  بشرط صحت سوال و صدق بیان مستفتی اگر شدت غضب کی کیفیت ودیوانگی کی حد کو پہنچ گئی تھی نیز تمیز وعقل غائب ہوچکی تھی  (اور اس کیفیت کا اقرار حاضرین کو بھی ہو ) اور اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کیا الفاظ ادا کئے تو ایسی صورت میں شرعا بکر کا قول معتبر نہ ہوگا اس لئے اس کا طلاق دینا بھی معتبر نہ ہوگا ۔ ردالمحتار جلد دوم ص ۶۶۰ میں ہے: وکذا یقال فیمن اختل عقلہ لکبر او مرض او لمصیبۃ فاجأ تہ فما دام فی حال غلبۃ الخلل فی الأقوال والأفعال لا تعتبر اقوالہ۔  اور فتاوی عالمگیری جلد اول ص ۳۵۳ میں ہے:  ولا یقع طلاق الصبی وان کان یعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمی وللغمی علیہ والمد ہوش ھکذا فی فتح القد یر۔
اور اگر بکر ایسی کیفیت طاری نہ تھی تو بیوی پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی اور دونوں میں زوجیت کا تعلق بالکل منقطع ہوگیا اب دونوں بغیر حلالہ جدید نکاح بھی نہیں کرسکتے ۔
ولایتِ مال
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر کا انتقال ہوا اور ورثاء میں دو بیویاں ، تین نابالغ لڑکے اور آٹھ نابالغہ لڑکیوں کے علاوہ مرحوم کے والدین موجود ہیں۔
ایسی صورت میں ان بالغ لڑکے اور لڑکیوں کے مال کی ولایت شرعاً کس کو حاصل ہے ؟
جواب  :  صورت مسئول عنہا میں بکر نے اگر اپنی نابالغ اولاد کے مال کا کسی کو وصی نہیں بنایا تھا تو اِن نابالغ لڑکوں اور لڑکیوں کے مال کی ولایت شرعاً دادا ( یعنی بکر کے والد صاحب ) کو حاصل ہے ۔ درالمختار برحاشیہ رد المحتار جلد پنجم ص ۱۱۴ کتاب الماذون میں ہے:  (و ولیہ أبوہ ثم وصیہ ) بعد موتہ ثم وصی  وصیہ کما فی القہستانی من العمادیۃ (ثم) بعدھم (جدہ) الصحیح وان علا ۔
سود کا لینا ، دینا
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ ایک شخص کا کہنا ہے کہ ضروریات زندگی کے لئے سود سے رقم لینا کوئی حرج نہیں۔ کیا سود دینے اور لینے والے برابر کے شریک ہیں ؟ اس اہم سوال کا جواب شائع فرمائیے  ؟
جواب :  بشرط صحت سوال سود نص قطعی سے حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: احل اﷲ البیع و حرم الربٰو (سورۃالبقرۃ) سود لینے والا دینے والا دونوں گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں۔لہذا  اس شخص کاقول درست نہیں ۔
فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT