Tuesday , July 25 2017
Home / شہر کی خبریں / طلاق سے قبل علماء کرام اور شرعی بورڈ سے مسئلہ کو رجوع کریں

طلاق سے قبل علماء کرام اور شرعی بورڈ سے مسئلہ کو رجوع کریں

یوپی کے چیف منسٹر کی خواتین سے بات چیت غلط، محمد مشتاق ملک کا ردعمل

حیدرآباد 7 مئی (راست) مسلمانان ہند تین طلاق کو ناپسند کرتے ہیں۔ طلاق جائز ہے مگر اللہ اور رسول ﷺ کے پاس انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے۔ مگر تین طلاق سے طلاق پڑجاتی ہے، عورت مطلقہ ہوجاتی ہے، رشتہ باقی نہیں رہتا۔ یوگی ادتیہ ناتھ چیف منسٹر یوپی تین طلاق کے تعلق سے سرکاری اجلاس اپنے منسٹرس کے ذریعہ کروارہے ہیں اور مسلم خواتین سے دریافت کررہے ہیں۔ جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان نے اپنے ردعمل میں یوگی کی اس حرکت پر اعتراض کیا ہے۔ مسلمانان ہند مرد و خواتین بھی طلاق تین طلاق کو اچھا نہیں سمجھتے۔ ہندو جارح فرقہ پرستی اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے ملک کے معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی منصوبہ بند سازشیں کررہے ہیں۔ اسلام نے عورت کو علیحدگی کے لئے بھی حق خلع دیا ہے۔ عورت اپنے شوہر سے علیحدہ ہونے کا مطالبہ کرتی ہے جو کسی اور دوسرے مذہب میں عورت کو یہ حق نہیں دیا گیا۔ اس نے عورت کی حرمت ، عزت اور توقیر کا بڑا خیال رکھا ہے۔ مطلقہ عورت کو عدت کے بعد دوسری شادی کا اختیار دیا ہے۔ طلاق ایک مجبوری کا عمل ہے جہاں عورت اور مرد کے درمیان تال میل، خیالات کی یکسانیت، جب ممکن نہیں تو ایسی شکل میں ہی طلاق دی جاتی ہے۔ جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان و کنوینر شرعی فیصلہ بورڈ نے واضح کیاکہ آر ایس ایس، بی جے پی یہ چاہتی ہے کہ طلاق شدہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارے جو ناممکن ہے۔ تین طلاق دینے پر طلاق واقع ہوجائے گی مگر حکومت اس کو طلاق ماننے تیار نہیں ہے اور سپریم کورٹ میں مقدمہ زیردوران ہے۔ حکومت نے جو حلف نامہ سپریم کورٹ میں داخل کیا حق طلاق ہی کو غلط قرار دیا جو ہندو مذہب کے قانون کی عکاسی ہے۔ الحمدللہ شریعت نے عورت اور مرد کی زندگی کی خوشحالی کا تحفظ طلاق ، خلع کے ذریعہ کیا ہے۔ صدر تحریک مسلم شبان نے عامۃ المسلمین سے اپیل کی کہ وہ طلاق سے پہلے علماء، خاندان، بزرگ حضرات شرعی فیصلہ بورڈ، دارالقضاء جیسے اداروں سے رجوع ہوکر آپسی گفتگو سے مسئلہ کا حل ڈھونڈیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT